حدیث نمبر: 9531
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مِرْدَاسٍ، قَالَ: جَاءَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ، فَقَالَ: إِنِّي مَرَرْتُ بِامْرَأَتِي فِي الْقَمَرِ فَأَعْجَبَتْنِي فَجَامَعْتُهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَنِمْتُ حَتَّى أَصْبَحْتُ، فَقُلْتُ: عَلَيْكَ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَوْ بِأَبِي حَكِيمٍ الْمُزَنِيِّ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ: «كُنْتَ جُنُبًا لَا يَحِلُّ لَكَ الصَّلَاةُ، فَاغْتَسَلْتَ فَحَلَّتْ لَكَ الصَّلَاةُ، وَحَلَّ لَكَ الصِّيَامُ فَصُمْ»
ترجمہ

…میں نے کہا: تم عبداللہ بن مسعود یا ابوحکیم مزنی کے پاس جاؤ۔ تو (وہاں) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے ان سے پوچھا اور کہا: میں جنبی تھا (کیا میں روزہ رکھوں)؟ انہوں نے فرمایا: ”تم جنبی تھے تو تمہارے لیے نماز حلال نہ تھی، پھر تم نے غسل کیا تو نماز تمہارے لیے حلال ہو گئی، اور روزہ بھی تمہارے لیے حلال ہو گیا، تو روزہ رکھو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9531
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 312، حدیث 9565