حدیث نمبر: 9548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَإِنَّ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: مَنْ يُقِمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، قَالَ: «يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ لِيَعْلَمُ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَلَكِنْ عَمَّى عَلَى النَّاسِ حَتَّى لَا يَتَّكِلُوا، وَاللهِ إِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ» ، فَقُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِالْآيَةِ الَّتِي أَنْبَأَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا أَنَّهَا لَهِيَ» قَالَ عَاصِمٌ: قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا تِلْكَ الْآيَةُ؟ قَالَ: «طُلُوعُ الشَّمْسِ بَيْضَاءَ كَالطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ» ، قَالَ: فَرَمَقْتُهَا مِرَارًا كَذَلِكَ
ترجمہ

زر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو سارا سال قیام کرے وہ اسے پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ جانتے ہیں کہ یہ رمضان میں ہے، لیکن انہوں نے لوگوں پر یہ بات مبہم رکھی تاکہ وہ (اس پر) بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ اللہ کی قسم! یہ ستائیسویں رات ہے۔“ میں نے کہا: اے ابوالمنذر! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نشانی سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی، تو ہم نے شمار کیا اور یاد رکھا کہ یہی وہ (رات) ہے۔“ عاصم کہتے ہیں: میں نے زر سے پوچھا: وہ نشانی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”سورج کا سفید طلوع ہونا، تھال کی طرح، بغیر تیز روشنی کے، یہاں تک کہ بلند ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اسے کئی بار اسی طرح دیکھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9548
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 316، حدیث 9582