المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 9556
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ هَمَّامٍ، عَنْ مِينَاءَ، أَنَّهُمْ جَاءُوا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ، فَقَالُوا: أَعْطِنَا أَعْطِيَاتِنَا، فَقَالَ: «مَا لَكُمْ عِنْدِي عَطَاءٌ إِنَّمَا عَطَاؤُكُمْ مِنْ فَيْئِكُمْ، وَجِزْيَتِكُمْ، وَالصَّدَقَةُ لِأَهْلِهَا» ، فَلَمَّا تَرَدَّدُوا إِلَيْهِ جَاءَ بِالْمَفَاتِيحِ إِلَى عُثْمَانَ فَرَمَى بِهَا، وَقَالَ: «إِنِّي لَسْتُ بِخَازِنٍ»ترجمہ
میناء بیان کرتے ہیں: لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں آئے اور کہا: ہمیں ہمارے وظیفے دیں۔ انہوں نے فرمایا: ”میرے پاس تمہارے لیے کوئی (اضافی) عطیہ نہیں، تمہارا وظیفہ تو تمہارے مالِ فَے اور جزیے سے ہے، اور صدقہ اس کے حقداروں کے لیے ہے۔“ جب وہ بار بار ان کے پاس آتے رہے تو وہ (بیت المال کی) چابیاں لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں (ان کے سامنے) پھینک دیا اور فرمایا: ”میں خزانچی نہیں ہوں۔“