حدیث نمبر: 9530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، أنا عُتْبَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: صَامَ نَاسٌ مِنَ الْحَيِّ وَنَاسٌ مِنْ جِيرَانِنَا الْيَوْمَ، قَالَ: «عَنْ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «لَأَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَقْضِيَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ»
ترجمہ

…(راوی کے والد) بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: محلے کے کچھ لوگوں اور ہمارے کچھ پڑوسیوں نے آج روزہ رکھا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”کیا چاند دیکھ کر؟“ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”میرے لیے رمضان کا ایک دن (بلا شبہ روزہ نہ رکھ کر) بعد میں اس کی قضا کرنا اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں شعبان کا ایک دن (شک کے ساتھ) روزہ رکھوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9530
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 312، حدیث 9564