المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 9549
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: لَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ - وَكَانَ امْرَأً فِيهِ شَرَاسَةٌ - فَقُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ اخْفِضْ لِي جَنَاحَكَ رَحِمَكَ اللهُ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: «إِنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ» قُلْتُ: وَأَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا، فَوَاللهِ إِنَّهَا لَهِيَ لَا يَسْتَثْنِي»ترجمہ
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا - اور وہ ذرا تندخو آدمی تھے - تو میں نے کہا: اے ابوالمنذر! اللہ آپ پر رحم کرے، میرے ساتھ نرمی کریں۔ اور میں نے ان سے شب قدر کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ رمضان میں ہے، اور یہ ستائیسویں رات ہے۔“ میں نے کہا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نشانی سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی، ہم نے شمار کیا اور یاد رکھا، اللہ کی قسم یہی وہ (رات) ہے“ - وہ بغیر 'ان شاء اللہ' کہے قسم کھا رہے تھے۔