عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ فِتْنَةً ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا أُدْرِكُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ عُمَرَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُدْرِكُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . فَقَالَ عُثْمَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أُدْرِكُهَا ؟ قَالَ : " بِكَ يُبْتَلَوْنَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَاعِزٌ التَّمِيمِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا میں اس کا زمانہ پاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا میں اس کو پاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اس کو پاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے حوالے سے وہ لوگ آزمائش میں مبتلا ہوں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ماعز تمیمی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3264)»
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ سَتُبْتَلَى بَعْدِي فَلَا تُقَاتِلَنَّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ عَنْ شَيْخِهِ غَيْرَ مَنْسُوبٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا ، تو تم قتال ہرگز نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں ، اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ، جن کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور میں اُن سے واقف بھی نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11990
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ ، وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : مَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي . ¤ وَقَالَ : إسْمَاعِيلُ مَرَّةً [ فِي الْأُولَى " نَكْتُبَكَ يَا ابْنَ أَبِي حَوَالَةَ " قُلْتُ : لَا أَدْرِي فِيمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ] ، فَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : مَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ . ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " يَا ابْنَ حَوَالَةَ ، كَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ . قَالَ : " فَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُخْرَى فِيهَا انْتِفَاجَةُ أَرْنَبٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ . قَالَ : " اتَّبِعُوا هَذَا " وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ . فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ ، فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ ، فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : هَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ،
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ” دومہ “ ( نامی درخت ) کے سائے میں تشریف فرما تھے اور آپ کے پاس ایک تحریر کرنے والا شخص موجود تھا ، جسے آپ املاء کروا رہے تھے ، آپ نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کچھ تحریر نہ کروا دوں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں ( وہی ٹھیک ہو گا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ موڑ لیا ، یہاں پر اسماعیل نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن حوالہ ! کیا ہم تمہیں ( یعنی تمہارے لئے ) کچھ لکھوائیں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم یا رسول اللہ ! کہ کیا ہونا چاہیے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاتب کی طرف متوجہ ہو کر اسے املاء کروانے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا ہم تمہارے لئے نہ لکھوائیں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول میرے لئے اختیار کریں ( وہی مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاتب کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے املاء کرواتے رہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے جائزہ لیا ، تو اس تحریر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی تھا ، تو اس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر تو بھلائی کے حوالے سے ہی ہو سکتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن حوالہ ! کیا ہم تمہارے لئے تحریر نہ کروا دیں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابن حوالہ ! فتنوں کے زمانے میں تم کیا کرو گے ؟ جب وہ فتنے زمین کے اطراف سے یوں نکلیں گے ، جس طرح گائے کے سینگ ہوتے ہیں ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر اس وقت تم کیا کرو گے ؟ جب پہلے فتنے کے بعد دوسرا فتنہ آئے گا اور اس کے مقابلے میں پہلے والا فتنہ جیسے خرگوش اچھلتا ہے ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، جو اللہ اور اس کا رسول میرے لئے اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُس کی پیروی کرنا ! ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اُس وقت وہاں سے ایک صاحب چہرہ ڈھانپ کے گزر رہے تھے ، میں گیا ، میں دوڑتا ہوا گیا ، میں نے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ان کا رخ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر کے دریافت کیا : ان کے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11991
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (109/4)»
وَفِي رِوَايَةٍ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِهِ ، فَنَزَلَ النَّاسُ مَنْزِلًا ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ ، فَرَآنِي مُقْبِلًا مِنْ حَاجَةٍ لِي وَلَيْسَ غَيْرُهُ وَغَيْرُ كَاتِبِهِ . وَقَالَ فِيهِ : فَإِذَا فِي صَدْرِ الْكِتَابِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . وَقَالَ فِيهِ : أَصْنَعُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ " ، وَقَالَ فِيهِ : فَلَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ ، وَلَئِنْ عَلِمْتُ كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے ، لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دومہ ( نامی درخت ) کے سائے میں پڑاؤ کیا ، آپ نے مجھے آتے ہوئے ملاحظہ فرمایا ، میں اپنے کام کے سلسلے میں جا رہا تھا ، اُس وقت وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور آپ کے کاتب کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ تحریر کے آغاز میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نام تھا ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر شام جانا لازم ہے ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے : مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے دوسرے والے کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا کہ اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ نے دوسرے والے کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا ، تو یہ میرے نزدیک اس اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ : لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ ، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ : مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : أَبْلِغْهُ عَنِّي أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ - قَالَ عَاصِمٌ : يَوْمَ أُحُدٍ - وَلَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ ، وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ . قَالَ : فَانْطَلَقَ ، فَخَبَّرَ بِذَلِكَ عُثْمَانَ . قَالَ : فَقَالَ : أَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ ، فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ . وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَتْ ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ فَقَدْ شَهِدَ . وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ ، فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا أَنَا وَلَا هُوَ ، فَائْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِطُولِهِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ولید بن عقبہ سے ہوئی ، تو ولید نے اُن سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے امیرالمؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ زیادتی کی ہے ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم انہیں میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو ! کہ یوم عینین کے دن میں فرار نہیں ہوا تھا ، عاصم نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد غزوہ اُحد کا دن ہے ( انہوں نے یہ بھی فرمایا : ) اور میں غزوہ بدر میں شرکت سے پیچھے نہیں رہا تھا اور میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کو ترک بھی نہیں کیا ہے ، راوی کہتے ہیں : ولید گئے اور انہوں نے اس بارے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بتایا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک اس کے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ میں یوم عینین کو فرار نہیں ہوا تھا ، تو وہ مجھے ایک ایسے گناہ کے حوالے سے کیسے عار دلا سکتا ہے ؟ جس سے اللہ تعالیٰ نے درگزر کیا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بیشک وہ لوگ جو تم میں سے پیٹھ پھیر گئے تھے ، اس دن جب دو لشکر ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ( دراصل ) ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔ “ جہاں تک اُس کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ بدر کے دن پیچھے رہ گیا تھا ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری کر رہا تھا ، یہاں تک کہ اُن کا انتقال ہو گیا تھا ، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے حصہ مقرر کیا تھا اور جس شخص کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ مقرر کیا ہو ، وہ گویا ( اس جنگ میں ) شریک ہوا تھا ۔ جہاں تک اُن کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ، تو اس بات کی طاقت نہ میں رکھتا ہوں اور نہ وہ رکھتے ہیں ، تم اُن کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بات بتا دو !
یہ روایت امام أحمد اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اس کی مانند طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11993
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (132) أخرجه احمد فى المسند (490)»
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : كَانَ لِعُثْمَانَ آذِنٌ ، فَكَانَ يَخْرُجُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : فَخَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى وَالْآذِنُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ الْآذِنُ نَاحِيَةً ، وَلَفَّ رِدَاءَهُ فَوَضَعَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ، وَاضْطَجَعَ ، وَوَضَعَ الدِّرَّةَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَقْبَلَ عَلِيٌّ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ وَبِيَدِهِ عَصًا ، فَلَمَّا رَآهُ الْآذِنُ مِنْ بَعِيدٍ قَالَ : هَذَا عَلِيٌّ قَدْ أَقْبَلَ ، فَجَلَسَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ عَلَيْهِ رِدَاءَهُ ، فَجَاءَ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ : اشْتَرَيْتَ ضَيْعَةَ آلِ فُلَانٍ ، وَلِوَقْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَائِهَا حَقٌّ ، أَمَا إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَا يَشْتَرِيهَا غَيْرُكَ . فَقَامَ عُثْمَانُ ، وَجَرَى بَيْنَهُمَا كَلَامٌ لَا أَرْوِيهِ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَجَاءَ الْعَبَّاسُ فَدَخَلَ بَيْنَهُمَا ، وَرَفَعَ عُثْمَانُ عَلَى عَلِيٍّ الدِّرَّةَ ، وَرَفَعَ عَلِيٌّ عَلَى عُثْمَانَ الْعَصَا ، فَجَعَلَ الْعَبَّاسُ يُسْكِنُهُمَا وَيَقُولُ لِعَلِيٍّ : أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، وَيَقُولُ لِعُثْمَانَ : ابْنُ عَمِّكَ . فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى سَكَتَا . فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ رَأَيْتُهُمَا وَكُلٌّ مِنْهُمَا آخِذٌ بِيَدِ صَاحِبِهِ وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک اطلاع دینے والا مخصوص تھا ، وہ ان کے آ گے آگے نماز کے لئے نکلا کرتا تھا ، ایک دن وہ نماز ادا کرنے کے لئے نکلے ، اطلاع دینے والا شخص ان کے آگے آگے تھا ، پھر وہ تشریف لائے ، تو اطلاع دینے والا شخص ایک کونے میں بیٹھ گیا ، انہوں نے چادر لپیٹی ، اُسے اپنے سر کے نیچے رکھا اور لیٹ گئے ، انہوں نے اپنا درّہ اپنے آگے رکھا ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے تہبند باندھا ہوا تھا ، چادر اوڑھی ہوئی تھی اور ان کے ہاتھ میں عصا تھا ، جب اطلاع دینے والے نے انہیں دور سے دیکھا تو بولا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ رہے ہیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ، انہوں نے اپنی چادر اوڑھ لی ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے سرہانے کھڑے ہو گئے ، انہوں نے کہا: آپ نے آل فلاں کی زمین خریدی ہے ؟ جبکہ وہاں کے پانی میں اللہ کے رسول کے وقف کا حق ہے ، مجھے یہ بات پتہ ہے کہ اُسے آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں خرید سکتا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، ان دونوں کے درمیان ایسی بات چیت ہوئی کہ میں اُسے روایت نہیں کروں گا ، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں ، اسی دوران سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے ان دونوں کے درمیان دخل دیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر درہ اٹھا لیا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عصا اٹھا لیا تھا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان دونوں کو پرسکون کروانے کی کوشش کرتے رہے ، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہہ رہے تھے : یہ امیرالمؤمنین ہیں ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ کہہ رہے تھے : یہ آپ کے چچازاد ہیں ، وہ مسلسل ایسا کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ دونوں حضرات خاموش ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ) اگلے دن میں نے ان دونوں حضرات کو دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور وہ دونوں آپس میں بات چیت کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11994
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي عَوْنٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ عَمَّا بَلَغَنِي عَنْكَ ؟ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ بَعْضَ الْعُذْرِ . فَقَالَ عُثْمَانُ : وَيْحَكَ إِنِّي قَدْ حَفِظْتُ وَسَمِعْتُ وَلَيْسَ كَمَا سَمِعْتَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهُ سَيُقْتَلُ أَمِيرٌ وَيَنْتَزِي مُنْتَزٍ " ، وَإِنِّي أَنَا الْمَقْتُولُ وَلَيْسَ عُمَرُ ، إِنَّمَا قَتَلَ عُمَرَ وَاحِدٌ ، وَإِنَّهُ يُجْتَمَعُ عَلَيَّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعون انصاری بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمہارے بارے میں مجھ تک جو اطلاع پہنچی ہے ، کیا تم اُس کام سے باز آنے والے نہیں ہو ؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُن کے سامنے کوئی عذر پیش کیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیا ناس ہو ! مجھے بھی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ) یاد ہے اور میں نے سنا بھی ہوا ہے اور وہ ویسا نہیں ہے ، جس طرح تم نے سنا ہوا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب ایک امیر کو قتل کر دیا جائے گا اور برائی کی طرف تیزی سے جانے والے ، برائی کی طرف جائیں گے ۔ “ وہ مقتول شخص میں ہوؤں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مراد نہیں ہیں ، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تو ایک ہی شخص نے قتل کیا تھا اور میرے خلاف اجتماع اکٹھا ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (479)»
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ : دَعَا عُثْمَانُ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكُمْ ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي ، نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ ؟ وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ . فَقَالَ [ عُثْمَانُ ]: لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ أَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ . فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ ؟ - يَعْنِي عَمَّارًا - أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِي ، نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ ، فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الدَّهْرَ هَكَذَا ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اصْبِرْ " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سالم بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو بلوایا ، جن میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم سے یہ پوچھنے لگا ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ تم میری تصدیق کرو ، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیگر تمام لوگوں پر قریش کو ترجیح دیتے تھے ؟ اور تمام قریش پر بنو ہاشم کو ترجیح دیتے تھے ؟ لوگ خاموش رہے ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر جنت کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہوتیں ، تو میں وہ بنو امیہ کو دیدیتا ، یہاں تک کہ اُن کا ہر ایک فرد جنت میں داخل ہو جاتا ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بلوایا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس کے حوالے سے حدیث بیان کروں ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مراد ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تھے ، ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، ہم کھلے میدان میں چلتے ہوئے اس کے والد ، اس کی والدہ اور اس کے پاس آئے ، جنہیں تکلیف پہنچائی جا رہی تھی ، عمار کے والد نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم صبر سے کام لو ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! آل یاسر کی مغفرت فرما دے ! اور تو نے ایسا کر دیا ہے ۔ ( یا یہ مطلب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم یہ روایت منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11996
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (439)»
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ : إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تَضَعُوا رِجْلِي فِي الْقَيْدِ فَضَعُوهَا . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ بات پاتے ہو کہ میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی جائیں ، تو تم ایسا کر لو ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ ، فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَةِ الَّتِي تَلِي مَقَامَ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَسَكَتُوا ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا ؟ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّكَ تَكُونُ فِي جَمَاعَةِ قَوْمٍ يَسْمَعُونَ نِدَائِي آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ ثُمَّ لَا تُجِيبُنِي ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ أَتَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا ، لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا طَلْحَةُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا مَعَهُ مَنْ أُمَّتِهِ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ هَذَا - يَعْنِينِي - رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ " ؟ قَالَ طَلْحَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ثُمَّ انْصَرَفَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَفِيهِ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ وَأَسْقَطَ أَبَا عُبَادَةَ مِنَ السَّنَدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، جب جنازگاہ میں ان کا محاصرہ کیا گیا تھا اور وہاں اتنے لوگ تھے کہ اگر کوئی پتھر پھینکا جاتا ، تو وہ کسی نہ کسی شخص کے سر پر جا کے لگتا ، میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے مقام جبرائیل کے ساتھ والی کھڑکی کی طرف سے جھانک کر باہر دیکھا اور فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہیں ؟ لوگوں خاموش رہے ، پھر انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہیں ؟ تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : کیا میں تمہیں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ میری یہ رائے نہیں تھی کہ تم ایسی قوم کی جماعت میں ہو گے جو میری پکار کو سن رہے ہوں گے اور پھر بھی تم نے مجھے جواب نہیں دیا ؟ اے طلحہ ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کیا تمہیں وہ دن یاد ہے ؟ جب میں اور تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں مقام پر موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے اصحاب میں سے میرے اور تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے یہ فرمایا تھا : ” اے طلحہ ! ہر ایک نبی کے ساتھ اُس کے اصحاب میں سے ایک رفیق ہوتا ہے ، جس کا تعلق اُس ( نبی ) کی امت سے ہوتا ہے اور وہ رفیق اُس کے ساتھ جنت میں ہو گا اور عثمان بن عفان جنت میں میرا رفیق ہو گا “ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا ایک حصہ ” منقطع “ سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبادہ زرقی ہے اور وہ متروک ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے سند میں ابوعبادہ کا نام ساقط کر دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11998
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ أَزْهَرَ أَبِي رَوَّاعٍ قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ قَالَ : إِنَّا وَاللَّهِ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا ، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا ، وَيَغْزُو مَعَنَا ، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : فَقَالَ لَهُ أَعْيَنُ ابْنُ امْرَأَةِ الْفَرَزْدَقِ : يَا نَعْثَلُ ، إِنَّكَ قَدْ بَدَّلْتَ . فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : أَعْيَنُ . فَقَالَ : بَلْ أَنْتَ أَيُّهَا الْعَبْدُ . قَالَ : فَوَثَبَ النَّاسُ إِلَى أَعْيَنَ . قَالَ : وَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يَزَعُهُمْ عَنْهُ حَتَّى أَدْخَلَهُ دَارَهُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبَّادِ بْنِ زَاهِرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عبادہ بن ازہر ابورواع بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! ہم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر اور حضر میں ساتھ رہے ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیماروں کی عیادت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جنازوں میں شریک ہوتے تھے ، ہمارے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے تھے ، تھوڑے اور زیادہ ہر معاملے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے ، اور کچھ لوگ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتا رہے ہیں ، حالانکہ انہوں نے تو کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی نہیں کی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” فرزدق کی بیوی کے بیٹے اعین نے : اُن سے کہا: اے نعثل ! تم نے تبدیلی کر دی ہے ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ اعین ہے ، اس نے کہا: بلکہ تم غلام ہو ، راوی کہتے ہیں : تو لوگ اچھل کر اعین کی طرف گئے ، راوی بیان کرتے ہیں : بنو لیث سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لوگوں کو پیچھے کرنا شروع کیا ، یہاں تک کہ اعین کو اُس کے گھر میں داخل کیا ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عباد بن ظاہر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (504)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ : بَلَغَ عُثْمَانَ أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا ، فَتَلَقَّاهُمْ فِي قَرْيَةٍ لَهُ خَارِجَ الْمَدِينَةِ ، وَكَرِهَ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِ - أَوْ كَمَا قَالَ - فَلَمَّا عَلِمُوا بِمَكَانِهِ أَقْبَلُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا : ادْعُ لَنَا بِالْمُصْحَفِ ، فَدَعَا - يَعْنِي بِهِ - فَقَالَ : افْتَحْ ، فَقَرَأَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ : " قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ " ، فَقَالُوا : أَحِمَى اللَّهِ أُذِنَ لَكَ بِهِ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرِي ؟ فَقَالَ : امْضِ ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا ، وَأَمَّا الْحِمَى فَإِنَّ عُمَرَ حَمَى الْحِمَى لِإِبِلِ الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا وُلِّيتُ فَعَلْتُ الَّذِي فَعَلَ ، وَمَا زِدْتُ عَلَى مَا زَادَ ، وَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَالَ : وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ كَذَا وَكَذَا سَنَةً . قَالَ : ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ جَعَلَ يَقُولُ : امْضِهِ ، نَزَلَتْ فِي كَذَا كَذَا . ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ عَرَفَهَا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهَا مَخْرَجٌ ، فَقَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ : مَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : نُرِيدُ أَنْ لَا يَأْخُذَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْعَطَاءَ ، فَإِنَّ هَذَا الْمَالَ لِلَّذِي قَاتَلَ عَلَيْهِ ، وَلِهَذِهِ الشُّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَرَضِيَ وَرَضُوا . قَالَ : وَأَخَذُوا عَلَيْهِ . قَالَ : وَكَتَبُوا عَلَيْهِ كِتَابًا ، وَأَخَذَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَشُقُّوا عَصًا ، وَلَا يُفَارِقُوا جَمَاعَةً . قَالَ : فَرَضِيَ ، وَرَضُوا . قَالَ : فَأَقْبَلُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي مَا رَأَيْتُ وَفْدًا هُمْ خَيْرٌ مِنْ هَذَا الْوَفْدِ ، أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ فَلْيَلْحَقْ بِزَرْعِهِ وَمَنْ كَانَ لَهُ ضَرْعٌ فَلْيَحْتَلِبْهُ ، أَلَا إِنَّهُ لَا مَالَ لَكُمْ عِنْدَنَا ، إِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ وَلِهَذِهِ الشُّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَغَضِبَ النَّاسُ وَقَالُوا : هَذَا مَكْرُ بَنِي أُمَيَّةَ . وَرَجَعَ الْوَفْدُ رَاضِينَ ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ إِذَا رَاكِبٌ يَتَعَرَّضُ لَهُمْ ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ وَيَعُودُ إِلَيْهِمْ وَيَسُبُّهُمْ ، فَأَخَذُوهُ فَقَالُوا : مَا شَأْنُكَ ؟ إِنَّ لَكَ لَشَأْنًا ؟ قَالَ : أَنَا رَسُولُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ ، فَفَتَّشُوهُ فَإِذَا مَعَهُ كِتَابٌ عَلَى لِسَانِ عُثْمَانَ عَلَيْهِ خَاتَمُهُ : أَنْ يَصْلُبَهُمْ ، أَوْ يَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ ، أَوْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، قَالَ : فَرَجَعُوا وَقَالُوا : قَدْ نَقَضَ الْعَهْدَ وَأَحَلَّ اللَّهُ دَمَهُ . فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا : أَلَمْ تَرَ إِلَى عَدُوِّ اللَّهِ كَتَبَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا ؟ قُمْ مَعَنَا إِلَيْهِ . فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَقُومُ مَعَكُمْ . قَالُوا : فَلِمَ كَتَبَ إِلَيْنَا ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا كَتَبَ إِلَيْكُمْ كِتَابًا قَطُّ . فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ : أَلِهَذَا تُقَاتِلُونَ أَمْ لِهَذَا تَغْضَبُونَ ؟ وَخَرَجَ عَلِيٌّ فَنَزَلَ قَرْيَةً خَارِجَ الْمَدِينَةِ ، فَأَتَوْا عُثْمَانَ فَقَالُوا : كَتَبْتَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ أَنْ تُقِيمُوا شَاهِدَيْنِ ، أَوْ يَمِينٌ بِاللَّهِ مَا كَتَبْتُ وَلَا أَمْلَيْتُ وَلَا عَلِمْتُ ، وَقَدْ تَعْلَمُونَ الْكِتَابَ يُكْتَبُ عَلَى لِسَانِ الرَّجُلِ وَقَدْ يُنْقَشُ الْخَاتَمُ عَلَى الْخَاتَمِ . قَالَ : فَحَصَرُوهُ ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَمَا أَسْمَعُ أَحَدًا رَدَّ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَرُدَّ رَجُلٌ فِي نَفْسِهِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ ، أَعَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي أَسْتَعْذِبُ بِهَا ، فَجَعَلْتُ رِشَائِي فِيهَا كَرِشَاءِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ قِيلَ : نَعَمْ . قَالَ : فَعَلَامَ تَمْنَعُونِي أَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ ؟ قَالَ : أَنْشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ ، فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي فَزِدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ أَحَدًا مُنِعَ فِيهِ الصَّلَاةَ قَبْلِي ؟ ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : وَأَرَاهُ ذَكَرَ كِتَابَتَهُ الْمُفَصَّلَ بِيَدِهِ ، قَالَ : فَفَشَا الْخَبَرُ ، وَقِيلَ : مَهْلًا عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسعید ، جو سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ” سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی کہ اہل مصر کا ایک وفد آیا ہے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے باہر ایک بستی میں ان لوگوں سے ملے ، انہیں یہ بات ناپسند تھی کہ لوگ ان کے پاس آئیں ، یا جس طرح بھی انہوں نے بیان کیا ، جب ان لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں پتہ چلا ، تو وہ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: آپ ہمارے لئے مصحف منگوائیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ منگوایا ، انہوں نے کہا: آپ اسے کھولیں ، انہوں نے اسے پڑھنا شروع کیا ، یہاں تک کہ آپ اس مقام پر پہنچے : ” تم فرما دو ! تم لوگ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ کہ جو رزق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نازل کیا ہے اس میں سے کچھ کو تم نے ( اپنی طرف سے ) حرام یا حلال بنا لیا ہے ، تم فرما دو ! کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ( ایسا کرنے کی ) اجازت دی ؟ یا پھر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو ؟ “ ۔ اُن لوگوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کی چراگاہ کے بارے میں آپ کو اجازت دی گئی ہے ؟ یا آپ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : تم جاری رکھو ! یہ فلاں فلاں صورت حال کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جہاں تک چراگاہ کا تعلق ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چراگاہ مقرر کیا ہے ، جو صدقہ کے اونٹوں کے لئے مخصوص ہے ، جب میں نگران بنا تو میں نے بھی وہی کام کیا ، جو انہوں نے کیا تھا ، اور انہوں نے جو کیا تھا ، میں نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا ، راوی کہتے ہیں : ان کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا تھا : میں اس وقت اتنے اتنے سال کا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا ، جن کے بارے میں وہ یہ کہتے رہے : تم اس کو جاری رکھو ! یہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ پھر ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا ، جن سے وہ واقف تھے ، اور ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا ، تو انہوں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، پھر انہوں نے فرمایا : تم لوگ کیا چاہتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ سرکاری عطیات وصول نہ کریں ، کیونکہ یہ مال اس شخص کو ملنا چاہیے ، جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ان بزرگوں کو ملنا چاہیے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس بات پر راضی ہو گئے اور وہ لوگ بھی اس بات پر راضی ہو گئے ، راوی کہتے ہیں : ان لوگوں نے اس پر عہد لے لیا اور اس بارے میں تحریر لے لی اور اس بات پر بھی عہد لیا کہ وہ لوگ عصا کو نہیں توڑیں گے اور جماعت سے الگ نہیں ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس بات پر راضی ہو گئے اور وہ لوگ بھی راضی ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ آئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے ایسا کوئی وفد نہیں دیکھا ، جو اس وفد سے زیادہ بہتر ہو ، جس شخص کی کھیتی باڑی ہو ، وہ اپنی کھیتی باڑی میں مشغول ہو جائے ، جس شخص کے پاس جانور ہوں ، وہ اُن کا دودھ دوہنے لگے ، کیونکہ اب تم لوگوں کو دینے کے لئے ہمارے پاس مال نہیں ہے ، یہ مال اب اُس شخص کو ملے گا ، جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو ، اور یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بزرگوں کو ملے گا ، راوی کہتے ہیں : تو لوگ غصے میں آ گئے اور انہوں نے کہا: یہ بنو امیہ کی طرف سے آنے والا فریب ہے ، وفد کے لوگ راضی ہو کر واپس چلے گئے ، جب وہ لوگ راستے میں کسی مقام پر پہنچے ، تو اسی دوران ایک سوار ان کے سامنے آیا ، پھر وہ سوار ان سے جدا ہو گیا ، پھر وہ ان کے پاس آیا اور انہیں برا کہنے لگا ، ان لوگوں نے اسے پکڑ لیا ، ان لوگوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ تمہارا کوئی خاص معاملہ لگتا ہے ، اس نے کہا: میں امیرالمؤمنین کا قاصد ہوں ، جو مصر میں ان کے گورنر کے پاس جا رہا ہے ، ان لوگوں نے اس کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک تحریر موجود تھی ، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھی اور اُس پر ان کی مہر بھی لگی ہوئی تھی ، کہ ان لوگوں کو مصلوب کر دیا جائے ، یا ان کی گردنیں اڑا دی جائیں ، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ لوگ واپس آ گئے اور انہوں نے کہا: انہوں نے عہد توڑ دیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے خون کو حلال قرار دیا ہے ، وہ لوگ مدینہ منورہ آئے ، وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان لوگوں نے کہا: کیا آپ نے اللہ کے دشمن کو نہیں دیکھا ؟ انہوں نے ہمارے بارے میں اس اس طرح کی تحریر لکھوائی ہے ، آپ اُٹھ کر ہمارے ساتھ ان کی طرف جائیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ اٹھ کر نہیں جاؤں گا ، ان لوگوں نے کہا: پھر انہوں نے کیوں ہماری طرف خط لکھا ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! انہوں نے تمہاری طرف کبھی کوئی خط نہیں لکھا ، پھر وہ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ، پھر ان میں سے کسی نے کہا: کیا ان کی خاطر تم لوگ جنگ کرنا چاہ رہے ہو ؟ کیا ان کی خاطر تم غصہ کر رہے ہو ؟ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے اور مدینہ منورہ کے باہر موجود ایک بستی میں آ کے ٹھہر گئے ، وہ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : آپ نے ہمارے بارے میں اس اس طرح کا خط لکھا ہے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو صورتیں ہیں ، یا تو یہ ہے کہ تم لوگ دو گواہ پیش کرو ، یا پھر یہ ہے کہ میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیتا ہوں ، کہ نہ میں نے اسے لکھا ہے ، نہ املاء کروایا ہے اور نہ ہی مجھے اس بارے میں علم ہے ، اور تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کوئی شخص دوسرے کی طرف سے کچھ بھی لکھ سکتا ہے ، اور انگوٹھی کے نقش کی نقل بھی تیار کی جا سکتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا ، ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور فرمایا : السلام علیکم ! راوی کہتے ہیں : میں نے کسی کو ان کے سلام کا جواب دیتے ہوئے نہیں سنا ، البتہ کسی نے دل میں جواب دیدیا ہو تو اس کا معاملہ مختلف ہو گا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ میں نے اپنے مال میں سے بئر رومہ کو خریدا تھا ، تاکہ اس کے ذریعے میٹھا پانی حاصل کیا جائے اور میں نے اس کنویں کے بارے میں اپنے ڈول کو مسلمانوں کے کسی بھی فرد کے ڈول کی مانند قرار دیدیا تھا ، انہیں جواب دیا گیا : جی ہاں ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم مجھے اسی کنویں کا پانی پینے سے کیوں روک رہے ہو ؟ مجھے کھارے پانی کے ذریعے افطاری کرنا پڑی ہے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ میں نے اپنے مال میں سے اتنی اتنی رقم کے عوض میں ، مسجد میں توسیع کروائی تھی ، لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مجھ سے پہلے کسی کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہو ؟ پھر انہوں نے کچھ اور اُمور کا ذکر کیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمائے تھے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات ذکر کی تھی کہ انہوں نے مفصل سورتوں کی کتابت اپنے ہاتھ کے ذریعے کی تھی ، راوی کہتے ہیں : تو اسی دوران ممانعت پھیل گئی اور یہ کہا: گیا : امیرالمؤمنین سے رک جاؤ ! ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوسعید کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12000
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : إِنَّكَ إِمَامُ الْعَامَّةِ ، وَقَدْ نَزَلَ بِكَ مَا تَرَى ، وَأَنَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ خِصَالًا ثَلَاثًا ، فَاخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ ، إِمَّا أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَهُمْ ، فَإِنَّ مَعَكَ عَدَدًا وَقُوَّةً ، وَأَنْتَ عَلَى الْحَقِّ ، وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ، وَإِمَّا أَنْ تَخْرِقَ لَكَ بَابًا سِوَى الْبَابِ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ فَتَقْعُدَ عَلَى رَوَاحِلِكَ فَتَلْحَقَ بِمَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّوكَ وَأَنْتَ بِهَا ، وَإِمَّا أَنْ تَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ . فَقَالَ عُثْمَانُ : أَمَّا أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَهُمْ فَلَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ خَلَفَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أُمَّتِهِ بِسَفْكِ الدِّمَاءِ ، وَأَمَّا أَنْ أَخْرُجَ إِلَى مَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّونِي بِهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُلْحِدُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ يَكُونُ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ " فَلَنْ أَكُونَ أَنَا إِيَّاهُ ، وَأَمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ فَلَنْ أُفَارِقَ دَارَ هِجْرَتِي وَمُجَاوَرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنَ الْمُغِيرَةِ . قُلْتُ : وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي فَضْلِ مَكَّةَ فِي الْحَجِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب انہیں محصور کیا جا چکا تھا اور انہوں نے یہ کہا: آپ حکمران ہیں ، آپ کو جو صورت حال درپیش ہے ، وہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں ، میں آپ کے سامنے تین پیشکشیں رکھتا ہوں ، آپ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیں ، یا تو آپ باہر نکلیں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کریں ، آپ کے ساتھ ( لوگوں کی ) تعداد اور قوت ہے ، اور آپ حق پر ہیں اور یہ لوگ ( یعنی باغی ) باطل پر ہیں ، یا پھر یہ ہے کہ یہ لوگ جس دروازے کے سامنے موجود ہیں ، آپ اس کے علاوہ کوئی اور دروازہ بنوائیں اور اپنی سواری پر سوار ہو کر مکہ تشریف لے جائیں ، جب آپ مکہ میں موجود ہوں گے ، تو یہ ( باغی ) آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ، یا پھر آپ شام تشریف لے جائیں ، کیونکہ وہاں اہل شام ہیں اور ان میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں ، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اگر تو میں نکل کر ان کے ساتھ جنگ کرتا ہوں ، تو میں ایسا پہلا فرد نہیں بننا چاہوں گا ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی امت میں خون بہانے کا آغاز کیا ، جہاں تک میرے نکل کر مکہ جانے کا تعلق ہے کہ یہ لوگ وہاں مجھے نقصان نہیں پہنچائیں گے ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مکہ میں الحاد کرے گا اور اسے تمام جہان کے عذاب کا نصف عذاب ہو گا ۔ “ تو میں وہ فرد نہیں بننا چاہتا ، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں شام چلا جاؤں ، وہاں اہل شام ہیں اور ان میں معاویہ موجود ہے ، تو میں ہجرت کے مقام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس سے جدا نہیں ہونا چاہتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف محمد بن عبدالملک بن مروان کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے یہ بات نہیں پائی کہ اس نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو کتاب الحج میں مکہ کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12001
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (481)»
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَسَجَّيْنَاهُ بِثَوْبٍ ، وَقُمْتُ أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ ضَوْضَاءَ فَانْصَرَفْتُ ، فَإِذَا أَنَا بِهِ يَتَحَرَّكُ ، فَقَالَ : أَجْلَدُ الْقَوْمِ أَوْسَطُهُمْ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ الْقَوِيُّ فِي جِسْمِهِ ، الْقَوِيُّ فِي أَمْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ الْعَفِيفُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي يَعْفُو عَنْ ذُنُوبٍ كَثِيرَةٍ ، خَلَتْ لَيْلَتَانِ وَبَقِيَتْ أَرْبَعٌ ، وَاخْتَلَفَ النَّاسُ ، وَلَا نِظَامَ لَهُمْ ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقْبِلُوا عَلَى إِمَامِكُمْ ، وَاسْمَعُوا ، وَأَطِيعُوا ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ رَوَاحَةَ ، ثُمَّ قَالَ : وَمَا فَعَلَ زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ ؟ - يَعْنِي أَبَاهُ - ثُمَّ قَالَ : أَخَذْتُ بِئْرَ أَرِيسَ ظُلْمًا ، ثُمَّ هَدَأَ الصَّوْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، جس کا نام خارجہ بن زید تھا ، ہم نے اسے کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا ، میں اُٹھ کر نماز ادا کرنے لگا ، اسی دوران مجھے آہٹ سی محسوس ہوئی ، میں نے نماز ختم کی ، جب میں خارجہ بن زید کی میت کے پاس آیا ، تو وہ حرکت کر رہی تھی ، اُس نے یہ کہا: لوگوں میں سب سے زیادہ مضبوط وہ تھے ، جو درمیانے تھے ( یعنی عدل کرنے والے تھے ) اور وہ اللہ کے بندے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو امیرالمؤمنین تھے ، اپنے جسم کے اعتبار سے قوی ، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے کے بارے میں قوی تھے ، جبکہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ امیرالمؤمنین ہیں ، وہ پاک دامن ہیں اور انہوں نے پاکدامنی کو اختیار کیا ہے ، اور انہوں نے بہت سی چیزوں سے درگزر کیا ہے ، دو راتیں گزر گئی ہیں اور چار باقی رہ گئی ہیں ، لوگوں کے درمیان اختلاف ہے ، ان کا کوئی نظام نہیں ہے ، اے لوگو ! اپنے امام کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو ، یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں ، پھر انہوں نے کہا: زید بن خارجہ کا کیا معاملہ ہوا ؟ یعنی ان کے والد نے کہا: تو انہوں نے کہا: میں نے ظلم کے طور پر ” بئر اریس “ کو حاصل کیا تھا ، اُس کے بعد ان کی آواز پست ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس کے طرق ، کتاب الخلافہ میں گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12002
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4139 و 5144)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَ : خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لَأَبِيهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ : إِنَّ عُثْمَانَ قَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ ، فَلَوْ كَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى يُرَفَّهَ عَنْهُ . قَالَ : وَطَلْحَةُ يَغْسِلُ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسِهِ فَلَمْ يُجِبْهَا . فَأَدْخَلَتْ يَدَيْهَا فِي كُمِّ دِرْعِهَا فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَيْهَا وَقَالَتْ : أَسْأَلُكَ بِمَا حَمَلْتُكَ وَأَرْضَعْتُكَ إِلَّا فَعَلْتَ . فَقَامَ وَلَوَى شِقَّ شَعْرِ رَأْسِهِ حَتَّى عَقَدَهُ وَهُوَ مَغْسُولٌ ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى عَلِيًّا وَهُوَ جَالِسٌ فِي جَنْبِ دَارِهِ ، فَقَالَ طَلْحَةُ وَمَعَهُ أُمُّهُ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ : لَوْ رَفَعْتَ النَّاسَ عَنْ هَذَا فَقَدَ اشْتَدَّ حَصْرُهُ . قَالَ : فَنَقَرَ بِقَدَحٍ فِي يَدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا يَكْرَهُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ هَذَا ضَعِيفٌ لِأَنَّ عَلِيًّا لَمْ يَكُنْ بِالْمَدِينَةِ حِينَ حُصِرَ عُثْمَانُ وَلَا شَهِدَ قَتْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن رافع اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” صعبہ بنت حضرمی نکلیں ( یہ راوی خاتون کی دادی ہیں ) ہم نے اس خاتون کو اپنے والد سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، اگر آپ اس بارے میں بات چیت کریں تاکہ یہ چیز ختم ہو جائے تو مناسب ہو گا ، راوی کہتے ہیں : سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے سر کے دو حصوں میں سے ایک حصہ دھو چکے تھے ، انہوں نے اس خاتون کو کوئی جواب نہیں دیا ، تو اس خاتون نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی آستین میں داخل کئے اور اپنی چھاتی نکال لی اور بولیں : میں نے تمہارا حمل برداشت کیا ، تمہیں دودھ پلایا ، اس کا واسطہ دے کر میں تمہیں یہ کہتی ہوں کہ تم ایسا کرو ، تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، انہوں نے اپنے سر کے ایک طرف کے دھلے ہوئے بالوں کو لپیٹا اور ان کو گرہ لگا لی ، پھر وہ نکلے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جو اپنے گھر کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ، اُن کے ساتھ ان کی والدہ تھیں اور ساتھ عبداللہ بن رافع کی والدہ ( یعنی راوی خاتون ) تھیں ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ان صاحب سے لوگوں کو ہٹا لیں ، تو یہ مناسب ہو گا کیونکہ ان کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں موجود پیالے کو تین مرتبہ انگلی سے مارا ، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور بولے : اللہ کی قسم ! میں ان صاحب کے حوالے سے ایسی کسی چیز کو پسند نہیں کرتا ، جسے یہ ناپسند کرتے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے ، کیونکہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تھا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت مدینہ میں موجود نہیں تھے اور ان کی شہادت کے موقع پر وہاں موجود نہیں تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12003
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (127)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَكَعْبًا رَكِبَا سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ : يَا كَعْبُ ، أَمَا تَجِدُ سَفِينَتَنَا هَذِهِ فِي التَّوْرَاةِ كَيْفَ تَجْرِي ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أَجِدُ فِيهَا رَجُلًا أَشْقَى الْفِتْيَةِ مِنْ قُرَيْشٍ يَنْزُو فِي الْفِتْيَةِ نَزْوَ الْحِمَارِ فَاتَّقِ ، لَا تَكُنْ أَنْتَ هُوَ . قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : فَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ هُوَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : محمد بن ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ اور کعب ، یہ دونوں حضرات سمندر میں کشتی پر سوار ہو کر جا رہے تھے ، تو محمد بن ابوحذیفہ نے کہا: اے کعب ! کیا تمہیں ہماری اس کشتی کا ذکر تورات میں ملتا ہے ؟ کہ یہ کیسے چلتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! لیکن مجھے تورات میں ایک ایسے شخص کا ذکر ملتا ہے ، جس کا تعلق قریش سے ہو گا اور وہ سب سے زیادہ بدنصیب نوجوان ہو گا ، اور وہ فتنے میں یوں کود پڑے گا ، جس طرح گدھا کودتا ہے ، تم اس بات سے بچنے کی کوشش کرنا ، کہ کہیں وہ تم نہ ہو ۔ ابن سیرین کہتے ہیں : لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ پھر وہی شخص وہ فرد ثابت ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12004
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (117)»
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَا : دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَهُوَ آخِذٌ بِتَلَابِيبِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا لَكَ ، مَا لَكَ ، وَلِابْنِ أَخِيكَ ؟ قَالَ : زَعَمَ أَنَّهُ لَا يَكْفُرُ عُثْمَانُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : تُؤْمِنُ بِمَا يَكْفُرُ بِهِ عُثْمَانُ ، وَتَكْفُرُ بِمَا يُؤْمِنُ بِهِ عُثْمَانُ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَأَرْسِلِ ابْنَ أَخِيكَ ، فَلَمَّا خَرَجَ الْحَسَنُ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ : يَا عَمَّارُ ، أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ آمَنَ بِاللَّهِ وَكَفَرَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ؟ قَالَ : بَلَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گریبان کو پکڑا ہوا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے دریافت کیا : آپ کا اور آپ کے بھتیجے کا کیا معاملہ ہے ؟ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کہتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کفر کا ارتکاب نہیں کیا ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : کیا تم اس چیز پر ایمان رکھتے ہو ؟ جس کا انکار سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا ہو ، اور کیا تم اس چیز کا انکار کر سکتے ہو ، جس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایمان لائے ہوں ؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم اپنے بھتیجے کو چھوڑ دو ! جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چلے گئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمار ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انہوں نے لات اور عزیٰ کا انکار کیا تھا ؟ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی میں یہ بات جانتا ہوں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12005
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ وَثَّابٍ ، وَكَانَ مِمَّنْ أَدْرَكَهُ عِتْقُ عُثْمَانَ ، وَكَانَ يَقُومُ بَيْنَ يَدَيْ عُثْمَانَ ، قَالَ : بَعَثَنِي عُثْمَانُ فَدَعَوْتُ لَهُ الْأَشْتَرَ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَأَظُنُّهُ قَالَ : - فَطَرَحْتُ لَهُ وِسَادَةً ، وَلِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وِسَادَةً ، قَالَ : يَا أَشْتَرُ ، مَا تُرِيدُ النَّاسُ مِنِّي ؟ قَالَ : ثَلَاثًا مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ . قَالَ : مَا هُنَّ ؟ قَالَ : يُخَيِّرُونَكَ بَيْنَ أَنْ تَدَعَ لَهُمْ أَمْرَهُمْ فَتَقُولَ : هَذَا أَمْرُكُمْ فَاخْتَارُوا لَهُ مَنْ شِئْتُمْ ، وَبَيْنَ أَنْ تُقِصَّ مِنْ نَفْسِكَ ، فِإِنْ أَبَيْتَ فَإِنَّ الْقَوْمَ قَاتِلُوكَ . قَالَ : مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ ؟ قَالَ : مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ . قَالَ : أَمَّا أَنْ أَخْلَعَ لَهُمْ أَمْرَهُمْ فَمَا كُنْتُ لِأَخْلَعَ سِرْبَالًا سُرْبِلْتُهُ . قَالَ : وَقَالَ الْحَسَنُ : قَالَ : وَاللَّهِ لَأَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْلَعَ أَمْرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْزُو بِبَعْضِهَا عَلَى بَعْضٍ - وَهَذَا أَشْبَهُ بِكَلَامِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . وَأَمَّا أَنْ أُقِصَّ مِنْ نَفْسِي ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ صَاحِبَايَ كَانَا يُعَاقِبَانِ ، وَمَا يَقُومُ بَدَنِي لِلْقِصَاصِ ، وَأَمَّا أَنْ يَقْتُلُونِي ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُونِي لَا تُحَابَوْنَ بَعْدِي أَبَدًا ، وَلَا تُقَاتِلُونَ بَعْدِي عَدُوًّا جَمِيعًا أَبَدًا . ¤ فَقَامَ الْأَشْتَرُ فَانْطَلَقَ ، فَمَكَثْنَا فَقُلْنَا : لَعَلَّ النَّاسَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ ذِئْبٌ فَاطَّلَعَ مِنْ بَابٍ ثُمَّ رَجَعَ ، ثُمَّ جَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى عُثْمَانَ ، فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ بِهَا ، وَقَالَ بِهَا ، حَتَّى سَمِعْتُ وَقْعَ أَضْرَاسِهِ ، فَقَالَ : مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ ؟ مَا أَغْنَى عَنْكَ ابْنُ عَامِرٍ ؟ مَا أَغْنَى عَنْكَ كُتُبُكَ ؟ قَالَ : أَرْسِلْ لِحْيَتِي يَا ابْنَ أَخِي [أَرْسِلْ لِحْيَتِي يَا ابْنَ أَخِي ] . قَالَ : فَأَنَا رَأَيْتُهُ اسْتَدْعَى رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ بِعَيْنِهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ حَتَّى وَجَأَهُ بِهِ فِي رَأْسِهِ . قُلْتُ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : تَعَاوَنُوا وَاللَّهِ عَلَيْهِ حَتَّى قَتَلُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ وَثَّابٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
وثاب بیان کرتے ہیں : یہ ان لوگوں میں سے ایک تھے ، جنہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آزاد کیا تھا اور یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑے ہوا کرتے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بھیجا ، میں اُن کے لئے اشتر کو بلا کے لایا ، ابن عون نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے ان کے لئے ایک تکیہ رکھا اور امیرالمؤمنین کے لئے ایک تکیہ رکھا ، امیر المؤمنین نے فرمایا : اے اشتر ! یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : تین چیزیں ہیں ، ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ، آپ کے لئے ضروری ہو گا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا: لوگ آپ کو یہ اختیار دے رہے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو آپ ان کا معاملہ چھوڑ دیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ رہی تمہاری حکومت ، تم اس کے لئے جسے چاہو اختیار کر لو ، یا پھر یہ ہے کہ آپ اپنی طرف سے قصاص دیں ، اگر آپ اس کا انکار کرتے ہیں ، تو لوگ آپ کو شہید کر دیں گے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ان میں سے کسی ایک کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ہے ؟ اشتر نے جواب دیا : ان میں سے کسی ایک کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ہے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں ان کے لئے حکومت سے الگ ہو جاؤں ، تو میں ایک ایسے لباس کو انہیں اتاروں گا ، جو مجھے پہنایا گیا ہے ، راوی کہتے ہیں : یہاں حسن نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر مجھے آگے کر کے میری گردن اڑا دی جائے ، تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی حکومت سے لاتعلقی اختیار کروں ، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں ، راوی کہتے ہیں : یہ کلمات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کلام سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔ ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں اپنی ذات کے حوالے سے بدلہ دوں ، تو اللہ کی قسم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ میرے دونوں متعلقہ افراد کو سزا دی گئی اور میرا جسم قصاص کے لائق نہیں ہے ( یعنی مجھ پر قصاص عائد نہیں ہوتا ہے ) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے ، تو اللہ تعالیٰ کی قسم ! اگر تم لوگ مجھے قتل کر دو گے ، تو میرے بعد تم کبھی ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھو گے ، اور میرے بعد تم کبھی بھی مل جل کر دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے ، تو اشتر اٹھ کر چلا گیا ، ہم ٹھہرے رہے ، ہم نے کہا: شاید لوگ باز آ جائیں ، اسی دوران ایک شخص آیا ، جو بھیڑیے کی طرح محسوس ہوتا تھا ، اس نے دروازے میں سے جھانک کر دیکھا ، پھر وہ واپس چلا گیا ، پھر محمد بن ابوبکر ، تیرہ افراد سمیت آئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے ، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی اور انہیں مارنا شروع کیا ، یہاں تک کہ میں نے اُن کی داڑھ ٹوٹنے کی آواز سنی ، محمد بن ابوبکر نے کہا: معاویہ تمہارے کس کام آیا ؟ ابن عامر تمہارے کس کام آیا ؟ تمہارے دستے تمہارے کس کام آئے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم میری داڑھی چھوڑ دو ! اے میرے بھتیجے ! تم میری داڑھی چھوڑ دو ! راوی کہتے ہیں : پھر میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے حاضرین میں سے ایک شخص کو بلایا ، تو وہ ایک تیر لے کر اُٹھ کر ان کی طرف آیا ، اور اس نے وہ تیر ان کے سر میں گھونپ دیا ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : پھر کیا ہوا ؟ تو انہوں نے بتایا : ان لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کی ، اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ( مل جل کر ) شہید کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف وثاب کا معاملہ مختلف ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12006
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (116)»
وَعَنْ نَائِلَةَ بِنْتِ الْفُرَافِصَةِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ قَالَتْ : نَعَسَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ فَأَغْفَى ، فَاسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : لَيَقْتُلَنِّي الْقَوْمُ ، فَقُلْتُ : كَلَّا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ تَبْلُغْ ذَلِكَ ، إِنَّ رَعِيَّتَكَ اسْتَعْتَبُوكَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَقَالُوا : تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ نائلہ بنت فرافصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اونگھ آ گئی اور وہ سو گئے ، پھر وہ بیدار ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : لوگ مجھے ضرور قتل کر دیں گے ، میں نے کہا: ہرگز نہیں ! اگر اللہ نے چاہا ، تو اس طرح کی صورت حال پیش نہیں آئے گی ، وہ آپ کی رعایا ہیں جو آپ کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا ہے ، انہوں نے مجھ سے کہا: ہے کہ آج رات تم نے افطاری ہمارے پاس کرنی ہے ۔ “
یہ روایت عبداللہ نامی راوی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12007
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (536)»
وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ : نَامَ عُثْمَانُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَ : وَلَوْلَا أَنْ تَقُولَ النَّاسُ تَمَنَّى عُثْمَانُ أُمْنِيَتَهُ لَحَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا . قَالَ : قُلْنَا : حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ ، فَلَسْنَا نَقُولُ كَمَا تَقُولُ النَّاسُ . قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنَامِي هَذَا ، فَقَالَ : إِنَّكَ شَاهِدٌ مَعَنَا الْجُمُعَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَلْقَمَةَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
کثیر بن صلت بیان کرتے ہیں : جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اس دن کا واقعہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سو گئے ، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ، جب وہ بیدار ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مرنے کی آرزو کر رہے ہیں ، تو میں نے تمہیں ایک بات بتانی تھی ، راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا: آپ بیان کیجئے ! اللہ تعالیٰ آپ کو ٹھیک رکھے ، ہم اس طرح نہیں کہیں گے ، جس طرح لوگ کہتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : تم نے جمعہ میں ہمارے ساتھ شریک ہونا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلقمہ ہے ، جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُثْمَانَ أَصْبَحَ يُحَدِّثُ النَّاسَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ ، فَقَالَ : يَا عُثْمَانُ ، أَفْطِرْ عِنْدَنَا ، فَأَصْبَحَ صَائِمًا ، وَقُتِلَ مِنْ يَوْمِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَرَّمَ وَجْهَهُ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے افطاری ہمارے ساتھ کرنی ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اُس دن انہوں نے روزہ رکھ لیا اور اسی دن انہیں شہید کر دیا گیا ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ان کے چہرے کو عزت عطا کرے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12009
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ عَبْدًا مَمْلُوكًا ، وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَقَالُوا لِي : اصْبِرْ فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ . ثُمَّ دَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام مسلم ابوسعید بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بیس غلاموں کو آزاد کیا ، پھر انہوں نے شلوار منگوائی اور اسے پہن لیا ، حالانکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت یا زمانہ اسلام میں کبھی اسے نہیں پہنا تھا ، پھر انہوں نے فرمایا : گزشتہ رات میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے ، انہوں نے مجھ سے کہا: ہے : تم صبر سے کام لینا ، یہاں تک کہ کل تم نے ہمارے ساتھ افطاری کرنی ہے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید منگوایا ، اسے اپنے سامنے کھول لیا اور جب انہیں شہید کیا گیا ، تو وہ قرآن مجید ان کے آگے موجود تھا ۔
یہ روایت عبداللہ نے اور ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12010
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ : قُتِلَ عُثْمَانُ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، وَكَانَتِ الْفِتْنَةُ خَمْسَ سِنِينَ ، مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرِ الْحَسَنِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَابْنُ عَقِيلٍ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پینتیس ہجری میں شہید کیا گیا اور فتنہ پانچ سال تک رہا ، جن میں سے چار ماہ وہ ہیں ، جو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابن عقیل نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12011
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (103) اخرجه احمد فى المسند (550)»
وَعَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ : كُنَّا بِبَابِ عُثْمَانَ فِي عَشْرِ الْأَضْحَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں : عید الاضحی کے عشرے میں ، ہم لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر موجود رہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12012
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (551)»
وَعَنْ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ : وَقُتِلُ عُثْمَانُ [ يَوْمَ الْجُمْعَةِ ] لِثَمَانَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ يَوْمًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومعشر بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن اٹھارہ ذوالحج ، پینتیس ہجری میں شہید کیا گیا اور اُن کی خلافت بارہ سال سے بارہ دن کم تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12013
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (545)»
وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ایام تشریق کے درمیانے دن میں شہید کیا گیا ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12014
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (100)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ دُفِنَ فِي ثِيَابِهِ بِدِمَائِهِ وَلَمْ يُغَسَّلْ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن فروخ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دفن کیے جانے کے وقت موجود تھا ، انہیں ان کے خون آلود کپڑوں میں ہی دفن کیا گیا اور انہیں غسل نہیں دیا گیا ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12015
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ یہ
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : صَلَّى الزُّبَيْرُ عَلَى عُثْمَانَ وَدَفَنَهُ ، وَكَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی اور انہوں نے ہی انہیں دفن کیا تھا کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اُن کے بارے میں وصیت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ قتادہ نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12016
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (549)»