حدیث نمبر: 12004
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَكَعْبًا رَكِبَا سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ : يَا كَعْبُ ، أَمَا تَجِدُ سَفِينَتَنَا هَذِهِ فِي التَّوْرَاةِ كَيْفَ تَجْرِي ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أَجِدُ فِيهَا رَجُلًا أَشْقَى الْفِتْيَةِ مِنْ قُرَيْشٍ يَنْزُو فِي الْفِتْيَةِ نَزْوَ الْحِمَارِ فَاتَّقِ ، لَا تَكُنْ أَنْتَ هُوَ . قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : فَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ هُوَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : محمد بن ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ اور کعب ، یہ دونوں حضرات سمندر میں کشتی پر سوار ہو کر جا رہے تھے ، تو محمد بن ابوحذیفہ نے کہا: اے کعب ! کیا تمہیں ہماری اس کشتی کا ذکر تورات میں ملتا ہے ؟ کہ یہ کیسے چلتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! لیکن مجھے تورات میں ایک ایسے شخص کا ذکر ملتا ہے ، جس کا تعلق قریش سے ہو گا اور وہ سب سے زیادہ بدنصیب نوجوان ہو گا ، اور وہ فتنے میں یوں کود پڑے گا ، جس طرح گدھا کودتا ہے ، تم اس بات سے بچنے کی کوشش کرنا ، کہ کہیں وہ تم نہ ہو ۔ ابن سیرین کہتے ہیں : لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ پھر وہی شخص وہ فرد ثابت ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12004
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (117)»