مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَسَجَّيْنَاهُ بِثَوْبٍ ، وَقُمْتُ أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ ضَوْضَاءَ فَانْصَرَفْتُ ، فَإِذَا أَنَا بِهِ يَتَحَرَّكُ ، فَقَالَ : أَجْلَدُ الْقَوْمِ أَوْسَطُهُمْ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ الْقَوِيُّ فِي جِسْمِهِ ، الْقَوِيُّ فِي أَمْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ الْعَفِيفُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي يَعْفُو عَنْ ذُنُوبٍ كَثِيرَةٍ ، خَلَتْ لَيْلَتَانِ وَبَقِيَتْ أَرْبَعٌ ، وَاخْتَلَفَ النَّاسُ ، وَلَا نِظَامَ لَهُمْ ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقْبِلُوا عَلَى إِمَامِكُمْ ، وَاسْمَعُوا ، وَأَطِيعُوا ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ رَوَاحَةَ ، ثُمَّ قَالَ : وَمَا فَعَلَ زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ ؟ - يَعْنِي أَبَاهُ - ثُمَّ قَالَ : أَخَذْتُ بِئْرَ أَرِيسَ ظُلْمًا ، ثُمَّ هَدَأَ الصَّوْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ . ¤سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، جس کا نام خارجہ بن زید تھا ، ہم نے اسے کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا ، میں اُٹھ کر نماز ادا کرنے لگا ، اسی دوران مجھے آہٹ سی محسوس ہوئی ، میں نے نماز ختم کی ، جب میں خارجہ بن زید کی میت کے پاس آیا ، تو وہ حرکت کر رہی تھی ، اُس نے یہ کہا: لوگوں میں سب سے زیادہ مضبوط وہ تھے ، جو درمیانے تھے ( یعنی عدل کرنے والے تھے ) اور وہ اللہ کے بندے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو امیرالمؤمنین تھے ، اپنے جسم کے اعتبار سے قوی ، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے کے بارے میں قوی تھے ، جبکہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ امیرالمؤمنین ہیں ، وہ پاک دامن ہیں اور انہوں نے پاکدامنی کو اختیار کیا ہے ، اور انہوں نے بہت سی چیزوں سے درگزر کیا ہے ، دو راتیں گزر گئی ہیں اور چار باقی رہ گئی ہیں ، لوگوں کے درمیان اختلاف ہے ، ان کا کوئی نظام نہیں ہے ، اے لوگو ! اپنے امام کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو ، یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں ، پھر انہوں نے کہا: زید بن خارجہ کا کیا معاملہ ہوا ؟ یعنی ان کے والد نے کہا: تو انہوں نے کہا: میں نے ظلم کے طور پر ” بئر اریس “ کو حاصل کیا تھا ، اُس کے بعد ان کی آواز پست ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس کے طرق ، کتاب الخلافہ میں گزر چکے ہیں ۔