مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : إِنَّكَ إِمَامُ الْعَامَّةِ ، وَقَدْ نَزَلَ بِكَ مَا تَرَى ، وَأَنَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ خِصَالًا ثَلَاثًا ، فَاخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ ، إِمَّا أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَهُمْ ، فَإِنَّ مَعَكَ عَدَدًا وَقُوَّةً ، وَأَنْتَ عَلَى الْحَقِّ ، وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ، وَإِمَّا أَنْ تَخْرِقَ لَكَ بَابًا سِوَى الْبَابِ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ فَتَقْعُدَ عَلَى رَوَاحِلِكَ فَتَلْحَقَ بِمَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّوكَ وَأَنْتَ بِهَا ، وَإِمَّا أَنْ تَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ . فَقَالَ عُثْمَانُ : أَمَّا أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَهُمْ فَلَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ خَلَفَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أُمَّتِهِ بِسَفْكِ الدِّمَاءِ ، وَأَمَّا أَنْ أَخْرُجَ إِلَى مَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّونِي بِهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُلْحِدُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ يَكُونُ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ " فَلَنْ أَكُونَ أَنَا إِيَّاهُ ، وَأَمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ فَلَنْ أُفَارِقَ دَارَ هِجْرَتِي وَمُجَاوَرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنَ الْمُغِيرَةِ . قُلْتُ : وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي فَضْلِ مَكَّةَ فِي الْحَجِّ . ¤سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب انہیں محصور کیا جا چکا تھا اور انہوں نے یہ کہا: آپ حکمران ہیں ، آپ کو جو صورت حال درپیش ہے ، وہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں ، میں آپ کے سامنے تین پیشکشیں رکھتا ہوں ، آپ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیں ، یا تو آپ باہر نکلیں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کریں ، آپ کے ساتھ ( لوگوں کی ) تعداد اور قوت ہے ، اور آپ حق پر ہیں اور یہ لوگ ( یعنی باغی ) باطل پر ہیں ، یا پھر یہ ہے کہ یہ لوگ جس دروازے کے سامنے موجود ہیں ، آپ اس کے علاوہ کوئی اور دروازہ بنوائیں اور اپنی سواری پر سوار ہو کر مکہ تشریف لے جائیں ، جب آپ مکہ میں موجود ہوں گے ، تو یہ ( باغی ) آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ، یا پھر آپ شام تشریف لے جائیں ، کیونکہ وہاں اہل شام ہیں اور ان میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں ، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اگر تو میں نکل کر ان کے ساتھ جنگ کرتا ہوں ، تو میں ایسا پہلا فرد نہیں بننا چاہوں گا ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی امت میں خون بہانے کا آغاز کیا ، جہاں تک میرے نکل کر مکہ جانے کا تعلق ہے کہ یہ لوگ وہاں مجھے نقصان نہیں پہنچائیں گے ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مکہ میں الحاد کرے گا اور اسے تمام جہان کے عذاب کا نصف عذاب ہو گا ۔ “ تو میں وہ فرد نہیں بننا چاہتا ، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں شام چلا جاؤں ، وہاں اہل شام ہیں اور ان میں معاویہ موجود ہے ، تو میں ہجرت کے مقام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس سے جدا نہیں ہونا چاہتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف محمد بن عبدالملک بن مروان کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے یہ بات نہیں پائی کہ اس نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو کتاب الحج میں مکہ کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔