حدیث نمبر: 12007
وَعَنْ نَائِلَةَ بِنْتِ الْفُرَافِصَةِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ قَالَتْ : نَعَسَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ فَأَغْفَى ، فَاسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : لَيَقْتُلَنِّي الْقَوْمُ ، فَقُلْتُ : كَلَّا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ تَبْلُغْ ذَلِكَ ، إِنَّ رَعِيَّتَكَ اسْتَعْتَبُوكَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَقَالُوا : تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ نائلہ بنت فرافصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اونگھ آ گئی اور وہ سو گئے ، پھر وہ بیدار ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : لوگ مجھے ضرور قتل کر دیں گے ، میں نے کہا: ہرگز نہیں ! اگر اللہ نے چاہا ، تو اس طرح کی صورت حال پیش نہیں آئے گی ، وہ آپ کی رعایا ہیں جو آپ کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا ہے ، انہوں نے مجھ سے کہا: ہے کہ آج رات تم نے افطاری ہمارے پاس کرنی ہے ۔ “
یہ روایت عبداللہ نامی راوی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12007
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (536)»