حدیث نمبر: 12003
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَ : خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لَأَبِيهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ : إِنَّ عُثْمَانَ قَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ ، فَلَوْ كَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى يُرَفَّهَ عَنْهُ . قَالَ : وَطَلْحَةُ يَغْسِلُ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسِهِ فَلَمْ يُجِبْهَا . فَأَدْخَلَتْ يَدَيْهَا فِي كُمِّ دِرْعِهَا فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَيْهَا وَقَالَتْ : أَسْأَلُكَ بِمَا حَمَلْتُكَ وَأَرْضَعْتُكَ إِلَّا فَعَلْتَ . فَقَامَ وَلَوَى شِقَّ شَعْرِ رَأْسِهِ حَتَّى عَقَدَهُ وَهُوَ مَغْسُولٌ ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى عَلِيًّا وَهُوَ جَالِسٌ فِي جَنْبِ دَارِهِ ، فَقَالَ طَلْحَةُ وَمَعَهُ أُمُّهُ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ : لَوْ رَفَعْتَ النَّاسَ عَنْ هَذَا فَقَدَ اشْتَدَّ حَصْرُهُ . قَالَ : فَنَقَرَ بِقَدَحٍ فِي يَدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا يَكْرَهُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ هَذَا ضَعِيفٌ لِأَنَّ عَلِيًّا لَمْ يَكُنْ بِالْمَدِينَةِ حِينَ حُصِرَ عُثْمَانُ وَلَا شَهِدَ قَتْلَهُ . ¤
محمد محی الدین

عبدالله بن رافع اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” صعبہ بنت حضرمی نکلیں ( یہ راوی خاتون کی دادی ہیں ) ہم نے اس خاتون کو اپنے والد سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، اگر آپ اس بارے میں بات چیت کریں تاکہ یہ چیز ختم ہو جائے تو مناسب ہو گا ، راوی کہتے ہیں : سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے سر کے دو حصوں میں سے ایک حصہ دھو چکے تھے ، انہوں نے اس خاتون کو کوئی جواب نہیں دیا ، تو اس خاتون نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی آستین میں داخل کئے اور اپنی چھاتی نکال لی اور بولیں : میں نے تمہارا حمل برداشت کیا ، تمہیں دودھ پلایا ، اس کا واسطہ دے کر میں تمہیں یہ کہتی ہوں کہ تم ایسا کرو ، تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، انہوں نے اپنے سر کے ایک طرف کے دھلے ہوئے بالوں کو لپیٹا اور ان کو گرہ لگا لی ، پھر وہ نکلے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جو اپنے گھر کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ، اُن کے ساتھ ان کی والدہ تھیں اور ساتھ عبداللہ بن رافع کی والدہ ( یعنی راوی خاتون ) تھیں ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ان صاحب سے لوگوں کو ہٹا لیں ، تو یہ مناسب ہو گا کیونکہ ان کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں موجود پیالے کو تین مرتبہ انگلی سے مارا ، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور بولے : اللہ کی قسم ! میں ان صاحب کے حوالے سے ایسی کسی چیز کو پسند نہیں کرتا ، جسے یہ ناپسند کرتے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے ، کیونکہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تھا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت مدینہ میں موجود نہیں تھے اور ان کی شہادت کے موقع پر وہاں موجود نہیں تھے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12003
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (127)»