مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ ، وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : مَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي . ¤ وَقَالَ : إسْمَاعِيلُ مَرَّةً [ فِي الْأُولَى " نَكْتُبَكَ يَا ابْنَ أَبِي حَوَالَةَ " قُلْتُ : لَا أَدْرِي فِيمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ] ، فَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : مَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ . ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " يَا ابْنَ حَوَالَةَ ، كَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ . قَالَ : " فَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُخْرَى فِيهَا انْتِفَاجَةُ أَرْنَبٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ . قَالَ : " اتَّبِعُوا هَذَا " وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ . فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ ، فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ ، فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : هَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ،سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ” دومہ “ ( نامی درخت ) کے سائے میں تشریف فرما تھے اور آپ کے پاس ایک تحریر کرنے والا شخص موجود تھا ، جسے آپ املاء کروا رہے تھے ، آپ نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کچھ تحریر نہ کروا دوں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں ( وہی ٹھیک ہو گا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ موڑ لیا ، یہاں پر اسماعیل نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن حوالہ ! کیا ہم تمہیں ( یعنی تمہارے لئے ) کچھ لکھوائیں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم یا رسول اللہ ! کہ کیا ہونا چاہیے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاتب کی طرف متوجہ ہو کر اسے املاء کروانے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا ہم تمہارے لئے نہ لکھوائیں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول میرے لئے اختیار کریں ( وہی مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاتب کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے املاء کرواتے رہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے جائزہ لیا ، تو اس تحریر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی تھا ، تو اس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر تو بھلائی کے حوالے سے ہی ہو سکتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن حوالہ ! کیا ہم تمہارے لئے تحریر نہ کروا دیں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابن حوالہ ! فتنوں کے زمانے میں تم کیا کرو گے ؟ جب وہ فتنے زمین کے اطراف سے یوں نکلیں گے ، جس طرح گائے کے سینگ ہوتے ہیں ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر اس وقت تم کیا کرو گے ؟ جب پہلے فتنے کے بعد دوسرا فتنہ آئے گا اور اس کے مقابلے میں پہلے والا فتنہ جیسے خرگوش اچھلتا ہے ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، جو اللہ اور اس کا رسول میرے لئے اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُس کی پیروی کرنا ! ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اُس وقت وہاں سے ایک صاحب چہرہ ڈھانپ کے گزر رہے تھے ، میں گیا ، میں دوڑتا ہوا گیا ، میں نے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ان کا رخ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر کے دریافت کیا : ان کے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔