حدیث نمبر: 12006
وَعَنْ وَثَّابٍ ، وَكَانَ مِمَّنْ أَدْرَكَهُ عِتْقُ عُثْمَانَ ، وَكَانَ يَقُومُ بَيْنَ يَدَيْ عُثْمَانَ ، قَالَ : بَعَثَنِي عُثْمَانُ فَدَعَوْتُ لَهُ الْأَشْتَرَ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَأَظُنُّهُ قَالَ : - فَطَرَحْتُ لَهُ وِسَادَةً ، وَلِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وِسَادَةً ، قَالَ : يَا أَشْتَرُ ، مَا تُرِيدُ النَّاسُ مِنِّي ؟ قَالَ : ثَلَاثًا مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ . قَالَ : مَا هُنَّ ؟ قَالَ : يُخَيِّرُونَكَ بَيْنَ أَنْ تَدَعَ لَهُمْ أَمْرَهُمْ فَتَقُولَ : هَذَا أَمْرُكُمْ فَاخْتَارُوا لَهُ مَنْ شِئْتُمْ ، وَبَيْنَ أَنْ تُقِصَّ مِنْ نَفْسِكَ ، فِإِنْ أَبَيْتَ فَإِنَّ الْقَوْمَ قَاتِلُوكَ . قَالَ : مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ ؟ قَالَ : مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ . قَالَ : أَمَّا أَنْ أَخْلَعَ لَهُمْ أَمْرَهُمْ فَمَا كُنْتُ لِأَخْلَعَ سِرْبَالًا سُرْبِلْتُهُ . قَالَ : وَقَالَ الْحَسَنُ : قَالَ : وَاللَّهِ لَأَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْلَعَ أَمْرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْزُو بِبَعْضِهَا عَلَى بَعْضٍ - وَهَذَا أَشْبَهُ بِكَلَامِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . وَأَمَّا أَنْ أُقِصَّ مِنْ نَفْسِي ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ صَاحِبَايَ كَانَا يُعَاقِبَانِ ، وَمَا يَقُومُ بَدَنِي لِلْقِصَاصِ ، وَأَمَّا أَنْ يَقْتُلُونِي ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُونِي لَا تُحَابَوْنَ بَعْدِي أَبَدًا ، وَلَا تُقَاتِلُونَ بَعْدِي عَدُوًّا جَمِيعًا أَبَدًا . ¤ فَقَامَ الْأَشْتَرُ فَانْطَلَقَ ، فَمَكَثْنَا فَقُلْنَا : لَعَلَّ النَّاسَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ ذِئْبٌ فَاطَّلَعَ مِنْ بَابٍ ثُمَّ رَجَعَ ، ثُمَّ جَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى عُثْمَانَ ، فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ بِهَا ، وَقَالَ بِهَا ، حَتَّى سَمِعْتُ وَقْعَ أَضْرَاسِهِ ، فَقَالَ : مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ ؟ مَا أَغْنَى عَنْكَ ابْنُ عَامِرٍ ؟ مَا أَغْنَى عَنْكَ كُتُبُكَ ؟ قَالَ : أَرْسِلْ لِحْيَتِي يَا ابْنَ أَخِي [أَرْسِلْ لِحْيَتِي يَا ابْنَ أَخِي ] . قَالَ : فَأَنَا رَأَيْتُهُ اسْتَدْعَى رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ بِعَيْنِهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ حَتَّى وَجَأَهُ بِهِ فِي رَأْسِهِ . قُلْتُ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : تَعَاوَنُوا وَاللَّهِ عَلَيْهِ حَتَّى قَتَلُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ وَثَّابٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین

وثاب بیان کرتے ہیں : یہ ان لوگوں میں سے ایک تھے ، جنہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آزاد کیا تھا اور یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑے ہوا کرتے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بھیجا ، میں اُن کے لئے اشتر کو بلا کے لایا ، ابن عون نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے ان کے لئے ایک تکیہ رکھا اور امیرالمؤمنین کے لئے ایک تکیہ رکھا ، امیر المؤمنین نے فرمایا : اے اشتر ! یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : تین چیزیں ہیں ، ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ، آپ کے لئے ضروری ہو گا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا: لوگ آپ کو یہ اختیار دے رہے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو آپ ان کا معاملہ چھوڑ دیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ رہی تمہاری حکومت ، تم اس کے لئے جسے چاہو اختیار کر لو ، یا پھر یہ ہے کہ آپ اپنی طرف سے قصاص دیں ، اگر آپ اس کا انکار کرتے ہیں ، تو لوگ آپ کو شہید کر دیں گے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ان میں سے کسی ایک کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ہے ؟ اشتر نے جواب دیا : ان میں سے کسی ایک کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ہے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں ان کے لئے حکومت سے الگ ہو جاؤں ، تو میں ایک ایسے لباس کو انہیں اتاروں گا ، جو مجھے پہنایا گیا ہے ، راوی کہتے ہیں : یہاں حسن نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر مجھے آگے کر کے میری گردن اڑا دی جائے ، تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی حکومت سے لاتعلقی اختیار کروں ، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں ، راوی کہتے ہیں : یہ کلمات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کلام سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔ ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں اپنی ذات کے حوالے سے بدلہ دوں ، تو اللہ کی قسم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ میرے دونوں متعلقہ افراد کو سزا دی گئی اور میرا جسم قصاص کے لائق نہیں ہے ( یعنی مجھ پر قصاص عائد نہیں ہوتا ہے ) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے ، تو اللہ تعالیٰ کی قسم ! اگر تم لوگ مجھے قتل کر دو گے ، تو میرے بعد تم کبھی ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھو گے ، اور میرے بعد تم کبھی بھی مل جل کر دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے ، تو اشتر اٹھ کر چلا گیا ، ہم ٹھہرے رہے ، ہم نے کہا: شاید لوگ باز آ جائیں ، اسی دوران ایک شخص آیا ، جو بھیڑیے کی طرح محسوس ہوتا تھا ، اس نے دروازے میں سے جھانک کر دیکھا ، پھر وہ واپس چلا گیا ، پھر محمد بن ابوبکر ، تیرہ افراد سمیت آئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے ، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی اور انہیں مارنا شروع کیا ، یہاں تک کہ میں نے اُن کی داڑھ ٹوٹنے کی آواز سنی ، محمد بن ابوبکر نے کہا: معاویہ تمہارے کس کام آیا ؟ ابن عامر تمہارے کس کام آیا ؟ تمہارے دستے تمہارے کس کام آئے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم میری داڑھی چھوڑ دو ! اے میرے بھتیجے ! تم میری داڑھی چھوڑ دو ! راوی کہتے ہیں : پھر میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے حاضرین میں سے ایک شخص کو بلایا ، تو وہ ایک تیر لے کر اُٹھ کر ان کی طرف آیا ، اور اس نے وہ تیر ان کے سر میں گھونپ دیا ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : پھر کیا ہوا ؟ تو انہوں نے بتایا : ان لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کی ، اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ( مل جل کر ) شہید کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف وثاب کا معاملہ مختلف ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12006
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (116)»