مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَفِي رِوَايَةٍ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِهِ ، فَنَزَلَ النَّاسُ مَنْزِلًا ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ ، فَرَآنِي مُقْبِلًا مِنْ حَاجَةٍ لِي وَلَيْسَ غَيْرُهُ وَغَيْرُ كَاتِبِهِ . وَقَالَ فِيهِ : فَإِذَا فِي صَدْرِ الْكِتَابِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . وَقَالَ فِيهِ : أَصْنَعُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ " ، وَقَالَ فِيهِ : فَلَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ ، وَلَئِنْ عَلِمْتُ كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤اُن کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے ، لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دومہ ( نامی درخت ) کے سائے میں پڑاؤ کیا ، آپ نے مجھے آتے ہوئے ملاحظہ فرمایا ، میں اپنے کام کے سلسلے میں جا رہا تھا ، اُس وقت وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور آپ کے کاتب کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ تحریر کے آغاز میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نام تھا ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر شام جانا لازم ہے ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے : مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے دوسرے والے کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا کہ اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ نے دوسرے والے کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا ، تو یہ میرے نزدیک اس اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔