حدیث نمبر: 12000
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ : بَلَغَ عُثْمَانَ أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا ، فَتَلَقَّاهُمْ فِي قَرْيَةٍ لَهُ خَارِجَ الْمَدِينَةِ ، وَكَرِهَ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِ - أَوْ كَمَا قَالَ - فَلَمَّا عَلِمُوا بِمَكَانِهِ أَقْبَلُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا : ادْعُ لَنَا بِالْمُصْحَفِ ، فَدَعَا - يَعْنِي بِهِ - فَقَالَ : افْتَحْ ، فَقَرَأَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ : " قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ " ، فَقَالُوا : أَحِمَى اللَّهِ أُذِنَ لَكَ بِهِ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرِي ؟ فَقَالَ : امْضِ ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا ، وَأَمَّا الْحِمَى فَإِنَّ عُمَرَ حَمَى الْحِمَى لِإِبِلِ الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا وُلِّيتُ فَعَلْتُ الَّذِي فَعَلَ ، وَمَا زِدْتُ عَلَى مَا زَادَ ، وَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَالَ : وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ كَذَا وَكَذَا سَنَةً . قَالَ : ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ جَعَلَ يَقُولُ : امْضِهِ ، نَزَلَتْ فِي كَذَا كَذَا . ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ عَرَفَهَا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهَا مَخْرَجٌ ، فَقَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ : مَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : نُرِيدُ أَنْ لَا يَأْخُذَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْعَطَاءَ ، فَإِنَّ هَذَا الْمَالَ لِلَّذِي قَاتَلَ عَلَيْهِ ، وَلِهَذِهِ الشُّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَرَضِيَ وَرَضُوا . قَالَ : وَأَخَذُوا عَلَيْهِ . قَالَ : وَكَتَبُوا عَلَيْهِ كِتَابًا ، وَأَخَذَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَشُقُّوا عَصًا ، وَلَا يُفَارِقُوا جَمَاعَةً . قَالَ : فَرَضِيَ ، وَرَضُوا . قَالَ : فَأَقْبَلُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي مَا رَأَيْتُ وَفْدًا هُمْ خَيْرٌ مِنْ هَذَا الْوَفْدِ ، أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ فَلْيَلْحَقْ بِزَرْعِهِ وَمَنْ كَانَ لَهُ ضَرْعٌ فَلْيَحْتَلِبْهُ ، أَلَا إِنَّهُ لَا مَالَ لَكُمْ عِنْدَنَا ، إِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ وَلِهَذِهِ الشُّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَغَضِبَ النَّاسُ وَقَالُوا : هَذَا مَكْرُ بَنِي أُمَيَّةَ . وَرَجَعَ الْوَفْدُ رَاضِينَ ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ إِذَا رَاكِبٌ يَتَعَرَّضُ لَهُمْ ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ وَيَعُودُ إِلَيْهِمْ وَيَسُبُّهُمْ ، فَأَخَذُوهُ فَقَالُوا : مَا شَأْنُكَ ؟ إِنَّ لَكَ لَشَأْنًا ؟ قَالَ : أَنَا رَسُولُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ ، فَفَتَّشُوهُ فَإِذَا مَعَهُ كِتَابٌ عَلَى لِسَانِ عُثْمَانَ عَلَيْهِ خَاتَمُهُ : أَنْ يَصْلُبَهُمْ ، أَوْ يَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ ، أَوْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، قَالَ : فَرَجَعُوا وَقَالُوا : قَدْ نَقَضَ الْعَهْدَ وَأَحَلَّ اللَّهُ دَمَهُ . فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا : أَلَمْ تَرَ إِلَى عَدُوِّ اللَّهِ كَتَبَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا ؟ قُمْ مَعَنَا إِلَيْهِ . فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَقُومُ مَعَكُمْ . قَالُوا : فَلِمَ كَتَبَ إِلَيْنَا ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا كَتَبَ إِلَيْكُمْ كِتَابًا قَطُّ . فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ : أَلِهَذَا تُقَاتِلُونَ أَمْ لِهَذَا تَغْضَبُونَ ؟ وَخَرَجَ عَلِيٌّ فَنَزَلَ قَرْيَةً خَارِجَ الْمَدِينَةِ ، فَأَتَوْا عُثْمَانَ فَقَالُوا : كَتَبْتَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ أَنْ تُقِيمُوا شَاهِدَيْنِ ، أَوْ يَمِينٌ بِاللَّهِ مَا كَتَبْتُ وَلَا أَمْلَيْتُ وَلَا عَلِمْتُ ، وَقَدْ تَعْلَمُونَ الْكِتَابَ يُكْتَبُ عَلَى لِسَانِ الرَّجُلِ وَقَدْ يُنْقَشُ الْخَاتَمُ عَلَى الْخَاتَمِ . قَالَ : فَحَصَرُوهُ ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَمَا أَسْمَعُ أَحَدًا رَدَّ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَرُدَّ رَجُلٌ فِي نَفْسِهِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ ، أَعَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي أَسْتَعْذِبُ بِهَا ، فَجَعَلْتُ رِشَائِي فِيهَا كَرِشَاءِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ قِيلَ : نَعَمْ . قَالَ : فَعَلَامَ تَمْنَعُونِي أَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ ؟ قَالَ : أَنْشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ ، فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي فَزِدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ أَحَدًا مُنِعَ فِيهِ الصَّلَاةَ قَبْلِي ؟ ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : وَأَرَاهُ ذَكَرَ كِتَابَتَهُ الْمُفَصَّلَ بِيَدِهِ ، قَالَ : فَفَشَا الْخَبَرُ ، وَقِيلَ : مَهْلًا عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوسعید ، جو سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ” سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی کہ اہل مصر کا ایک وفد آیا ہے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے باہر ایک بستی میں ان لوگوں سے ملے ، انہیں یہ بات ناپسند تھی کہ لوگ ان کے پاس آئیں ، یا جس طرح بھی انہوں نے بیان کیا ، جب ان لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں پتہ چلا ، تو وہ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: آپ ہمارے لئے مصحف منگوائیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ منگوایا ، انہوں نے کہا: آپ اسے کھولیں ، انہوں نے اسے پڑھنا شروع کیا ، یہاں تک کہ آپ اس مقام پر پہنچے : ” تم فرما دو ! تم لوگ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ کہ جو رزق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نازل کیا ہے اس میں سے کچھ کو تم نے ( اپنی طرف سے ) حرام یا حلال بنا لیا ہے ، تم فرما دو ! کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ( ایسا کرنے کی ) اجازت دی ؟ یا پھر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو ؟ “ ۔ اُن لوگوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کی چراگاہ کے بارے میں آپ کو اجازت دی گئی ہے ؟ یا آپ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : تم جاری رکھو ! یہ فلاں فلاں صورت حال کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جہاں تک چراگاہ کا تعلق ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چراگاہ مقرر کیا ہے ، جو صدقہ کے اونٹوں کے لئے مخصوص ہے ، جب میں نگران بنا تو میں نے بھی وہی کام کیا ، جو انہوں نے کیا تھا ، اور انہوں نے جو کیا تھا ، میں نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا ، راوی کہتے ہیں : ان کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا تھا : میں اس وقت اتنے اتنے سال کا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا ، جن کے بارے میں وہ یہ کہتے رہے : تم اس کو جاری رکھو ! یہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ پھر ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا ، جن سے وہ واقف تھے ، اور ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا ، تو انہوں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، پھر انہوں نے فرمایا : تم لوگ کیا چاہتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ سرکاری عطیات وصول نہ کریں ، کیونکہ یہ مال اس شخص کو ملنا چاہیے ، جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ان بزرگوں کو ملنا چاہیے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس بات پر راضی ہو گئے اور وہ لوگ بھی اس بات پر راضی ہو گئے ، راوی کہتے ہیں : ان لوگوں نے اس پر عہد لے لیا اور اس بارے میں تحریر لے لی اور اس بات پر بھی عہد لیا کہ وہ لوگ عصا کو نہیں توڑیں گے اور جماعت سے الگ نہیں ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس بات پر راضی ہو گئے اور وہ لوگ بھی راضی ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ آئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے ایسا کوئی وفد نہیں دیکھا ، جو اس وفد سے زیادہ بہتر ہو ، جس شخص کی کھیتی باڑی ہو ، وہ اپنی کھیتی باڑی میں مشغول ہو جائے ، جس شخص کے پاس جانور ہوں ، وہ اُن کا دودھ دوہنے لگے ، کیونکہ اب تم لوگوں کو دینے کے لئے ہمارے پاس مال نہیں ہے ، یہ مال اب اُس شخص کو ملے گا ، جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو ، اور یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بزرگوں کو ملے گا ، راوی کہتے ہیں : تو لوگ غصے میں آ گئے اور انہوں نے کہا: یہ بنو امیہ کی طرف سے آنے والا فریب ہے ، وفد کے لوگ راضی ہو کر واپس چلے گئے ، جب وہ لوگ راستے میں کسی مقام پر پہنچے ، تو اسی دوران ایک سوار ان کے سامنے آیا ، پھر وہ سوار ان سے جدا ہو گیا ، پھر وہ ان کے پاس آیا اور انہیں برا کہنے لگا ، ان لوگوں نے اسے پکڑ لیا ، ان لوگوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ تمہارا کوئی خاص معاملہ لگتا ہے ، اس نے کہا: میں امیرالمؤمنین کا قاصد ہوں ، جو مصر میں ان کے گورنر کے پاس جا رہا ہے ، ان لوگوں نے اس کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک تحریر موجود تھی ، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھی اور اُس پر ان کی مہر بھی لگی ہوئی تھی ، کہ ان لوگوں کو مصلوب کر دیا جائے ، یا ان کی گردنیں اڑا دی جائیں ، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ لوگ واپس آ گئے اور انہوں نے کہا: انہوں نے عہد توڑ دیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے خون کو حلال قرار دیا ہے ، وہ لوگ مدینہ منورہ آئے ، وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان لوگوں نے کہا: کیا آپ نے اللہ کے دشمن کو نہیں دیکھا ؟ انہوں نے ہمارے بارے میں اس اس طرح کی تحریر لکھوائی ہے ، آپ اُٹھ کر ہمارے ساتھ ان کی طرف جائیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ اٹھ کر نہیں جاؤں گا ، ان لوگوں نے کہا: پھر انہوں نے کیوں ہماری طرف خط لکھا ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! انہوں نے تمہاری طرف کبھی کوئی خط نہیں لکھا ، پھر وہ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ، پھر ان میں سے کسی نے کہا: کیا ان کی خاطر تم لوگ جنگ کرنا چاہ رہے ہو ؟ کیا ان کی خاطر تم غصہ کر رہے ہو ؟ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے اور مدینہ منورہ کے باہر موجود ایک بستی میں آ کے ٹھہر گئے ، وہ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : آپ نے ہمارے بارے میں اس اس طرح کا خط لکھا ہے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو صورتیں ہیں ، یا تو یہ ہے کہ تم لوگ دو گواہ پیش کرو ، یا پھر یہ ہے کہ میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیتا ہوں ، کہ نہ میں نے اسے لکھا ہے ، نہ املاء کروایا ہے اور نہ ہی مجھے اس بارے میں علم ہے ، اور تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کوئی شخص دوسرے کی طرف سے کچھ بھی لکھ سکتا ہے ، اور انگوٹھی کے نقش کی نقل بھی تیار کی جا سکتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا ، ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور فرمایا : السلام علیکم ! راوی کہتے ہیں : میں نے کسی کو ان کے سلام کا جواب دیتے ہوئے نہیں سنا ، البتہ کسی نے دل میں جواب دیدیا ہو تو اس کا معاملہ مختلف ہو گا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ میں نے اپنے مال میں سے بئر رومہ کو خریدا تھا ، تاکہ اس کے ذریعے میٹھا پانی حاصل کیا جائے اور میں نے اس کنویں کے بارے میں اپنے ڈول کو مسلمانوں کے کسی بھی فرد کے ڈول کی مانند قرار دیدیا تھا ، انہیں جواب دیا گیا : جی ہاں ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم مجھے اسی کنویں کا پانی پینے سے کیوں روک رہے ہو ؟ مجھے کھارے پانی کے ذریعے افطاری کرنا پڑی ہے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ میں نے اپنے مال میں سے اتنی اتنی رقم کے عوض میں ، مسجد میں توسیع کروائی تھی ، لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مجھ سے پہلے کسی کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہو ؟ پھر انہوں نے کچھ اور اُمور کا ذکر کیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمائے تھے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات ذکر کی تھی کہ انہوں نے مفصل سورتوں کی کتابت اپنے ہاتھ کے ذریعے کی تھی ، راوی کہتے ہیں : تو اسی دوران ممانعت پھیل گئی اور یہ کہا: گیا : امیرالمؤمنین سے رک جاؤ ! ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوسعید کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12000
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح