حدیث نمبر: 12005
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَا : دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَهُوَ آخِذٌ بِتَلَابِيبِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا لَكَ ، مَا لَكَ ، وَلِابْنِ أَخِيكَ ؟ قَالَ : زَعَمَ أَنَّهُ لَا يَكْفُرُ عُثْمَانُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : تُؤْمِنُ بِمَا يَكْفُرُ بِهِ عُثْمَانُ ، وَتَكْفُرُ بِمَا يُؤْمِنُ بِهِ عُثْمَانُ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَأَرْسِلِ ابْنَ أَخِيكَ ، فَلَمَّا خَرَجَ الْحَسَنُ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ : يَا عَمَّارُ ، أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ آمَنَ بِاللَّهِ وَكَفَرَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ؟ قَالَ : بَلَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گریبان کو پکڑا ہوا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے دریافت کیا : آپ کا اور آپ کے بھتیجے کا کیا معاملہ ہے ؟ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کہتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کفر کا ارتکاب نہیں کیا ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : کیا تم اس چیز پر ایمان رکھتے ہو ؟ جس کا انکار سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا ہو ، اور کیا تم اس چیز کا انکار کر سکتے ہو ، جس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایمان لائے ہوں ؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم اپنے بھتیجے کو چھوڑ دو ! جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چلے گئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمار ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انہوں نے لات اور عزیٰ کا انکار کیا تھا ؟ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی میں یہ بات جانتا ہوں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12005
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً