حدیث نمبر: 12008
وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ : نَامَ عُثْمَانُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَ : وَلَوْلَا أَنْ تَقُولَ النَّاسُ تَمَنَّى عُثْمَانُ أُمْنِيَتَهُ لَحَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا . قَالَ : قُلْنَا : حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ ، فَلَسْنَا نَقُولُ كَمَا تَقُولُ النَّاسُ . قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنَامِي هَذَا ، فَقَالَ : إِنَّكَ شَاهِدٌ مَعَنَا الْجُمُعَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَلْقَمَةَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

کثیر بن صلت بیان کرتے ہیں : جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اس دن کا واقعہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سو گئے ، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ، جب وہ بیدار ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مرنے کی آرزو کر رہے ہیں ، تو میں نے تمہیں ایک بات بتانی تھی ، راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا: آپ بیان کیجئے ! اللہ تعالیٰ آپ کو ٹھیک رکھے ، ہم اس طرح نہیں کہیں گے ، جس طرح لوگ کہتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : تم نے جمعہ میں ہمارے ساتھ شریک ہونا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلقمہ ہے ، جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف