حدیث نمبر: 12010
وَعَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ عَبْدًا مَمْلُوكًا ، وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَقَالُوا لِي : اصْبِرْ فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ . ثُمَّ دَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام مسلم ابوسعید بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بیس غلاموں کو آزاد کیا ، پھر انہوں نے شلوار منگوائی اور اسے پہن لیا ، حالانکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت یا زمانہ اسلام میں کبھی اسے نہیں پہنا تھا ، پھر انہوں نے فرمایا : گزشتہ رات میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے ، انہوں نے مجھ سے کہا: ہے : تم صبر سے کام لینا ، یہاں تک کہ کل تم نے ہمارے ساتھ افطاری کرنی ہے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید منگوایا ، اسے اپنے سامنے کھول لیا اور جب انہیں شہید کیا گیا ، تو وہ قرآن مجید ان کے آگے موجود تھا ۔
یہ روایت عبداللہ نے اور ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12010
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح