مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ . باب: بلا عنوان
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ فِتْنَةً ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا أُدْرِكُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ عُمَرَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُدْرِكُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . فَقَالَ عُثْمَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أُدْرِكُهَا ؟ قَالَ : " بِكَ يُبْتَلَوْنَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَاعِزٌ التَّمِيمِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا میں اس کا زمانہ پاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا میں اس کو پاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اس کو پاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے حوالے سے وہ لوگ آزمائش میں مبتلا ہوں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ماعز تمیمی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔