کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: یوم جرعہ کا بیان
حدیث نمبر: 12017
عَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْحُدَّانِيِّ - حَيٍّ مِنْ مُرَادٍ - قَالَ : دَفَعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ ، وَأَبِي مَسْعُودٍ وَهُمَا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ أَيَّامَ الْجَرَعَةِ ، حَيْثُ صَنَعَ النَّاسُ بِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ مَا صَنَعُوا ، وَأَبُو مَسْعُودٍ يُعَلِّمُ النَّاسَ وَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا أَرَى أَنْ تَرْتَدَّ عَلَى عَقِبَيْهَا حَتَّى يَكُونَ فِيهَا دِمَاءٌ . فَقَالَ حُذَيْفَةُ : وَاللَّهِ لَتَرْتَدَّنَّ عَلَى عَقِبَيْهَا ، وَلَا يَكُونُ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ ، وَلَا أَعْلَمُ الْيَوْمَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا عَلِمْتُهُ وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ . ¤
محمد محی الدین
ابوثور حدانی ، یہ مراد قبیلے کی ایک شاخ سے تعلق رکھتا ہے ، وہ بیان کرتا ہے : میں ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، یہ دونوں جمعہ کے دنوں میں مسجد کوفہ میں موجود تھے ( جرعہ کوفہ میں موجود ایک جگہ کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا ) یہ اس موقع کی بات ہے جب لوگوں نے سعید بن عاص کے ساتھ مخصوص سلوک کیا تھا ، سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ معاملہ اس وقت تک ختم ہو گا ، جب تک اس میں خون نہیں بہایا جاتا ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ معاملہ ختم ہو جائے گا اور اس میں خون نہیں بہایا جائے گا ، اور اس کے بارے میں ، میں آج جو کچھ جانتا ہوں ، یہ میں اس وقت بھی جانتا تھا ، جب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12017
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12018
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْحُدَّانِيِّ قَالَ دَفَعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ ، وَأَبِي مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ يَقُولُ : وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ تَرْتَدَّ عَلَى عَقِبَيْهَا وَلَمْ يُهْرَاقَ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ . فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهَا سَتَرْتَدُّ عَلَى عَقِبَيْهَا وَإِنَّهُ يُهْرَاقُ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، فَيَنْكُسُ قَلْبُهُ فَتَعْلُوهُ اسْتُهُ ، يُقَاتِلُ فِي الْفِتْنَةِ الْيَوْمَ وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا . فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : صَدَقْتَ ، هَكَذَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِتْنَةِ . ¤ رَوَاهُ وَالَّذِي قَبْلَهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ هَذِهِ الرِّوَايَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي ثَوْرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ابوثور حدانی بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ معاملہ اس وقت تک ختم ہو گا ، جب تک اس میں خون نہیں بہایا جاتا ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ معاملہ ختم ہو جائے گا اور اس میں قتل و غارت گری نہیں ہو گی ، ایک شخص صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا ، یا شام کے وقت مومن ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو جائے گا ، اس کا دل اُلٹ جائے گا اور اس کی پشت اوپر آ جائے گی ، وہ شخص جو آج فتنے کے بارے میں جنگ کر رہا ہے ، کل اللہ تعالیٰ اسے مار دے گا ، تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا: ہے ، فتنے کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حدیث بیان کی ہے ۔
یہ روایت اور اس سے پہلے والی روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوثور کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12018
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (253/15)»