حدیث نمبر: 11993
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ : لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ ، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ : مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : أَبْلِغْهُ عَنِّي أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ - قَالَ عَاصِمٌ : يَوْمَ أُحُدٍ - وَلَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ ، وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ . قَالَ : فَانْطَلَقَ ، فَخَبَّرَ بِذَلِكَ عُثْمَانَ . قَالَ : فَقَالَ : أَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ ، فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ . وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَتْ ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ فَقَدْ شَهِدَ . وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ ، فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا أَنَا وَلَا هُوَ ، فَائْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِطُولِهِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ولید بن عقبہ سے ہوئی ، تو ولید نے اُن سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے امیرالمؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ زیادتی کی ہے ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم انہیں میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو ! کہ یوم عینین کے دن میں فرار نہیں ہوا تھا ، عاصم نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد غزوہ اُحد کا دن ہے ( انہوں نے یہ بھی فرمایا : ) اور میں غزوہ بدر میں شرکت سے پیچھے نہیں رہا تھا اور میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کو ترک بھی نہیں کیا ہے ، راوی کہتے ہیں : ولید گئے اور انہوں نے اس بارے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بتایا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک اس کے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ میں یوم عینین کو فرار نہیں ہوا تھا ، تو وہ مجھے ایک ایسے گناہ کے حوالے سے کیسے عار دلا سکتا ہے ؟ جس سے اللہ تعالیٰ نے درگزر کیا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بیشک وہ لوگ جو تم میں سے پیٹھ پھیر گئے تھے ، اس دن جب دو لشکر ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ( دراصل ) ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔ “ جہاں تک اُس کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ بدر کے دن پیچھے رہ گیا تھا ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری کر رہا تھا ، یہاں تک کہ اُن کا انتقال ہو گیا تھا ، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے حصہ مقرر کیا تھا اور جس شخص کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ مقرر کیا ہو ، وہ گویا ( اس جنگ میں ) شریک ہوا تھا ۔ جہاں تک اُن کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ، تو اس بات کی طاقت نہ میں رکھتا ہوں اور نہ وہ رکھتے ہیں ، تم اُن کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بات بتا دو !
یہ روایت امام أحمد اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اس کی مانند طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11993
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (132) أخرجه احمد فى المسند (490)»