مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ ، فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَةِ الَّتِي تَلِي مَقَامَ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَسَكَتُوا ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا ؟ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّكَ تَكُونُ فِي جَمَاعَةِ قَوْمٍ يَسْمَعُونَ نِدَائِي آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ ثُمَّ لَا تُجِيبُنِي ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ أَتَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا ، لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا طَلْحَةُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا مَعَهُ مَنْ أُمَّتِهِ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ هَذَا - يَعْنِينِي - رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ " ؟ قَالَ طَلْحَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ثُمَّ انْصَرَفَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَفِيهِ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ وَأَسْقَطَ أَبَا عُبَادَةَ مِنَ السَّنَدِ . ¤سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، جب جنازگاہ میں ان کا محاصرہ کیا گیا تھا اور وہاں اتنے لوگ تھے کہ اگر کوئی پتھر پھینکا جاتا ، تو وہ کسی نہ کسی شخص کے سر پر جا کے لگتا ، میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے مقام جبرائیل کے ساتھ والی کھڑکی کی طرف سے جھانک کر باہر دیکھا اور فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہیں ؟ لوگوں خاموش رہے ، پھر انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہیں ؟ تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : کیا میں تمہیں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ میری یہ رائے نہیں تھی کہ تم ایسی قوم کی جماعت میں ہو گے جو میری پکار کو سن رہے ہوں گے اور پھر بھی تم نے مجھے جواب نہیں دیا ؟ اے طلحہ ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کیا تمہیں وہ دن یاد ہے ؟ جب میں اور تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں مقام پر موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے اصحاب میں سے میرے اور تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے یہ فرمایا تھا : ” اے طلحہ ! ہر ایک نبی کے ساتھ اُس کے اصحاب میں سے ایک رفیق ہوتا ہے ، جس کا تعلق اُس ( نبی ) کی امت سے ہوتا ہے اور وہ رفیق اُس کے ساتھ جنت میں ہو گا اور عثمان بن عفان جنت میں میرا رفیق ہو گا “ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا ایک حصہ ” منقطع “ سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبادہ زرقی ہے اور وہ متروک ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے سند میں ابوعبادہ کا نام ساقط کر دیا ہے ۔