حدیث نمبر: 11996
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ : دَعَا عُثْمَانُ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكُمْ ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي ، نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ ؟ وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ . فَقَالَ [ عُثْمَانُ ]: لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ أَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ . فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ ؟ - يَعْنِي عَمَّارًا - أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِي ، نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ ، فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الدَّهْرَ هَكَذَا ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اصْبِرْ " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین

سالم بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو بلوایا ، جن میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم سے یہ پوچھنے لگا ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ تم میری تصدیق کرو ، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیگر تمام لوگوں پر قریش کو ترجیح دیتے تھے ؟ اور تمام قریش پر بنو ہاشم کو ترجیح دیتے تھے ؟ لوگ خاموش رہے ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر جنت کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہوتیں ، تو میں وہ بنو امیہ کو دیدیتا ، یہاں تک کہ اُن کا ہر ایک فرد جنت میں داخل ہو جاتا ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بلوایا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس کے حوالے سے حدیث بیان کروں ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مراد ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تھے ، ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، ہم کھلے میدان میں چلتے ہوئے اس کے والد ، اس کی والدہ اور اس کے پاس آئے ، جنہیں تکلیف پہنچائی جا رہی تھی ، عمار کے والد نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم صبر سے کام لو ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! آل یاسر کی مغفرت فرما دے ! اور تو نے ایسا کر دیا ہے ۔ ( یا یہ مطلب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم یہ روایت منقطع ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11996
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (439)»