کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس چیز کا بیان کہ جو چیز نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے درمیان باہمی طور پر ہوئی اور ان کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 11973
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِطُولِهِ فِي كِتَابِ الْقَدَرِ ، وَفِيهِ مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب میرے اصحاب کا ذکر ہو ، تو ( اُن پر تنقید کرنے کے حوالے سے ) رک جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو طویل روایت کے طور پر کتاب القدر میں گزر چکی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسہر بن عبدالملک ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11973
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10448)»
حدیث نمبر: 11974
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ حَفِظَنِي فِي أَصْحَابِي وَرَدَ عَلَى حَوْضِي ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْنِي فِي أَصْحَابِي لَمْ يَرَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مِنْ بَعِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَبِيبٌ كَاتِبُ مَالِكٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو میرے اصحاب کے حوالے سے میری حفاظت کرے گا ، وہ میرے حوض پر آئے گا ، اور جو شخص میرے اصحاب کے بارے میں ، میری حفاظت نہیں کرے گا ، وہ قیامت کے دن مجھے صرف دور سے دیکھ پائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبیب ہے ، جو امام مالک کا کاتب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11974
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13125)»
حدیث نمبر: 11975
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ كَلَامٌ ، فَذُكِرَ خَالِدٌ عِنْدَ سَعْدٍ فَقَالَ : مَهْ ، فَإِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے درمیان تکرار ہو گئی ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا ذکر منفی انداز میں کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : رک جاؤ ! کیونکہ جو ہمارے درمیان اختلاف ہے وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11975
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3810)»
حدیث نمبر: 11976
وَعَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَقِيَ الزُّبَيْرَ فِي السُّوقِ ، فَتَعَاتَبَا فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ ، ثُمَّ أَغْلَظَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ لِي . فَضَرَبَهُ الزُّبَيْرُ حَتَّى وَقَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی ملاقات بازار میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں اُن دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تکرار کی ، اُس کے بعد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے سختی سے بولنے لگے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ سن نہیں رہے ہیں ؟ یہ جو مجھ سے کہہ رہا ہے ؟ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ضرب لگائی ، یہاں تک کہ وہ گر گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11976
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (233)»
حدیث نمبر: 11977
وَعَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ : جَاءَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِلَى عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالُوا : إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ ، فَقَالَ : وَمَا أَقْدَمَكُمْ شَيْءٌ غَيْرَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوراشد بیان کرتے ہیں : اہل بصرہ میں سے کچھ افراد عبید بن عمیر کے پاس آئے ، انہوں نے یہ کہا: اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والے آپ کے بھائیوں نے ، آپ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ہے ، انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ صرف اسی مقصد کے لئے آئے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ ایک ایسی امت ہے جو گزر چکی ہے ، اس نے جو کمایا تھا اس کا اجر نہیں مل جائے گا ، اور تم جو کماؤ گے اس کا اجر تمہیں ملے گا ، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں ، اس کے بارے میں تم سے حساب نہیں لیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 11978
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے اصحاب کے لئے قتل ہو جانا ہی کافی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11978
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8196 و 8195) اخرجه احمد فى المسند (472/3)»
حدیث نمبر: 11979
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ يَكُونُ فِيهَا وَيَكُونُ " . فَقُلْنَا : إِنْ أَدْرَكْنَا ذَلِكَ هَلَكْنَا . قَالَ : " بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ "
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد فتنے ہوں گے ، جن میں یہ ہو گا اور وہ ہو گا ، ہم نے عرض کی : اگر ہم نے وہ زمانہ پایا ، تو ہم تو ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے اصحاب کے لئے قتل ہو جانا ہی کافی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11979
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (348 و 346 و 347)»
حدیث نمبر: 11980
وَفِي رِوَايَةٍ " يَذْهَبُ النَّاسُ فِيهَا أَسْرَعَ ذَهَابٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لوگ ان فتنوں میں تیزی سے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اوریہ روایت امام بزار نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11980
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ اس
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (349)»
حدیث نمبر: 11981
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَلَمْ نَحْسَبْ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى نَزَلَتْ فِينَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيَهِمُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم اس فتنے سے ڈرو ! جو بطور خاص ان لوگوں کو لاحق ہو گا کہ تم میں سے جنہوں نے ظلم کیا ہو ۔ “ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہم اس بارے میں بات چیت کیا کرتے تھے اور ہم یہ نہیں گمان کرتے تھے کہ ہم اس کے متعلقہ لوگ ہوں گے یہاں تک کہ یہ فتنہ ہمارے درمیان نازل ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11981
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3266)»
حدیث نمبر: 11982
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک دو بڑے گروہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے ، اور اُن دونوں کا دعویٰ ( یا دعوت ) ایک ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب سے نقل کی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11982
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3267)»
حدیث نمبر: 11983
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " رَأَيْتُ مَا تَلْقَى أُمَّتِي بَعْدِي وَسَفْكَ بَعْضِهِمْ ، وَسَبَقَ ذَلِكَ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - كَمَا سَبَقَ فِي الْأُمَمِ ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُوَلِّيَنِي شَفَاعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيهِمْ فَفَعَلَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ رِوَايَةَ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ أَنْبَأَنَا أَنَسٌ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، وَرِوَايَةَ الطَّبَرَانِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” میں نے یہ چیز دیکھی کہ میری امت ، میرے بعد جس صورت حال کا سامنا کرے گی اور کس طرح وہ ایک دوسرے کا خون بہائیں گے ، اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیز پہلے سے طے ہو چکی ہے ، جس طرح ان سے پہلے کی امتوں کے بارے میں پہلے سے طے ہوئی تھی ، تو میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : وہ قیامت کے دن اُن لوگوں کے بارے میں مجھے شفاعت کا درجہ عطا کرے ، تو اُس نے ایسا کر دیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام أحمد کی روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ ابن ابوحسین بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے جبکہ امام طبرانی کی روایت میں یہ ہے کہ یہ زہری کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11983
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (221/23) اخرجه احمد فى المسند (427/6)»
حدیث نمبر: 11984
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَذَابُ أُمَّتِي فِي دُنْيَاهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کا عذاب انہیں دنیا میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11984
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (893)»
حدیث نمبر: 11985
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، قَدْ رُفِعَ عَنْهُمُ الْعَذَابُ إِلَّا عَذَابَهُمْ أَنْفُسَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت ، امت مرحومہ ہے ، ان سے عذاب اٹھا لیا گیا ہے ، البتہ ان کا عذاب خود ان کے اپنے ہاتھوں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ اموی ہے اور وہ ضعیف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6204)»
حدیث نمبر: 11986
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ يَعُودُهُ ، فَقَالَ لَهُ : وَمَوْعِدُهُمُ السَّاعَةُ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ عبیداللہ بن زیاد کی عیادت کرنے کے لئے اُس کے پاس تشریف لائے ، سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس اُمت کی سزا ، تلوار کے ذریعے ہو گی ، اور ان کے ساتھ وعدے کا وقت قیامت ہے ، اور قیامت بہت سخت اور بہت ہی تلخ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (202/20)»
حدیث نمبر: 11987
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، فَرَأَيْتُهُ يُعَاقَبُ عُقُوبَةً شَدِيدَةً ، فَجَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُقُوبَةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالسَّيْفِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس سے نکلا ، میں نے اسے دیکھا کہ وہ شدید ترین سزا دے رہا ہے ، پھر میں ایک صحابی کے پاس آ کر بیٹھا ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت کی سزا ، تلوار کے ذریعے ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 11988
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : جَعَلَتْ رُءُوسُ هَذِهِ الْخَوَارِجِ تَجِيءُ فَأَقُولُ إِلَى النَّارِ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ : مَا يُدْرِيكَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " جَعَلَ اللَّهُ عَذَابَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي دُنْيَاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِاخْتِصَارٍ وَالْأَوْسَطِ كَذَلِكَ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوبردہ بیان کرتے ہیں : خوارج کے سر لائے گئے ، تو میں نے یہ کہا: یہ جہنم میں جائیں گے ، تو سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں کیا پتہ ( کہ کیا ہو گا ؟ ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کا عذاب ، اُن کی دنیا میں رکھ دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح