حدیث نمبر: 11995
وَعَنْ أَبِي عَوْنٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ عَمَّا بَلَغَنِي عَنْكَ ؟ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ بَعْضَ الْعُذْرِ . فَقَالَ عُثْمَانُ : وَيْحَكَ إِنِّي قَدْ حَفِظْتُ وَسَمِعْتُ وَلَيْسَ كَمَا سَمِعْتَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهُ سَيُقْتَلُ أَمِيرٌ وَيَنْتَزِي مُنْتَزٍ " ، وَإِنِّي أَنَا الْمَقْتُولُ وَلَيْسَ عُمَرُ ، إِنَّمَا قَتَلَ عُمَرَ وَاحِدٌ ، وَإِنَّهُ يُجْتَمَعُ عَلَيَّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوعون انصاری بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمہارے بارے میں مجھ تک جو اطلاع پہنچی ہے ، کیا تم اُس کام سے باز آنے والے نہیں ہو ؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُن کے سامنے کوئی عذر پیش کیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیا ناس ہو ! مجھے بھی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ) یاد ہے اور میں نے سنا بھی ہوا ہے اور وہ ویسا نہیں ہے ، جس طرح تم نے سنا ہوا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب ایک امیر کو قتل کر دیا جائے گا اور برائی کی طرف تیزی سے جانے والے ، برائی کی طرف جائیں گے ۔ “ وہ مقتول شخص میں ہوؤں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مراد نہیں ہیں ، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تو ایک ہی شخص نے قتل کیا تھا اور میرے خلاف اجتماع اکٹھا ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (479)»