مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ أَزْهَرَ أَبِي رَوَّاعٍ قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ قَالَ : إِنَّا وَاللَّهِ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا ، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا ، وَيَغْزُو مَعَنَا ، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : فَقَالَ لَهُ أَعْيَنُ ابْنُ امْرَأَةِ الْفَرَزْدَقِ : يَا نَعْثَلُ ، إِنَّكَ قَدْ بَدَّلْتَ . فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : أَعْيَنُ . فَقَالَ : بَلْ أَنْتَ أَيُّهَا الْعَبْدُ . قَالَ : فَوَثَبَ النَّاسُ إِلَى أَعْيَنَ . قَالَ : وَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يَزَعُهُمْ عَنْهُ حَتَّى أَدْخَلَهُ دَارَهُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبَّادِ بْنِ زَاهِرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤عبادہ بن ازہر ابورواع بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! ہم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر اور حضر میں ساتھ رہے ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیماروں کی عیادت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جنازوں میں شریک ہوتے تھے ، ہمارے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے تھے ، تھوڑے اور زیادہ ہر معاملے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے ، اور کچھ لوگ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتا رہے ہیں ، حالانکہ انہوں نے تو کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی نہیں کی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” فرزدق کی بیوی کے بیٹے اعین نے : اُن سے کہا: اے نعثل ! تم نے تبدیلی کر دی ہے ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ اعین ہے ، اس نے کہا: بلکہ تم غلام ہو ، راوی کہتے ہیں : تو لوگ اچھل کر اعین کی طرف گئے ، راوی بیان کرتے ہیں : بنو لیث سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لوگوں کو پیچھے کرنا شروع کیا ، یہاں تک کہ اعین کو اُس کے گھر میں داخل کیا ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عباد بن ظاہر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔