مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : كَانَ لِعُثْمَانَ آذِنٌ ، فَكَانَ يَخْرُجُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : فَخَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى وَالْآذِنُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ الْآذِنُ نَاحِيَةً ، وَلَفَّ رِدَاءَهُ فَوَضَعَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ، وَاضْطَجَعَ ، وَوَضَعَ الدِّرَّةَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَقْبَلَ عَلِيٌّ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ وَبِيَدِهِ عَصًا ، فَلَمَّا رَآهُ الْآذِنُ مِنْ بَعِيدٍ قَالَ : هَذَا عَلِيٌّ قَدْ أَقْبَلَ ، فَجَلَسَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ عَلَيْهِ رِدَاءَهُ ، فَجَاءَ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ : اشْتَرَيْتَ ضَيْعَةَ آلِ فُلَانٍ ، وَلِوَقْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَائِهَا حَقٌّ ، أَمَا إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَا يَشْتَرِيهَا غَيْرُكَ . فَقَامَ عُثْمَانُ ، وَجَرَى بَيْنَهُمَا كَلَامٌ لَا أَرْوِيهِ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَجَاءَ الْعَبَّاسُ فَدَخَلَ بَيْنَهُمَا ، وَرَفَعَ عُثْمَانُ عَلَى عَلِيٍّ الدِّرَّةَ ، وَرَفَعَ عَلِيٌّ عَلَى عُثْمَانَ الْعَصَا ، فَجَعَلَ الْعَبَّاسُ يُسْكِنُهُمَا وَيَقُولُ لِعَلِيٍّ : أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، وَيَقُولُ لِعُثْمَانَ : ابْنُ عَمِّكَ . فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى سَكَتَا . فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ رَأَيْتُهُمَا وَكُلٌّ مِنْهُمَا آخِذٌ بِيَدِ صَاحِبِهِ وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک اطلاع دینے والا مخصوص تھا ، وہ ان کے آ گے آگے نماز کے لئے نکلا کرتا تھا ، ایک دن وہ نماز ادا کرنے کے لئے نکلے ، اطلاع دینے والا شخص ان کے آگے آگے تھا ، پھر وہ تشریف لائے ، تو اطلاع دینے والا شخص ایک کونے میں بیٹھ گیا ، انہوں نے چادر لپیٹی ، اُسے اپنے سر کے نیچے رکھا اور لیٹ گئے ، انہوں نے اپنا درّہ اپنے آگے رکھا ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے تہبند باندھا ہوا تھا ، چادر اوڑھی ہوئی تھی اور ان کے ہاتھ میں عصا تھا ، جب اطلاع دینے والے نے انہیں دور سے دیکھا تو بولا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ رہے ہیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ، انہوں نے اپنی چادر اوڑھ لی ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے سرہانے کھڑے ہو گئے ، انہوں نے کہا: آپ نے آل فلاں کی زمین خریدی ہے ؟ جبکہ وہاں کے پانی میں اللہ کے رسول کے وقف کا حق ہے ، مجھے یہ بات پتہ ہے کہ اُسے آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں خرید سکتا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، ان دونوں کے درمیان ایسی بات چیت ہوئی کہ میں اُسے روایت نہیں کروں گا ، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں ، اسی دوران سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے ان دونوں کے درمیان دخل دیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر درہ اٹھا لیا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عصا اٹھا لیا تھا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان دونوں کو پرسکون کروانے کی کوشش کرتے رہے ، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہہ رہے تھے : یہ امیرالمؤمنین ہیں ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ کہہ رہے تھے : یہ آپ کے چچازاد ہیں ، وہ مسلسل ایسا کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ دونوں حضرات خاموش ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ) اگلے دن میں نے ان دونوں حضرات کو دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور وہ دونوں آپس میں بات چیت کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔