کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا انتهى أحدكم إلى المجلس فليسلم فإن بدا له أن يجلس فليجلس ثم إذا قام فليسلم فليست الأولى أحق من الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا وہاں بیٹھنے کا ارادہ ہو تو بیٹھ جائے، پھر جب وہاں سے اٹھ کر جانے لگے تو (دوبارہ) سلام کرے، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ حق دار (یا اہم) نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 400
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت حب ك] عن أبي هريرة. الكلم الطيب ٢٠١، الصحيحة ١٨٣.
«إذا أنزل الله بقوم عذابا أصاب العذاب من كان فيهم ثم بعثوا على أعمالهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو وہ عذاب ان تمام لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جو ان کے درمیان موجود ہوتے ہیں، پھر (قیامت کے دن) وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 401
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن ابن عمر. الضعيفة ١٨٥١: ٥١.
«إذا أنفق الرجل على أهله نفقة وهو يحتسبها كانت له صدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 402
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أبي١ مسعود. الصحيحة ٧٢٩.
«إذا أنفقت المرأة من بيت زوجها عن غير أمره فلها نصف أجره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کے حکم کے بغیر (یعنی عام معمول کے مطابق کچھ صدقہ و خیرات) خرچ کرے تو اس کے لیے بھی اس کے (شوہر کے) ثواب کا آدھا حصہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 403
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٣١.
«إذا أنفقت المرأة من بيت زوجها غير مفسدة كان لها أجرها بما أنفقت ولزوجها أجره بما كسب وللخازن مثل ذلك لا ينقص بعضهم من أجر بعض شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے بگاڑ پیدا کیے بغیر (اعتدال کے ساتھ) خرچ کرتی ہے، تو اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے اس کے لیے ثواب ہے، اور اس کے شوہر کے لیے کمانے کا ثواب ہے، اور خزانچی (رکھوالے) کے لیے بھی اسی قدر ثواب ہے، اور ان میں سے کسی کا ثواب دوسرے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 404
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن عائشة. الصحيحة ٧٣٠.
«إذا انقطع شسع أحدكم فلا يمش في نعل واحدة حتى يصلح شسعه ولا يمشي في خف واحد ولا يأكل بشماله ولا يحتب بالثوب الواحد ولا يلتحف الصماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتے میں نہ چلے یہاں تک کہ اپنے تسمے کو درست کر لے، اور نہ ہی ایک موزہ پہن کر چلے، اور نہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے، اور نہ ہی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے، اور نہ صماء (ایسے کپڑے جس میں سے ہاتھ نکالنے کی جگہ نہ ہو) لپیٹنے کا طریقہ اختیار کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 405
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن جابر.
«إذا انقطع شسع نعل أحدكم فلا يمش في الأخرى حتى يصلحها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے (اکیلے جوتے) میں نہ چلے یہاں تک کہ اسے درست کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 406
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد م ن] عن أبي هريرة [طب] عن شداد بن أوس. رياض الصالحين ١٦٥٩.
«إذا أوى أحدكم إلى فراشه فلينفضه بداخلة إزاره فإنه لا يدري ما خلفه عليه ثم ليضطجع على شقه الأيمن ثم ليقل: باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر جائے تو اسے اپنے تہبند کے اندرونی حصے سے جھاڑ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس (بستر) پر کیا چیز آ گئی تھی۔ پھر وہ اپنی دائیں کروٹ پر لیٹے اور یہ دعا پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» (اے میرے رب! میں نے تیرے نام کے ساتھ اپنا پہلو زمین پر رکھا اور تیرے ہی نام کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا، اگر تو میری جان کو روک لے تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 407
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د] عن أبي هريرة. الكلم الطيب ٣٤.
«إذا باتت المرأة هاجرة فراش زوجها لعنتها الملائكة حتى تصبح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی عورت اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (ناراضگی میں) رات گزارتی ہے تو فرشتے صبح ہونے تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 408
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. رياض الصالحين ٢٨٧.
«إذا باع أحدكم الشاة أو اللقحة فلا يحفلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص بکری یا دودھ دینے والی اونٹنی بیچے تو (دھوکہ دینے کی غرض سے) اس کے تھنوں میں دودھ روکے نہ رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 409
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي هريرة. أحاديث البيوع: حم.
«إذا بال أحدكم فلا يمس ذكره بيمينه وإذا دخل الخلاء فلا يتمسح بيمينه وإذا شرب فلا يتنفس في الإناء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہ چھوئے، اور جب بیت الخلاء جائے تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے، اور جب (کچھ) پیے تو برتن کے اندر سانس نہ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 410
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أبي قتادة. صحيح أبي داود ٢٣.
«إذا بايعت فقل لا خلابة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو کہ (میرے ساتھ) کوئی دھوکہ دہی نہیں ہونی چاہیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 411
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د ن] عن ابن عمر٢، [٤] عن أنس. أحاديث البيوع: حم، ابن الجارود. قط - أنس.
«إذا بدا حاجب الشمس فأخروا الصلاة حتى تبرز وإذا غاب حاجب الشمس فأخروا الصلاة حتى تغيب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب سورج کا کنارہ طلوع ہونے لگے تو نماز موخر کر دو یہاں تک کہ وہ پوری طرح ظاہر ہو جائے، اور جب سورج کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز موخر کر دو یہاں تک کہ وہ پوری طرح غروب ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 412
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر.
«إذا بعثتم إلى رجلا فابعثوه حسن الوجه حسن الاسم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میری طرف کسی شخص کو (بطور قاصد) بھیجو تو خوبصورت چہرے اور اچھے نام والے کو بھیجا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 413
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار طس] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٨٦ انظر رقم ٢٥٩.
«إذا بلغ الرجل من أمتي ستين سنة فقد أعذر الله إليه في العمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب میری امت کا کوئی شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے عمر کے معاملے میں اس کے لیے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 414
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٠٨٨.
«إذا بلغ الله العبد ستين سنة فقد أعذر إليه وأبلغ إليه في العمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ساٹھ سال کی عمر تک پہنچا دیتا ہے، تو اس نے اس کے لیے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا اور اسے عمر کی کافی مہلت دے دی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 415
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عبد بن حميد] عن سهل بن سعد. الصحيحة ١٠٨٨.
«إذا بلغ الماء قلتين لم يحمل الخبث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب پانی دو قلہ (ایک مخصوص پیمانہ) کی مقدار کو پہنچ جائے تو وہ نجاست کا اثر قبول نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 416
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٣ حب قط ك هق] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ٥٧، المشكاة ٤٧٧، الإرواء ٣٢.
«إذا بلغ الماء قلتين لم ينجسه شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب پانی دو قلہ کی مقدار کو پہنچ جائے تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کر سکتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ٥٧.
«إذا بلغ أولادكم سبع سنين ففرقوا بين فرشهم وإذا بلغوا عشر سنين فاضربوهم على الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو ان کے بستر الگ کر دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز (نہ پڑھنے) پر مارو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط ك] عن سبرة بن معبد. صحيح أبي داود ٥٠٨.
«إذا بلغ بنوا أبي العاص ثلاثين رجلا اتخذوا عباد الله خولا ومال الله دولا وكتاب الله دغلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب بنو ابی العاص کی تعداد تیس مردوں تک پہنچ جائے گی، تو وہ اللہ کے بندوں کو اپنا غلام، اللہ کے مال کو اپنی ذاتی جاگیر (جو صرف امیروں میں گردش کرے)، اور اللہ کی کتاب کو دھوکے اور فریب کا ذریعہ بنا لیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 419
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ع ك] عن أبي سعيد [ك] عن أبي ذر. الصحيحة ٧٤٤.
«إذا بلغت حي على الفلاح فقل: الصلاة خير من النوم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم (فجر کی اذان میں) «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» پر پہنچو تو (اس کے بعد) «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» (نماز نیند سے بہتر ہے) کہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو الشيخ في كتاب الأذان] عن أبي محذورة. صحيح أبي داود ٥١٥ - ٥١٩: حم، د، حب.
«إذا بويع خليفتان فاقتلوا الآخر منهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب (ایک ہی وقت میں) دو خلیفوں کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے، تو ان میں سے بعد والے (دوسرے) کو قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 421
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي سعيد. مختصر مسلم ١٢٠٠.
«إذا تبايع الرجلان فكل واحد منها بالخيار ما لم يتفرقا وكانا جميعا أو يخير أحدهما الآخر فإن خير أحدهما الآخر فتبايعا على ذلك فقد وجب البيع وإن تفرقا بعد أن تبايعا ولم يترك واحد منهما البيع فقد وجب البيع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب دو آدمی آپس میں خرید و فروخت کریں تو ان میں سے ہر ایک کو (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار حاصل ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں اور ایک ساتھ موجود ہوں، یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار دے دے۔ پس اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا اور اسی پر انہوں نے بیع کر لی تو بیع لازم ہو گئی۔ اور اگر وہ خرید و فروخت کے بعد جدا ہو گئے اور ان میں سے کسی نے بھی بیع ترک نہیں کی تب بھی بیع لازم ہو گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن هـ] عن ابن عمر. الإرواء ١٣١٠/١.
«إذا تبايعتم بالعينة وأخذتم أذناب البقر ورضيتم بالزرع وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم عینہ (سود کی ایک قسم) کی خرید و فروخت کرنے لگو گے، گائیوں کی دمیں پکڑ لو گے (یعنی مال مویشی کے کاموں میں مگن ہو جاؤ گے)، کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جسے وہ اس وقت تک دور نہیں کرے گا جب تک کہ تم (مکمل طور پر) اپنے دین کی طرف واپس نہ لوٹ آؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 423
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عمر. الصحيحة١١: حم، ابن شاهين، طب، عد، حل.
«إذا تبعتم الجنازة فلا تجلسوا حتى توضع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کسی جنازے کے ساتھ جاؤ تو اس وقت تک مت بیٹھو یہاں تک کہ اسے (زمین پر) رکھ دیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي سعيد. م عن أبي سعيد.
«إذا تثاءب أحدكم فليرده ما استطاع فإن أحدكم إذا قال: ها ضحك منه الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اسے جہاں تک ہو سکے روکے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی (جمائی لیتے ہوئے آواز نکال کر) 'ہا' کہتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. خ عن أبي هريرة.
«إذا تثاءب أحدكم فليضع يده على فيه فإن الشيطان يدخل مع التثاؤب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے، کیونکہ جمائی کے ساتھ شیطان (منہ کے اندر) داخل ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن أبي سعيد. رياض الصالحين ٨٨٩.
«إذا تثاءب أحدكم في الصلاة فليكظم ما ستطاع فإن الشيطان يدخل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران جمائی آئے تو وہ جہاں تک ہو سکے اسے ضبط کرے، کیونکہ (کھلے منہ سے) شیطان داخل ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن أبي سعيد. مختصر مسلم ٣٤٥، الضعيفة ٢٤٢٠.
«إذا تزوج أحدكم فليقل له: بارك الله لك وبارك عليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شادی کرے تو اسے یہ دعا دی جائے: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ» (اللہ تمہارے لیے برکت دے اور تم پر برکت نازل فرمائے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 428
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحارث طب] عن عقيل بن أبي طالب. آداب الزفاف ٩٠.
«إذا تزوج البكر على الثيب أقام عندها سبعا وإذا تزوج الثيب على البكر أقام عندها ثلاثا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص کسی شوہر دیدہ (شادی شدہ) عورت کے ہوتے ہوئے کسی کنواری لڑکی سے نکاح کرے تو وہ اس کے پاس سات دن قیام کرے، اور جب کسی کنواری لڑکی کی موجودگی میں کسی شوہر دیدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین دن قیام کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أنس. مختصر مسلم ٨٤٠ الصحيحة ١٢٧١: أبو عوانة، خط.
"إذا تزوج العبد فقد استكمل نصف الدين فليتق
الله في النصف الباقي"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی بندہ نکاح کر لیتا ہے تو اس نے اپنا آدھا دین مکمل کر لیا، پس اسے چاہیے کہ وہ باقی آدھے حصے کے بارے میں اللہ سے ڈرے (تقویٰ اختیار کرے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث هب عن أنس. الصحيحة ٦٢٥.
«إذا سميتم بي فلا تكنوا بي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میرے نام پر (اپنا) نام رکھو تو میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 431
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن جابر. تخريج المشكاة ٤٧٠.
«إذا تشهد أحدكم فليتعوذ من أربع: من عذاب جهنم وعذاب القبر وفتنة المحيا والممات ومن شر المسيح الدجال ثم يدعو لنفسه بما بدا له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی (نماز میں) تشہد پڑھے تو چار چیزوں سے پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے، پھر اس کے بعد اپنے لیے جو چاہے دعا کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي هريرة. صفة الصلاة ١٦٣ والإرواء ٣٥٠ ورواه الجماعة إلا البخاري والترمذي وغيرهم: ابن الجارود ٢٧.
«إذا تصافح المسلمان لم تفرق أكفهما حتى يغفر لهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب دو مسلمان آپس میں مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے ہاتھ الگ ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ٥٢٥.
«إذا تطهر الرجل ثم مر إلى المسجد يرعى الصلاة كتب له كاتبه بكل خطوة يخطوها إلى المسجد عشر حسنات والقاعد يرعى الصلاة كالقانت ويكتب من المصلين من حين يخرج من بيته حتى يرجع إليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص طہارت حاصل کرتا ہے پھر نماز کے ارادے سے مسجد کی طرف جاتا ہے تو اس کے ہر قدم پر جو وہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے، اس کا لکھنے والا (فرشتہ) اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے، اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے وہ عبادت گزار کی طرح ہے، اور جب سے وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے، وہ نمازیوں میں ہی شمار ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 434
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب ك هق] عن عقبة بن عامر. صحيح الترغيب ٢٩٧: ابن خزيمة.
«إذا تقاضى إليك رجلان فلا تقض للأول حتى تسمع كلام الآخر فسوف تدري كيف تقضي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہارے پاس دو آدمی فیصلہ کروانے کے لیے آئیں تو پہلے کے حق میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرو جب تک دوسرے کی بات بھی نہ سن لو، (ایسا کرنے سے) تمہیں بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ فیصلہ کیسے کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن علي. الإرواء ٢٦٤٧.
«إذا تكلم الله بالوحى سمع أهل السماء الدنيا صلصلة كجر السلسلة على الصفا فيصعقون فلا يزالون كذلك حتى يأتيهم جبريل حتى إذا جاءهم جبريل فزع عن قلوبهم فيقولون: يا جبريل ماذا قال ربك؟ فيقول: الحق. فيقولون: الحق الحق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے کلام فرماتا ہے تو آسمانِ دنیا کے فرشتے ایک جھنکار سنتے ہیں جیسے صاف پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو، جس سے وہ بے ہوش ہو جاتے ہیں اور اسی حالت میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبریل (علیہ السلام) آتے ہیں، پھر جب جبریل ان کے پاس پہنچتے ہیں تو ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، وہ پوچھتے ہیں: اے جبریل! آپ کے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: حق فرمایا ہے۔ تو وہ سب فرشتے بھی پکار اٹھتے ہیں: حق فرمایا، حق فرمایا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 436
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٢٩٣:ابن خزيمة، هق في الأسماءٍ.
«إذا تمنى أحدكم فليكثر فإنما يسأل ربه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی (اللہ سے کچھ پانے کی) تمنا کرے تو زیادہ کی تمنا کرے، کیونکہ وہ اپنے رب سے ہی مانگ رہا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن عائشة. الصحيحة ١٢٦٦.
«إذا تنخم أحدكم فلا يتنخمن قبل وجهه ولا عن يمينه وليبصقن عن يساره أو تحت قدمه اليسرى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی (مسجد یا نماز میں) تھوکے (یا بلغم پھینکے) تو وہ اپنے چہرے کے سامنے ہرگز نہ تھوکے اور نہ اپنی دائیں طرف تھوکے، بلکہ اسے چاہیے کہ اپنی بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 438
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ١ هـ] عن أبي هريرة وأبي سعيد. الصحيحة ١٢٧٤: حم، م.
«إذا تنخم أحدكم وهو في المسجد فليغيب نخامته لا تصيب جلد مؤمن أو ثوبه فتؤذيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو اور وہ بلغم تھوکے، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی بلغم کو چھپا دے (یعنی مٹی میں دبا دے)، تاکہ وہ کسی مومن کے جسم یا اس کے کپڑے کو لگ کر اسے تکلیف نہ پہنچائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ع ابن خزيمة هب الضياء] عن سعد. الصحيحة ١٢٦٥.