کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا أفاد أحدكم امرأة أو خادما أو دابة فليأخذ بناصيتها وليدع بالبركة وليقل: اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما جبلت عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلت عليه وإن كان بعيرا فليأخذ بذروة سنامه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو کوئی عورت (بطور بیوی) یا خادم یا سواری کا جانور حاصل ہو تو وہ اس کی پیشانی کے بال پکڑے اور برکت کی دعا کرے اور یہ کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ» (اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس خصلت کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس پر اسے پیدا کیا گیا ہے، اور اس کی برائی اور اس خصلت کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس پر اسے پیدا کیا گیا ہے)۔ اور اگر وہ اونٹ ہو تو اس کے کوہان کی چوٹی پکڑے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 360
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث ك هق عن ابن عمرو. آداب الزفاف ١٩.
«إذا أفضى أحدكم بيده إلى فرجه فليتوضأ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ تک لے جائے (اور چھو لے) تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن بسرة بنت صفوان. الصحيحة *١٢٣٥: ك.
«إذا أفضى أحدكم بيده إلى فرجه وليس بينه وبينها حجاب ولا ستر فقد وجب عليه الوضوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ تک لے جائے اور اس کے ہاتھ اور شرمگاہ کے درمیان کوئی پردہ یا کپڑا حائل نہ ہو تو یقیناً اس پر وضو واجب ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الشافعي حب قط ك هق] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٣٥.
"إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد تمرا فليفطر على الماء فإنه طهور"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے کیونکہ یہ سراسر برکت ہے، پس اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 363
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث حم ٤ ابن خزيمة حب عن سلمان بن عامر الضبي. المشكاة ١٩٩٠، الروض ١٢٢.
«إذا أقبل الليل من هاهنا وأدبر النهار من هاهنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب ادھر (مشرق کی طرف) سے رات آ جائے، ادھر (مغرب کی طرف) سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے، تو روزے دار کے افطار کا وقت ہو گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 364
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ت] عن عمر.
«إذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا الرجل المسلم تكذب وأصدقهم رؤيا أصدقهم حديثا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب زمانہ قریب آ جائے گا (یعنی قیامت قریب ہوگی) تو مسلمان آدمی کا خواب شاذ و نادر ہی جھوٹا ہوگا، اور تم میں سے سب سے سچے خواب اسی کے ہوں گے جو باتوں میں سب سے زیادہ سچا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 365
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٥٢٠.
«إذا أقعد المؤمن في قبره أتي ثم شهد أن لا إله إلا الله وأن محمد رسول الله فذلك قوله: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مومن کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس کے پاس (فرشتے) آتے ہیں تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، پس یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ﴾ ”اللہ ایمان والوں کو پختہ بات کے ذریعے ثابت قدم رکھتا ہے۔“ [سورة إبراهيم: 27]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 366
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن البراء. خ عن الراء٢.
«إذا أقيمت الصلاة فطوفي على بعيرك من وراء الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز کھڑی ہو جائے تو تم لوگوں کے پیچھے سے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر (کعبہ کا) طواف کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 367
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أم سلمة. الصحيحة ١٢٥٩: خ.
«إذا أقيمت الصلاة فكبر ثم اقرأ ما تيسر من القرآن ثم اركع حتى تطمئن راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم افعل ذلك في صلاتك كلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز کھڑی ہو جائے تو تکبیر کہو، پھر قرآن میں سے جو تم پر آسان ہو اسے پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع میں چلے جاؤ، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدے میں چلے جاؤ، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدے میں چلے جاؤ، پھر اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 368
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن أبي هريرة. حم، ق، ٣ عن أبي هريرة.
«إذا أقيمت الصلاة فلا تأتوها وأنتم تسعون وأتوها وأنتم تمشون وعليكم السكينة فما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس کی طرف دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ چلتے ہوئے آؤ اور تم پر وقار و سکینت لازم ہے، پس جو (نماز امام کے ساتھ) مل جائے اسے پڑھ لو اور جو چھوٹ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 369
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٥٨٠ وانظروا [إذا ثوب] رقم ٤٥٦.
«إذا أقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے (حجرے سے نکلتا ہوا) نہ دیکھ لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 370
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أبي قتادة زاد [٣] : قد خرجت إليكم. الروض ١٨٣، صحيح أبي داود ٥٥.
«إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز (فرض) کھڑی ہو جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں (پڑھی جائے گی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 371
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ٤] عن أبي هريرة. الإرواء ٤٩٧، صحيح أبي داود ١١٥, الروض ١٠٤٠، مختصر مسلم ٢٦٣.
«إذا أقيمت الصلاة وأحدكم صائم فليبدأ بالعشاء قبل صلاة المغرب ولا تعجلوا عن عشائكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز کھڑی ہو جائے اور تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے مغرب کی نماز سے پہلے رات کے کھانے (افطار) سے ابتدا کرنی چاہیے، اور اپنے رات کے کھانے سے جلدی نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 372
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن أنس. فتح الباري ٢/٢٣٤: طس.
«إذا أقيمت الصلاة وأراد الرجل الخلاء فليبدأ بالخلاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز کھڑی ہو جائے اور آدمی قضاء حاجت کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ پہلے قضاء حاجت کے لیے جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 373
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك الشافعي حب ت ن هـ حب ك هق] عن عبد الله بن أرقم. صحيح أبي داود ٨٠: د، ابن خزيمة.
«إذا أقيمت الصلاة وحضر العشاء فابدءوا بالعشاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز کھڑی ہو جائے اور رات کا کھانا سامنے آ جائے تو پہلے رات کا کھانا کھا لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 374
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن أنس [ق هـ] عن ابن عمر [خ هـ] عن عائشة [حم طب] عن سلمة بن الأكوع [طب] عن ابن عباس.
«إذا اكتحل أحدكم فليكتحل وترا وإذا استجمر فليستجمر وترا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی سرمہ لگائے تو طاق عدد میں لگائے، اور جب پتھروں سے استنجاء کرے تو طاق عدد استعمال کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث حم عن أبي هريرة. الأحاديث الصحيحة ١٢٦٠.
«إذا أكثبوكم فارموهم بالنبل واستبقوا نبلكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب وہ (دشمن) تمہارے قریب آ جائیں تو ان پر تیر برساؤ اور (آخری وقت کے لیے) اپنے کچھ تیر بچا کر رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ د] عن أبي أسيد عن ... تخريج فقه السيرة ٢٤٢.
«إذا اكفر الرجل أخاه فقد باء بها أحدهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کو کافر کہے، تو ان دونوں میں سے ایک ضرور اس (کفر) کے ساتھ لوٹے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 377
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر.
«إذا أكل أحدكم طعاما فسقطت لقمته فليمط ما رابه منها ثم ليطعمها ولا يدعها للشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی کھانا کھا رہا ہو اور اس کا لقمہ گر جائے، تو اس پر لگنے والی گندگی کو ہٹا دے اور پھر اسے کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 378
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن جابر. الإرواء ١٩٧١.
«إذا أكل أحدكم طعاما فلا يمسح يده بالمنديل حتى يلعقها أو يلعقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے یہاں تک کہ وہ اسے خود چاٹ لے یا (کسی کو) چٹا لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 379
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د هـ] عن ابن عباس [حم م ن هـ] عن جابر بزيادة: [فإنه لا يدري في أي طعامه تكون البركة] . الإرواء ١٩٧٠، الصحيحة ٣٩٠.
«إذا أكل أحدكم طعاما فليذكر اسم الله فإن نسي أن يذكر الله في أوله فليقل: بسم الله على أوله وآخره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اللہ کا نام لے، پس اگر وہ شروع میں اللہ کا نام لینا بھول جائے تو کہے: «بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ» (اللہ کے نام کے ساتھ اس کے شروع اور آخر میں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 380
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت ك] عن عائشة. الكلم الطيب ١٨٢، الإرواء ١٩٦٥.
«إذا أكل أحدكم طعاما فليقل: اللهم بارك لنا فيه وأبدلنا خيرا منه وإذا شرب لبنا فليقل: اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه فإنه ليس شيء يجزي من الطعام والشراب إلا اللبن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے چاہیے کہ کہے: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَبْدِلْنَا خَيْرًا مِنْهُ» (اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے)، اور جب وہ دودھ پیے تو کہے: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ» (اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے زیادہ دے)، کیونکہ دودھ کے سوا کھانے اور پینے کی دونوں ضرورتیں کوئی اور چیز پوری نہیں کر سکتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 381
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ت هـ هب] عن ابن عباس. المشكاة ٤٢٨٣.
«إذا أكل أحدكم طعاما فليلعق أصابعه فإنه لا يدري في أي طعامه تكون البركة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 382
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي هريرة [طب] عن زيد بن ثابت [طس] عن أنس. الروض ١٩.
"إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه وإذا شرب فليشرب بيمينه،
فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے، اور جب پیے تو اپنے دائیں ہاتھ سے پیے، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 383
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن ابن عمر [ن] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٣٦: مالك، الدارمي، - ابن عمر. حم، ابن ماجه – أبي هريرة.
«إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه وليشرب بيمينه وليأخذ بيمينه وليعط بيمينه فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله ويأخذ بشماله ويعطي بشماله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے، اور دائیں ہاتھ سے پیے، اور دائیں ہاتھ سے پکڑے اور دائیں ہاتھ سے ہی دے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے پکڑتا ہے اور بائیں ہاتھ سے دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحسن بن سفيان في مسنده] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٣٦: ابن ماجه.
«إذا التقى الختانان فقد وجب الغسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب دو ختنہ گاہیں آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عائشة وعن ابن عمرو. الصحيحة ١٢٦١: حم – عائشة، وابن عمرو. هق – أبي هريرة.
«إذا التقى الختانان وغابت الحشفة فقد وجب الغسل أنزل أم لم ينزل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب دو ختنہ گاہیں مل جائیں اور حشفہ (عضو تناسل کا اگلا حصہ) غائب ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 386
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث طس عن ابن عمرو. الصحيحة ١٢٦١، صحيح أبي داود ٢٠٩.
«إذا التقى المسلمان بسيفيهما فقتل أحدهما صاحبه فالقاتل والمقتول في النار قيل: يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول؟ قال: إنه كان حريصا على قتل صاحبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر آمنے سامنے ہوں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے، تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! قاتل کا تو یہ انجام ٹھیک ہے لیکن مقتول کا کیا قصور ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا خواہشمند تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 387
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أبي بكرة [هـ] عن أبي موسى. نقد المنتصر الكتاني ٣٩ رياض الصالحين ١٠.
«إذا التقى المسلمان وحمل أحدهما على أخيه السلاح فهما على جرف جهنم فإذا قتل أحدهما صاحبه دخلاها جميعا» *
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب دو مسلمان آپس میں ملیں اور ان میں سے ایک اپنے بھائی پر ہتھیار اٹھا لے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو وہ دونوں اس میں داخل ہو جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 388
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ١] عن أبي بكرة. الصحيحة ١٢٣١.
«إذا ألقى الله في قلب امرئ خطبة امرأة فلا بأس أن ينظر إليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ ڈال دے تو اس (عورت) کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 389
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ك هق] عن محمد بن مسلمة. الصحيحة ٩٨.
«إذا أمذى أحدكم ولم يمسها فليغسل ذكره وأنثييه ثم ليتوضأ وليصل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو مذی نکل آئے اور اس نے (عورت کو) چھوا نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی شرمگاہ اور دونوں خصیوں کو دھو لے، پھر وضو کرے اور نماز پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 390
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عب طب] عن المقداد بن الأسود. صحيح السنن ٢٠١ و ٢٠٢: حم، د، حب.
«إذا أم أحدكم الناس فليخفف فإن فيهم الصغير والكبير والضعيف والمريض وذا الحاجة وإذا صلى لنفسه فليطول ما شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کی امامت کرے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز ہلکی (مختصر) پڑھائے، کیونکہ ان (مقتدیوں) میں چھوٹے، بڑے، کمزور، بیمار اور حاجت مند سبھی طرح کے لوگ ہوتے ہیں، اور جب وہ تنہا اپنی نماز پڑھے تو جتنی چاہے طویل کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 391
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن أبي هريرة.
«إذا أم الرجل القوم فلا يقم في مكان أرفع من مقامهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص لوگوں کی امامت کرے تو وہ ان (مقتدیوں) کے مقام سے کسی اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 392
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هق] عن حذيفة. صحيح أبي داود ٦١١.
"إذا أممت الناس: فاقرأ ب {وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا} و {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} و {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى}
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم لوگوں کی امامت کرو تو (نماز میں) ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ [سورة الشمس: 1]، ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [سورة الليل: 1] پڑھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 393
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث م عن جابر. الإرواء ٢٩٥.
«إذا أممت قوما فأخف بهم الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کسی قوم کی امامت کرو تو انہیں ہلکی (مختصر) نماز پڑھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 394
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن عثمان بن أبي العاص.
«إذا أمن الإمام فأمنوا فإنه من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گئی، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 395
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ٤] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٨٦٦، الإرواء ٣٤٤.
«إذا أمن القارئ فأمنوا فإن الملائكة تؤمن فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب قاری (امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، پس جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گئی، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 396
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٦٣: حم، خ، ابن الجارود.
«إذا انتصف شعبان فلا تصوموا حتى يكون رمضان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب شعبان کا آدھا مہینہ گزر جائے تو تم روزے نہ رکھو یہاں تک کہ رمضان آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 397
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤] عن أبي هريرة. المشكاة ١٩٧٤، الروض ٢/٤٩.
«إذا انتعل أحدكم فليبدأ باليمنى وإذا خلع فليبدأ باليسرى لتكون اليمنى أولهما تنعل وآخرهما تنزع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں پاؤں سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں پاؤں سے شروع کرے، تاکہ دایاں پاؤں پہننے میں پہلا اور اتارنے میں آخری رہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 398
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت هـ] عن أبي هريرة. الروض ١٠٤٢.
«إذا انتهى أحدكم إلى المجلس فإن وسع له فليجلس وإلا فلينظر إلى أوسع مكان يراه فليجلس فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے، تو اگر اس کے لیے جگہ کشادہ کر دی جائے تو بیٹھ جائے، ورنہ جو سب سے زیادہ کھلی جگہ نظر آئے اسے چاہیے کہ وہاں بیٹھ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 399
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [البغوي طب هب] عن شيبة بن عثمان. الصحيحة ١٣٢١.