کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ : نَزَلَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلَى مَسْرُوقٍ ، فَحَدَّثَ عَنْ صَفِيَّةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - أَنَّهَا قَالَتْ : قُمْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ : لَيْسَ مِنْ أَزْوَاجِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَهَا قَرَابَةٌ وَعَشِيرَةٌ ، فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُوصِي بِكِ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ
ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ”آپ کی ازواجِ مطہرات میں سے کوئی ایسی نہیں ہے جس کے قرابت دار اور کنبہ و قبیلہ (سہارے کے لیے) موجود نہ ہوں، تو آپ مجھے (اپنے بعد) کس کے سپرد کرنے کی وصیت فرماتے ہیں؟“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے بارے میں علی (رضی اللہ عنہ) کو وصیت کرتا ہوں۔“
اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم (مدینہ کے ایک بزرگ) ہے جس کی وجہ سے یہ سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، البتہ فضائلِ علی رضی اللہ عنہ کے ضمن میں اسے مختلف کتبِ سیر و تراجم میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم (مدینہ کے ایک بزرگ) ہے جس کی وجہ سے یہ سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، البتہ فضائلِ علی رضی اللہ عنہ کے ضمن میں اسے مختلف کتبِ سیر و تراجم میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ هُوَ أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَعْلَبَةَ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : وَاللهِ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ : سَيَغْدِرُونَكَ مِنْ بَعْدِي .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! بلاشبہ یہ نبیِ امی ﷺ کا (مجھ سے) کیا ہوا عہد ہے کہ: ”عنقریب میرے بعد لوگ تمہارے ساتھ بے وفائی اور غداری کریں گے۔“”
اس حدیث کو امام احمد نے المسند میں روایت کیا ہے، محدثین کے نزدیک اس کی سند میں موجود بعض راویوں کی وجہ سے کلام ہے، تاہم کثرتِ طرق اور شواہد کی بنا پر اسے بعض ائمہ نے حسن کے درجے میں قبول کیا ہے۔
اس حدیث کو امام احمد نے المسند میں روایت کیا ہے، محدثین کے نزدیک اس کی سند میں موجود بعض راویوں کی وجہ سے کلام ہے، تاہم کثرتِ طرق اور شواہد کی بنا پر اسے بعض ائمہ نے حسن کے درجے میں قبول کیا ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَغْدِرُ بِكَ مِنْ بَعْدِي . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَابْنُ مَاجَهْ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً یہ امت میرے بعد عنقریب تمہارے ساتھ بے وفائی اور عہد شکنی کا معاملہ کرے گی۔“
اسے امام بزار اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
اسے امام بزار اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ يَزِيدَ الْحِمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَاللهِ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ : إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَغْدِرُ بِي
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے منبر پر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اللہ کی قسم! بلاشبہ یہ نبیِ امی ﷺ کا مجھ سے کیا ہوا عہد ہے کہ: یقیناً یہ امت میرے ساتھ عنقریب غداری و بے وفائی کرے گی۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ (535) اور امام بزار (791) نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی یزید حِمّانی اور ان کے بیٹے ثعلبہ کی توثیق میں محدثین کا اختلاف ہے، تاہم امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ (535) اور امام بزار (791) نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی یزید حِمّانی اور ان کے بیٹے ثعلبہ کی توثیق میں محدثین کا اختلاف ہے، تاہم امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
: وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرَهَا تِسْعَةَ عَشَرَ أَوْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ فَلَمْ يَفْتَحْهَا ، ثُمَّ أَوْغَلَ رَوْحَةً أَوْ غَدْوَةً فَنَزَلَ ثُمَّ هَجَّرَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي فَرَطُكُمْ ، وَأُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ ، وَلَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا مِنِّي أَوْ كَنَفْسِي فَلَيَضْرِبَنَّ أَعْنَاقَ مُقَاتِلِيهِمْ ، وَلَيَسْبِيَنَّ ذَرَارِيَّهُمْ " . قَالَ : فَرَأَى النَّاسُ أَنَّهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَأَخَذَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : " هَذَا .
3922 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، بِهَذَا
3922 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، بِهَذَا
ترجمہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ فتح کر چکے تو آپ ﷺ طائف کی جانب روانہ ہوئے اور اٹھارہ یا انیس روز تک اس کا محاصرہ جاری رکھا مگر وہ فتح نہ ہوا، پھر آپ ﷺ نے صبح یا شام کے کسی پہر میں کچھ مسافت طے کی اور ایک جگہ قیام فرمایا، پھر تپتی دوپہر میں لوگوں کو جمع کر کے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! میں (حوضِ کوثر پر) تمہارا پیش رو ہوں، اور میں تمہیں اپنی عترت (اہلِ بیت) کے ساتھ حسنِ سلوک اور خیر کی وصیت کرتا ہوں، اور تمہارے ساتھ میرا وعدہ گاہ حوضِ کوثر ہے، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور بالضرور نماز قائم کرتے رہو گے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو گے، ورنہ میں تمہاری طرف ایک ایسا شخص بھیجوں گا جو مجھ سے ہے یا میری اپنی جان کے مانند ہے، وہ ان کے جنگجوؤں کی گردنیں اڑائے گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگ یہ سمجھے کہ شاید وہ شخص سیدنا ابوبکر یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہوں گے، مگر نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے بھی اسے ابوبکر بن ابی شیبہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
اور امام ابو یعلیٰ نے بھی اسے ابوبکر بن ابی شیبہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي .
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہارا میرے ہاں وہی مقام و مرتبہ ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ہاں تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے؟“
اسے امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔
اسے امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔
: وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ مِنْ أَقْضَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ ابْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
3924 \ 2 - : وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهِ .
وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ .
3924 \ 2 - : وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهِ .
وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”ہم آپس میں یہ تذکرہ کیا کرتے تھے کہ اہل مدینہ میں سب سے بڑھ کر قوتِ فیصلہ رکھنے والے اور بہترین قاضی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔“
اور امام بزار نے بھی اس روایت کو محمد بن احمد بن جنید، یحییٰ بن محمد بن سکن اور شعبہ کے طریق سے نقل کیا ہے، نیز امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اور امام بزار نے بھی اس روایت کو محمد بن احمد بن جنید، یحییٰ بن محمد بن سکن اور شعبہ کے طریق سے نقل کیا ہے، نیز امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ ، ثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ عُلَيْمٍ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَّلُكُمْ وَارِدًا عَلَيَّ الْحَوْضَ أَوَّلُكُمْ إِسْلَامًا : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے حوضِ کوثر پر میرے پاس سب سے پہلے وہی پہنچے گا جو تم میں سب سے پہلے اسلام لایا، اور وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔“
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں یحییٰ بن ہاشم غسانی نامی راوی ہے جو ائمہ حدیث کے نزدیک سخت مجروح، کذاب اور وضاع (حدیثیں گھڑنے والا) ہے، اس لیے یہ روایت موضوع (من گھڑت) کے درجے میں ہے۔
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں یحییٰ بن ہاشم غسانی نامی راوی ہے جو ائمہ حدیث کے نزدیک سخت مجروح، کذاب اور وضاع (حدیثیں گھڑنے والا) ہے، اس لیے یہ روایت موضوع (من گھڑت) کے درجے میں ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، ثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعْتُ مِنْ جِنَازَةٍ قَوْلًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ الدُّنْيَا جَمِيعًا .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس وقت جب میں ایک جنازے سے واپس لوٹ رہا تھا، مجھ سے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی کہ مجھے اس قول کے بدلے میں تمام دنیا کا مل جانا بھی پسند نہیں ہے“۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابو حریز (عبد اللہ بن حسین) نامی راوی کے حافظے پر کلام ہے، تاہم امام ابنِ معین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے اور شعبہ بن الحجاج جیسے عظیم المرتبت محدث نے ان سے روایت لی ہے، اس لیے یہ سند حسن درجے کی ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابو حریز (عبد اللہ بن حسین) نامی راوی کے حافظے پر کلام ہے، تاہم امام ابنِ معین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے اور شعبہ بن الحجاج جیسے عظیم المرتبت محدث نے ان سے روایت لی ہے، اس لیے یہ سند حسن درجے کی ہے۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ ، ثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ النَّاسِ وَتَرَكَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَتَرَكْتَنِي ؟! فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَى تَرَكْتُكَ ؟ إِنَّمَا تَرَكْتُكَ لِنَفْسِي ، أَنْتَ أَخِي وَأَنَا أَخُوكَ . قَالَ : فَإِنْ حَاجَّكَ أَحَدٌ فَقُلْ : إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يَدَّعِيهَا أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا كَذَّابٌ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب لوگوں کے مابین بھائی چارہ (مواخات) قائم فرمایا تو مجھے چھوڑ دیا، جس پر میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے اپنے صحابہ کے مابین تو رشتہ مواخات قائم فرما دیا ہے لیکن مجھے چھوڑ دیا ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں نے تمہیں نظر انداز کر دیا ہے؟ دراصل میں نے تمہیں خاص اپنی ذات کے لیے منتخب کیا ہے، تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص تم سے اس معاملے میں بحث و تکرار کرے تو اسے کہہ دینا: «إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَأَخُو رَسُولِهِ» ”بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول ﷺ کا بھائی ہوں“، اور تمہارے بعد سوائے کذاب (بہت بڑے جھوٹے) کے کوئی دوسرا اس فضیلت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔“
اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عمر بن عبد اللہ بن یعلیٰ بن مرہ کو ائمہ جرح و تعدیل نے ضعیف اور منکر الحدیث قرار دیا ہے۔
اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عمر بن عبد اللہ بن یعلیٰ بن مرہ کو ائمہ جرح و تعدیل نے ضعیف اور منکر الحدیث قرار دیا ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ - الشَّكُّ مِنْ حَمَّادٍ - قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا عَلِيُّ ، خُذِ الْبَابَ فَلَا يَدْخُلَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ ، فَإِنَّ عِنْدِي زَوْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ اسْتَأْذَنُوا رَبَّهُمْ أَنْ يَزُورُونِي " فَأَخَذَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْبَابَ ، وَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : يَا عَلِيُّ ، اسْتَأْذِنْ لِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَيْسَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنٌ ، فَرَجَعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَظَنَّ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ سَخْطَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَصْبِرْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ رَجَعَ ، فَقَالَ : اسْتَأْذِنْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَيْسَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنٌ . فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَلِمَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لِأَنَّ زَوْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ عِنْدَهُ ، وَاسْتَأْذَنُوا رَبَّهُمْ أَنْ يَزُورُوهُ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَكَمْ هُمْ يَا عَلِيُّ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَلَكًا ، ثُمَّ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَتْحِ الْبَابِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ زَوْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ اسْتَأْذَنُوا رَبَّهُمْ أَنْ يَزُورُوكَ ، وَأَخْبَرَنِي يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّ عِدَّتَهُمْ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَلَكًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " أَنْتَ أَخْبَرْتَ بِالزَّوْرِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَخْبَرْتَهُ بِعِدَّتِهِمْ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَعَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكَمْ هُمْ يَا عَلِيُّ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَلَكًا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَكَيْفَ عَلِمْتَ ذَلِكَ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ نَغْمَةً فَعَلِمْتُ أَنَّهُمْ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَلَكًا ، فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَلِيُّ ، زَادَكَ اللهُ إِيمَانًا وَعِلْمًا .
ترجمہ
زید بن اسلم یا محمد بن منکدر رحمہما اللہ (شک راوی سے ہے) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”اے علی! تم دروازے پر پہرہ دو اور میرے پاس کسی کو داخل نہ ہونے دینا، کیونکہ اس وقت میرے پاس فرشتوں کی ایک جماعت بطور مہمان موجود ہے، جنہوں نے اپنے رب سے میری زیارت کی اجازت طلب کی تھی۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دروازہ سنبھال لیا، اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اس وقت (اندر آنے کی) قطعاً اجازت نہیں ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سوچ کر واپس پلٹ گئے کہ شاید یہ پابندی رسول اللہ ﷺ کی کسی ناراضی کی وجہ سے ہے، مگر وہ زیادہ دیر صبر نہ کر سکے اور دوبارہ لوٹ آئے اور کہا: ”میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کرو۔“ انہوں نے پھر وہی جواب دیا: ”رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس وقت کوئی اجازت نہیں ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”آخر کیوں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اس لیے کہ آپ ﷺ کے پاس فرشتوں کی ایک جماعت آئی ہوئی ہے، جنہوں نے اپنے رب سے آپ ﷺ کی زیارت کی اجازت طلب کی تھی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے علی! وہ تعداد میں کتنے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”وہ تین سو ساٹھ فرشتے ہیں۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے دروازہ کھولنے کا حکم دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کی: ”یا رسول اللہ! انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت نے اپنے رب سے آپ کی زیارت کی اجازت مانگی ہے، اور اے اللہ کے رسول! انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ان کی تعداد تین سو ساٹھ ہے۔“ تب نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے انہیں فرشتوں کی آمد کی خبر دی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں، یا رسول اللہ!“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اور کیا تم نے انہیں ان کی گنتی بھی بتائی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”اے علی! بتاؤ وہ کتنے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”تین سو ساٹھ فرشتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں یہ علم کیسے ہوا؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے ان کی تین سو ساٹھ مختلف آوازیں اور نغمات سماعت کیے، جس سے میں جان گیا کہ وہ تین سو ساٹھ فرشتے ہیں۔“ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینے پر اپنا دستِ مبارک مارا اور فرمایا: «زَادَكَ اللهُ إِيمَانًا وَعِلْمًا» ”اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان اور علم میں مزید اضافہ فرمائے۔“
یہ روایت امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 928) میں نقل کی ہے، تاہم اس کی سند میں حماد بن عمرو نصیبی اور اسماعیل بن رافع جیسے راوی موجود ہیں جو کہ ضعیف اور متروک قرار دیے گئے ہیں، جس کے سبب یہ روایت فنی طور پر سخت ضعیف ہے۔
یہ روایت امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 928) میں نقل کی ہے، تاہم اس کی سند میں حماد بن عمرو نصیبی اور اسماعیل بن رافع جیسے راوی موجود ہیں جو کہ ضعیف اور متروک قرار دیے گئے ہیں، جس کے سبب یہ روایت فنی طور پر سخت ضعیف ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمَّا جِئْنَاهُ ، قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتُمْ صَاحِبَكُمْ ؟ " قَالَ : فَإِمَّا شَكَوْتُهُ وَإِمَّا شَكَاهُ غَيْرِي ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبَابًا ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ .
ترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک عسکری مہم (سریہ) میں روانہ فرمایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر فرمایا؛ جب ہم (واپسی پر) آپ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم نے اپنے رفیق (امیر) کو کیسا پایا؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر یا تو میں نے ان کی شکایت کی یا میرے علاوہ کسی اور نے ان کا شکوہ کیا، میں (طبعاً) نظریں جھکا کر رکھنے والا آدمی تھا، مگر جب میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کا چہرہِ مبارک (جلالِ غضب سے) سرخ ہو چکا تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس کا میں مولیٰ (دوست و سرپرست) ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (32072)، امام احمد نے المسند (22945) اور امام نسائی نے السنن الکبریٰ (8422) میں روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (32072)، امام احمد نے المسند (22945) اور امام نسائی نے السنن الکبریٰ (8422) میں روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كُنَّا بِالْجُحْفَةِ بِغَدِيرِ خُمٍّ ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ يَدَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ : مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ہم جحفہ کے مقام پر ”غدیرِ خم“ میں موجود تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، پھر آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں تھاما اور ارشاد فرمایا: ”جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔“
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے (32072) اور امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے علمی کلام موجود ہے، تاہم کثرتِ طرق اور دیگر صحیح شواہد کی بنا پر یہ حدیث اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح اور معتبر ہے۔
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے (32072) اور امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے علمی کلام موجود ہے، تاہم کثرتِ طرق اور دیگر صحیح شواہد کی بنا پر یہ حدیث اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح اور معتبر ہے۔
حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَسْجِدَ ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ شَابٌّ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللهِ ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ .
3931 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
3931 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُبْرُمَةَ الْبَاهِلِيُّ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، ثَنَا رَجُلٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ دَاوُدَ ، وَإِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهِ .
3931 \ 4 - وَقَالَ : وَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ بِهِ .
3931 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
3931 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُبْرُمَةَ الْبَاهِلِيُّ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، ثَنَا رَجُلٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ دَاوُدَ ، وَإِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهِ .
3931 \ 4 - وَقَالَ : وَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ بِهِ .
ترجمہ
یزید الاودی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے، اسی دوران ایک نوجوان ان کی طرف کھڑا ہوا اور عرض گزار ہوا: ”میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”جس کا میں مولیٰ (مددگار و دوست) ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! «اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ”اے اللہ! تو اس سے محبت و دوستی رکھ جو ان سے محبت و دوستی رکھے اور اس سے عداوت و دشمنی رکھ جو ان سے عداوت و دشمنی رکھے۔“؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: ”اے اللہ! ہاں (میں نے یہ سنا ہے)۔“
امام ابویعلیٰ نے کہا کہ ہمیں ابوبکر نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔
امام بزار نے کہا کہ ہمیں علی بن شبرمہ باہلی نے، انہیں احمد بن یحییٰ صوفی نے، انہیں ایک شخص نے، اس نے منصور بن ابی الاسود سے، انہوں نے داؤد اور ادریس سے، ان دونوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کی ہے۔
اور انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی بیاض (کتاب) میں محمد بن مسکین، انہوں نے عبداللہ بن یوسف، انہوں نے عکرمہ بن ابراہیم اور انہوں نے ادریس الاودی کے واسطے سے بھی یہی حدیث مرقوم پائی ہے۔
امام ابویعلیٰ نے کہا کہ ہمیں ابوبکر نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔
امام بزار نے کہا کہ ہمیں علی بن شبرمہ باہلی نے، انہیں احمد بن یحییٰ صوفی نے، انہیں ایک شخص نے، اس نے منصور بن ابی الاسود سے، انہوں نے داؤد اور ادریس سے، ان دونوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کی ہے۔
اور انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی بیاض (کتاب) میں محمد بن مسکین، انہوں نے عبداللہ بن یوسف، انہوں نے عکرمہ بن ابراہیم اور انہوں نے ادریس الاودی کے واسطے سے بھی یہی حدیث مرقوم پائی ہے۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَعَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ ، قَالَا : لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيٍّ ... الْحَدِيثَ
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ ، وَفِيهِ : فَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ ، إِنِّي لَمْ آلُ أَنْ أُنْكِحَكِ أَحَبَّ أَهْلِي إِلَيَّ .
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ ، وَفِيهِ : فَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ ، إِنِّي لَمْ آلُ أَنْ أُنْكِحَكِ أَحَبَّ أَهْلِي إِلَيَّ .
ترجمہ
عکرمہ اور ابویزید مدنی رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو (رخصتی کے بعد) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں لایا گیا... (مکمل حدیث) اور اس میں مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! یقیناً میں نے تمہارا نکاح اپنے اہل و عیال میں سے اس شخص سے کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے“۔
اور یہ روایت اس سے قبل 'کتاب النکاح' میں بیان ہو چکی ہے۔
اور یہ روایت اس سے قبل 'کتاب النکاح' میں بیان ہو چکی ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَمِيرَةَ أَبُو قُتَيْبَةَ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنِي مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ أَبُو بَصِيرٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذٌ بِيَدِي وَنَحْنُ نَمْشِي فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ إِذْ أَتَيْنَا عَلَى حَدِيقَةٍ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَحْسَنَهَا مِنْ حَدِيقَةٍ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا حَتَّى مَرَرْنَا بِسَبْعِ حَدَائِقَ ، كُلُّ ذَلِكَ أَقُولُ : مَا أَحْسَنَهَا ! وَيَقُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا " فَلَمَّا خَلَا لِي الطَّرِيقُ اعْتَنَقَنِي ثُمَّ أَجْهَشَ بَاكِيًا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَغَائِنُ فِي صُدُورِ أَقْوَامٍ لَا يُبْدُونَهَا إِلَّا مِنْ بَعْدِي " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِكَ .
3933 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَا : ثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بِهِ .
لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَا جَاءَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَيْرُ هَذَا .
3933 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَا : ثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بِهِ .
لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَا جَاءَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَيْرُ هَذَا .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ میرا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور ہم مدینہ منورہ کے کسی راستے میں چل رہے تھے کہ ہمارا گزر ایک باغ پر ہوا، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ باغ کس قدر خوبصورت ہے!“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے جنت میں اس سے بھی کہیں بہتر باغ ہے۔“ یہاں تک کہ ہم سات باغات کے پاس سے گزرے اور میں ہر بار یہی کہتا رہا: ”یہ کتنا حسین ہے!“ اور آپ ﷺ یہی جواب دیتے رہے: ”تمہارے لیے جنت میں اس سے بھی کہیں بڑھ کر حسین باغ ہے۔“ پھر جب راستہ بالکل خالی اور تنہا ہو گیا تو آپ ﷺ نے مجھے گلے لگا لیا اور پھر شدتِ غم سے رو پڑے، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کے اس گریہ و زاری کا سبب کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کچھ لوگوں کے سینوں میں چھپے ہوئے کینے اور دشمنیاں ہیں جنہیں وہ میرے بعد ہی ظاہر کریں گے۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس وقت میرا دین سلامت رہے گا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، تمہارا دین سلامت رہے گا۔“
امام بزار نے اس حدیث کو عمرو بن علی اور محمد بن معمر سے، انہوں نے حرامی بن عمارہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کے متعلق یہ وضاحت بھی ہے کہ یہ روایت نبی کریم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے، اور ابوعثمان کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت ثابت نہیں۔
امام بزار نے اس حدیث کو عمرو بن علی اور محمد بن معمر سے، انہوں نے حرامی بن عمارہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کے متعلق یہ وضاحت بھی ہے کہ یہ روایت نبی کریم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے، اور ابوعثمان کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت ثابت نہیں۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، ثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ ، قَالَ : لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكَ قَالَ : فَلَمْ يَلْبَثْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اتَّبَعَهُمَا ، فَقَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَابِ فَاسْتَأْذَنَ ، فَدَخَلَ فَإِذَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُعْتَزِلٌ عَنْهَا ، فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ شِهَابُ اللهِ وَرَسُولِهِ " ، فَدَعَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ نَضَحَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهَا وَصَدْرَهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - وَسَمَّتَ عَلَيْهِمَا ، ثُمَّ خَرَجَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِمَا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن ہند الجملي رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رات آئی جس میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رخصت کیا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کوئی نیا کام (وظیفہ زوجیت) شروع نہ کرنا جب تک کہ میں تمہارے پاس نہ آجاؤں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے ذرا بھی دیر نہیں کی اور ان کے پیچھے ہی تشریف لے گئے، آپ ﷺ دروازے پر کھڑے ہوئے اور اجازت طلب فرمائی، پھر اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان سے الگ ہو کر بیٹھے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک میں جانتا ہوں کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے شہاب (یعنی روشن ستارے یا بہادر سپاہی) ہو۔“ پھر آپ ﷺ نے پانی طلب فرمایا، اس سے کلی کی اور اس پانی کو واپس برتن ہی میں ڈال دیا، پھر آپ ﷺ نے وہ پانی سیدہ فاطمہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے سینوں پر چھڑکا اور ان کے حق میں برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ ﷺ ان کے پاس سے باہر تشریف لے آئے۔
اس حدیث کی تخریج امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کے راوی عوف بن ابی جمیلہ ثقہ ہیں اور عبداللہ بن عمرو بن ہند الجملي ثقہ تابعی ہیں۔
اس حدیث کی تخریج امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کے راوی عوف بن ابی جمیلہ ثقہ ہیں اور عبداللہ بن عمرو بن ہند الجملي ثقہ تابعی ہیں۔
: وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَلٌ مَشْوِيٌّ بِخُبْزَةٍ وَظَبَابَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الطَّعَامِ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ أَبِي ، وَقَالَتْ حَفْصَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ أَبِي ، قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ حَرَكَةً بِالْبَابِ فَخَرَجْتُ فَإِذَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَةٍ ، فَانْصَرَفَ ، ثُمَّ سَمِعْتُ حَرَكَةَ الْبَابِ فَخَرَجْتُ فَإِذَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَذَلِكَ ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ ، فَقَالَ : " انْظُرْ مَنْ هَذَا ؟ " فَخَرَجْتُ فَإِذَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ وَالِيَّ ، اللَّهُمَّ وَالِيَّ .
3935 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَلْمَانَ الْكَحَّالُ الْأَزْرَقُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَارٌ ، فَقَسَّمَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ نِسَائِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ ... الْحَدِيثَ .
3935 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَلْمَانَ الْكَحَّالُ الْأَزْرَقُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَارٌ ، فَقَسَّمَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ نِسَائِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ ... الْحَدِيثَ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں ایک بھنا ہوا تیتر، روٹی اور تھوڑا سا روغن بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں التجا کی: «اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الطَّعَامِ» ”اے اللہ! میرے پاس اپنی مخلوق میں سے اس ہستی کو بھیج جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہو تاکہ وہ میرے ساتھ مل کر یہ کھانا کھائے۔“ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ أَبِي» ”اے اللہ! اس سے مراد میرے والد (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کو بنا دے۔“ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ أَبِي» ”اے اللہ! اس سے مراد میرے والد (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) کو بنا دے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (دل میں) کہا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ» ”اے اللہ! تو اس سے مراد سعد بن عبادہ کو بنا دے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے دروازے پر کسی کی آہٹ محسوس کی، میں باہر نکلا تو وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے (انہیں ٹالنے کے لیے) کہا کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت کسی ضرورت و کام میں مشغول ہیں، چنانچہ وہ واپس لوٹ گئے، پھر میں نے دوبارہ دروازے پر آہٹ سنی اور باہر نکلا تو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی تھے (اور میں نے وہی بات دہرائی)، اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سن لی اور دریافت فرمایا: ”انْظُرْ مَنْ هَذَا؟“ ”دیکھو تو سہی یہ کون ہے؟“ میں باہر گیا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، میں نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو ان کی آمد کی خبر دی تو آپ ﷺ نے (باہمی محبت و قربت کے اظہار کے لیے) فرمایا: ”اللَّهُمَّ وَالِيَّ ، اللَّهُمَّ وَالِيَّ .“ ”اے اللہ! (یہ) میرا قریب ترین ساتھی ہے، اے اللہ! (یہ) میرا ولی ہے۔“
اور امام بزار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں چند پرندے بطور تحفہ پیش کیے گئے، تو آپ ﷺ نے انہیں اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے درمیان تقسیم فرما دیا، یہاں تک کہ ہر زوجہ کے حصے میں (ایک ایک پرندہ) آیا۔۔۔ (آگے سابقہ مفہوم کی مکمل حدیث ہے)۔
اور امام بزار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں چند پرندے بطور تحفہ پیش کیے گئے، تو آپ ﷺ نے انہیں اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے درمیان تقسیم فرما دیا، یہاں تک کہ ہر زوجہ کے حصے میں (ایک ایک پرندہ) آیا۔۔۔ (آگے سابقہ مفہوم کی مکمل حدیث ہے)۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ ، عَنْ مُطَيْرِ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ سَفِينَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَاحِبِ زَادِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَهْدَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرَيْنِ بَيْنَ رَغِيفَيْنِ ، وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْبَيْتِ غَيْرِي وَغَيْرُ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِالْغَدَاءِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، قَدْ أَهْدَتْ لَكَ امْرَأَةٌ هَدِيَّةً ، فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ الطَّيْرَيْنِ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - إِلَيْكَ وَإِلَى رَسُولِكِ قَالَ : فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَضَرَبَ الْبَابَ ضَرْبًا خَفِيفًا ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : أَبُو الْحَسَنِ ، ثُمَّ ضَرَبَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : عَلِيٌّ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْتَحْ لَهُ " فَفَتَحْتُ فَأَكَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّيْرَيْنِ حَتَّى فَنِيَا " .
ترجمہ
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ (جو نبی کریم ﷺ کے سفر و حضر میں زادِ راہ کی ذمہ داری سنبھالتے تھے) سے روایت ہے کہ ایک انصاری خاتون نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں دو پرندے ہدیہ کیے جو دو روٹیوں کے درمیان رکھے ہوئے تھے، اس وقت آپ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور گھر میں میرے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی موجود نہ تھا، پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور دوپہر کے کھانے کا طلب فرمایا، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایک خاتون نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے“، چنانچہ میں نے وہ دونوں پرندے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیے۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا مانگی: «اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ وَإِلَى رَسُولِكَ» ”اے اللہ! میرے پاس اپنی مخلوق میں سے اس شخصیت کو بھیج دے جو تجھے اور تیرے رسول کو سب سے زیادہ محبوب ہو“ (راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے 'تیرے رسول کو' کے الفاظ بھی کہے تھے)۔ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی، میں نے دریافت کیا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ابوالحسن“، پھر انہوں نے دوبارہ دستک دی اور اپنی آواز ذرا بلند کی، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کی: ”علی ہیں“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان کے لیے دروازہ کھول دو“، چنانچہ میں نے دروازہ کھول دیا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر ان دونوں پرندوں کا گوشت تناول فرمایا یہاں تک کہ وہ ختم ہو گئے۔
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں موجود بعض رواۃ پر محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم ”حدیثِ طیر“ کا یہ واقعہ کثرتِ طرق اور مختلف اسانید سے مروی ہونے کی بنا پر علمِ حدیث میں معروف ہے۔
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں موجود بعض رواۃ پر محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم ”حدیثِ طیر“ کا یہ واقعہ کثرتِ طرق اور مختلف اسانید سے مروی ہونے کی بنا پر علمِ حدیث میں معروف ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ الصَّنْعَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ مِينَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَزَمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَبَّلَهُ وَهُوَ يَقُولُ : بِأَبِيَ الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ ، بِأَبِيَ الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے سینہ مبارک سے چمٹایا اور ان کا بوسہ لیا، اور اس وقت آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے: «بِأَبِيَ الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ، بِأَبِيَ الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ» ”میرے والد آپ پر فدا ہوں اے وہ جو تنہا شہید کیے جائیں گے، میرے والد آپ پر فدا ہوں اے وہ جو تنہا شہید کیے جائیں گے۔“
اس روایت کی سند میں سوید بن سعید اور ابن مینا کی موجودگی کی وجہ سے ائمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے اور اسے فنی طور پر ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
اس روایت کی سند میں سوید بن سعید اور ابن مینا کی موجودگی کی وجہ سے ائمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے اور اسے فنی طور پر ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ قَنَانِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَجُلَيْنِ فَتَذَاكَرْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَنَاوَلْنَا مِنْهُ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكُمْ وَلِي ، مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَكُنْتُ أُوتَى مِنْ بَعْدُ ، فَيُقَالُ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعَرِّضُ بِكَ يَقُولُ : اتَّقُوا فِتْنَةَ الْأُخَيْنِسِ ، فَأَقُولُ : هَلْ سَمَّانِي ؟ فَيَقُولُونَ : لَا ، فَأَقُولُ : إِنَّ خُنَّسَ النَّاسِ لَكَثِيرٌ ، مَعَاذَ اللهِ أَنْ أُوذِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ مَا سَمِعْتُ .
3938 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا مَرْوَانُ بِهِ ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ سَعْدٍ ، إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
3938 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، ثَنَا مَرْوَانُ بِهِ .
3938 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا مَرْوَانُ بِهِ ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ سَعْدٍ ، إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
3938 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، ثَنَا مَرْوَانُ بِهِ .
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں دو آدمیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، پس ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور ان کی شان میں کچھ نازیبا کلمات کہے، اتنے میں رسول اللہ ﷺ اس حال میں تشریف لائے کہ آپ ﷺ سخت غصے میں تھے اور آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے ناراضگی کے آثار نمایاں تھے، تو میں نے عرض کی: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں رسول اللہ ﷺ کے غصے سے“، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں مجھ سے کیا بیر ہے؟ جس نے علی کو تکلیف پہنچائی اس نے یقیناً مجھے تکلیف پہنچائی“، آپ ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد جب کبھی میرے پاس کوئی آتا اور کہتا کہ علی رضی اللہ عنہ آپ پر چوٹ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس چھوٹی چپٹی ناک والے (اخینِس) کے فتنے سے بچو“، تو میں پوچھتا: ”کیا انہوں نے میرا نام لیا ہے؟“ وہ جواب دیتے: ”نہیں۔“ تو میں کہتا: ”یقیناً چپٹی ناک والے لوگ تو بہت سے ہیں، اللہ کی پناہ کہ میں رسول اللہ ﷺ کو وہ کچھ سننے کے بعد (دوبارہ کبھی) تکلیف پہنچاؤں جو میں نے آپ ﷺ کی زبان مبارک سے خود سن لیا ہے“۔
امام ابن ابی عمر نے کہا کہ ہمیں مروان الفزاری نے قنان بن عبداللہ سے، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد (سعد رضی اللہ عنہ) سے یہ حدیث بیان کی۔
امام بزار نے کہا کہ ہمیں احمد بن ابان نے مروان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور کہا کہ ہم اس حدیث کو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے علاوہ کسی اور طریقے سے مروی نہیں جانتے۔
امام ابو یعلیٰ نے کہا کہ ہمیں محمود بن خداش نے مروان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
امام ابن ابی عمر نے کہا کہ ہمیں مروان الفزاری نے قنان بن عبداللہ سے، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد (سعد رضی اللہ عنہ) سے یہ حدیث بیان کی۔
امام بزار نے کہا کہ ہمیں احمد بن ابان نے مروان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور کہا کہ ہم اس حدیث کو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے علاوہ کسی اور طریقے سے مروی نہیں جانتے۔
امام ابو یعلیٰ نے کہا کہ ہمیں محمود بن خداش نے مروان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : ذُكِرَ لِي أَنَّكُمْ تَسُبُّونَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ : قَدْ فَعَلْنَا . قَالَ : فَلَعَلَّكَ قَدْ سَبَبْتَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَعَاذَ اللهِ . قَالَ : لَا تَسُبَّهُ ، فَلَوْ وُضِعَ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِي عَلَى أَنْ أَسُبَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا سَبَبْتُهُ أَبَدًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعْتُ .
ترجمہ
ابوبکر بن خالد بن عرفطہ، سیدنا سعد بن مالک (ابو وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ تم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں، ہم ایسا کر چکے ہیں۔“ انہوں نے پوچھا: ”شاید تم نے بھی انہیں برا بھلا کہا ہے؟“ میں نے جواب دیا: «مَعَاذَ اللهِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں (کہ ایسی بات کہوں)۔“ تب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم انہیں کبھی برا بھلا نہ کہنا، کیونکہ اگر میرے سر کے درمیان (مانگ پر) آرا رکھ دیا جائے کہ میں علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہوں، تب بھی میں کبھی انہیں برا بھلا نہیں کہوں گا، ان ارشادات کے بعد جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے متعلق سنے ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے ’المصنف‘ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند جید ہے۔
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے ’المصنف‘ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند جید ہے۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ : مُحِبٌّ مُفْرِطٌ ، وَمُبْغِضٌ مُفْتَرِي " .
3940 \ 2 - حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى : هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ : مُحِبٌّ غَالٍ ، وَمُبْغِضٌ قَالٍ " .
3940 \ 3 - وَعَنْ عَبَّادٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْأُصْبُعَيْنِ .
3940 \ 2 - حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى : هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ : مُحِبٌّ غَالٍ ، وَمُبْغِضٌ قَالٍ " .
3940 \ 3 - وَعَنْ عَبَّادٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْأُصْبُعَيْنِ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوئے: ایک وہ جو محبت میں غلو (حد سے تجاوز) کرنے والا ہے، اور دوسرا وہ دشمن جو بہتان تراشی کرنے والا ہے۔“
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرے معاملے میں دو طرح کے لوگ برباد ہوئے: ایک وہ محبت کرنے والا جو حد سے بڑھنے والا ہے اور دوسرا وہ دشمن جو سخت نفرت و عداوت رکھنے والا ہے۔“
نیز زاذان سے مروی ہے کہ انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے، تاہم انہوں نے اس میں انگلیوں کے اشارے کا تذکرہ نہیں کیا۔
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرے معاملے میں دو طرح کے لوگ برباد ہوئے: ایک وہ محبت کرنے والا جو حد سے بڑھنے والا ہے اور دوسرا وہ دشمن جو سخت نفرت و عداوت رکھنے والا ہے۔“
نیز زاذان سے مروی ہے کہ انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے، تاہم انہوں نے اس میں انگلیوں کے اشارے کا تذکرہ نہیں کیا۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ قَنَانِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لِي وَلَكُمْ ، مَنْ آذَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ آذَانِي .
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (علی رضی اللہ عنہ کے خلاف شکایت کرنے والوں کو مخاطب کر کے) ارشاد فرمایا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے اور میرا تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ جس کسی نے علی (رضی اللہ عنہ) کو اذیت پہنچائی، اس نے یقیناً مجھے ہی تکلیف دی۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی قنان بن عبد اللہ لیثی پر محدثین نے جرح کی ہے، تاہم اس کے شاہد دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہونے کی وجہ سے یہ روایت قابلِ قبول ہے۔
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی قنان بن عبد اللہ لیثی پر محدثین نے جرح کی ہے، تاہم اس کے شاہد دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہونے کی وجہ سے یہ روایت قابلِ قبول ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَبْدِ اللهِ الصُّهْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : طَلَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَنِي فِي جَدْوَلٍ نَائِمًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُمْ ، مَا أَلْأَمَ النَّاسَ ؛ يُسَمُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ .
قَالَ : فَرَآنِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي وَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَاكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ ، وَاللهِ لَأُرْضِيَنَّكَ ، أَنْتَ أَخِي ، وَأَبُو وَلَدَيَّ ، تُقَاتِلُ عَنْ سُنَّتِي ، وَتُبْرِئُ ذِمَّتِي ، مَنْ مَاتَ فِي عَهْدِي فَهُوَ أَسِيرُ اللهِ تَعَالَى ، وَمَنْ مَاتَ فِي عَهْدِكَ فَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ ، وَمَنْ مَاتَ يُحِبُّكَ بَعْدَ مَوْتِكَ خَتَمَ اللهُ تَعَالَى لَهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ أَوْ غَرَبَتْ ، وَمَنْ مَاتَ يُبْغِضُكَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَحُوسِبَ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ .
قَالَ : فَرَآنِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي وَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَاكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ ، وَاللهِ لَأُرْضِيَنَّكَ ، أَنْتَ أَخِي ، وَأَبُو وَلَدَيَّ ، تُقَاتِلُ عَنْ سُنَّتِي ، وَتُبْرِئُ ذِمَّتِي ، مَنْ مَاتَ فِي عَهْدِي فَهُوَ أَسِيرُ اللهِ تَعَالَى ، وَمَنْ مَاتَ فِي عَهْدِكَ فَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ ، وَمَنْ مَاتَ يُحِبُّكَ بَعْدَ مَوْتِكَ خَتَمَ اللهُ تَعَالَى لَهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ أَوْ غَرَبَتْ ، وَمَنْ مَاتَ يُبْغِضُكَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَحُوسِبَ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تلاش کیا تو مجھے ایک چھوٹی نالی میں سوتا ہوا پایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو، لوگ بھی کتنے کم ظرف ہیں کہ تمہیں ابوتراب (مٹی والا) پکارتے ہیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو ایسا لگا جیسے اس بات سے میرے دل میں کچھ ملال پیدا ہوا ہے، تو آپ ﷺ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ، اللہ کی قسم! میں تمہیں ضرور خوش کر دوں گا، تم میرے بھائی ہو، میرے دو بیٹوں کے والد ہو، تم میری سنت کی خاطر قتال کرو گے اور میرے ذمے موجود فرائض کو پورا کرو گے۔ جو میری زندگی میں فوت ہوا وہ اللہ کا قیدی ہے، اور جو تمہارے عہد میں فوت ہوا ﴿قَضَى نَحْبَهُ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”وہ اپنی نذر پوری کر چکا“، اور جو تمہاری وفات کے بعد تم سے محبت رکھتے ہوئے مرا، اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ امن اور ایمان پر فرمائے گا جب تک سورج طلوع یا غروب ہوتا رہے گا، اور جو تم سے بغض رکھتے ہوئے مرا وہ جاہلیت کی موت مرا اور اس کا ان اعمال کے بارے میں بھی حساب لیا جائے گا جو اس نے اسلام میں رہ کر کیے۔“
اس روایت کی سند میں سوید بن سعید اور زکریا بن عبداللہ الصہبانی جیسے راوی موجود ہیں جو کہ ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، جس کی بنا پر یہ روایت علمی و فنی طور پر سخت ضعیف یا منکر قرار پاتی ہے۔
اس روایت کی سند میں سوید بن سعید اور زکریا بن عبداللہ الصہبانی جیسے راوی موجود ہیں جو کہ ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، جس کی بنا پر یہ روایت علمی و فنی طور پر سخت ضعیف یا منکر قرار پاتی ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَرَ الشَّجَرَةَ بِخُمٍّ ، ثُمَّ خَرَجَ آخِذًا بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَبُّكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ، وَأَنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ أَوْلِيَاؤُكُمْ ؟ " .
فَقَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَمَنْ كَانَ اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا : كِتَابَ اللهِ تَعَالَى ، سَبَبُهُ بِيَدِي ، وَسَبَبُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، وَأَهْلَ بَيْتِي .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَحَدِيثُ غَدِيرِ خُمٍّ قَدْ أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، وَعَلِيٍّ ، وَجَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - وَفِي هَذَا زِيَادَةٌ لَيْسَتْ هُنَاكَ ، وَأَصْلُ الْحَدِيثِ أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا .
فَقَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَمَنْ كَانَ اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا : كِتَابَ اللهِ تَعَالَى ، سَبَبُهُ بِيَدِي ، وَسَبَبُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، وَأَهْلَ بَيْتِي .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَحَدِيثُ غَدِيرِ خُمٍّ قَدْ أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، وَعَلِيٍّ ، وَجَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - وَفِي هَذَا زِيَادَةٌ لَيْسَتْ هُنَاكَ ، وَأَصْلُ الْحَدِيثِ أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ غدیرِ خم کے مقام پر ایک درخت کے پاس تشریف فرما ہوئے، پھر آپ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھامے ہوئے برآمد ہوئے اور دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارا پروردگار ہے؟“ سب نے عرض کیا: کیوں نہیں (ہم گواہی دیتے ہیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ اور اس کا رسول تمہاری جانوں سے بھی زیادہ تم پر حق و اختیار رکھتے ہیں، اور یہ کہ اللہ اور اس کا رسول ہی تمہارے اصل سرپرست و مددگار ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں (ہم یہی گواہی دیتے ہیں)۔ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس جس کا اللہ اور اس کا رسول مولا ہے، تو یقیناً یہ (علی) بھی اس کا مولا ہے، اور میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھام لیا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے، (وہ ہے) اللہ تعالیٰ کی کتاب، جس کا ایک سرا (رشتہ) میرے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، اور میرے اہل بیت ہیں۔“
یہ سند صحیح ہے، اور حدیثِ غدیرِ خم کو امام نسائی نے ابوالطفیل کے واسطے سے سیدنا زید بن ارقم، سیدنا علی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے، اور اس روایت میں ایسے زائد کلمات ہیں جو دوسری جگہ موجود نہیں، جبکہ اس حدیث کی اصل امام ترمذی نے بھی روایت کی ہے۔
یہ سند صحیح ہے، اور حدیثِ غدیرِ خم کو امام نسائی نے ابوالطفیل کے واسطے سے سیدنا زید بن ارقم، سیدنا علی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے، اور اس روایت میں ایسے زائد کلمات ہیں جو دوسری جگہ موجود نہیں، جبکہ اس حدیث کی اصل امام ترمذی نے بھی روایت کی ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَائِنِيُّ ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، ثَنَا أَبُو مَرْيَمَ وَبَعْضُ جُلَسَائِهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ قَالَ : فَزَادَ النَّاسُ بَعْدُ : " اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " .
( 167 ) وَحَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - تَقَدَّمَ فِي الطَّهَارَةِ .
( 167 ) وَحَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - تَقَدَّمَ فِي الطَّهَارَةِ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غدیرِ خم کے مقام پر ان کا ہاتھ تھاما اور ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ”اے اللہ! جس کا میں مولیٰ (محبوب و سرپرست) ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بعد ازاں لوگوں نے ان کلمات کا اضافہ کر دیا: «اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ”اے اللہ! تو اسے اپنا دوست رکھ جو اسے دوست رکھے، اور اسے اپنا دشمن جان جو اسے دشمن جانے۔“
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کتاب الطہارت میں پہلے گزر چکی ہے۔
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کتاب الطہارت میں پہلے گزر چکی ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ خِيَارَكُمُ الْمُوفُونَ الْمُطَيِّبُونَ ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ الْحَفِيَّ التَّقِيَّ قَالَ : وَمَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَقُّ مَعَ ذَا ، الْحَقُّ مَعَ ذَا .
( 168 ) وَحَدِيثُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ بِنْتِ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - تَقَدَّمَ فِي الْحَضَانَةِ .
( 168 ) وَحَدِيثُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ بِنْتِ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - تَقَدَّمَ فِي الْحَضَانَةِ .
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کے دولت کدہ کے قریب موجود تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں (اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے)۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس بے شک تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو «الْمُوفُونَ الْمُطَيِّبُونَ» ”اپنے وعدوں و عہد و پیمان کو پورا کرنے والے اور پاکیزہ سیرت و اطوار والے ہیں“، یقیناً اللہ تعالیٰ «الْحَفِيَّ التَّقِيَّ» ”انتہائی مہربان (با اخلاق) اور متقی و پرہیزگار“ انسان سے محبت فرماتا ہے“۔ راوی کہتے ہیں کہ اسی دوران سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو آپ ﷺ نے (ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا: ”حق اس کے ساتھ ہے، حق اس کے ساتھ ہے“۔
(168) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث جو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی کے قصے سے متعلق ہے، وہ پرورش و نگہداشت کے بیان میں پہلے گزر چکی ہے۔
(168) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث جو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی کے قصے سے متعلق ہے، وہ پرورش و نگہداشت کے بیان میں پہلے گزر چکی ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ بِشَيْءٍ ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنْهُ ، فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ بَيْنَكُمَا لَشَرًّا .
قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا بَيْنَنَا إِلَّا خَيْرٌ ، وَلَكِنْ خَيْرُنَا أَتْبَعُنَا لِهَذَا الدِّينِ .
قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا بَيْنَنَا إِلَّا خَيْرٌ ، وَلَكِنْ خَيْرُنَا أَتْبَعُنَا لِهَذَا الدِّينِ .
ترجمہ
جری بن کلیب سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی معاملے کا حکم دیتے ہوئے دیکھا جبکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس سے منع فرما رہے تھے، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ یقیناً آپ دونوں کے مابین کچھ ناخوشگواری یا بگاڑ کی سی صورت پیدا ہو گئی ہے،
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”ہمارے درمیان سوائے خیر و بھلائی کے اور کچھ نہیں ہے، البتہ ہم میں سے بہترین وہ ہے جو اس دین کی سب سے زیادہ اتباع کرنے والا ہو۔“
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”ہمارے درمیان سوائے خیر و بھلائی کے اور کچھ نہیں ہے، البتہ ہم میں سے بہترین وہ ہے جو اس دین کی سب سے زیادہ اتباع کرنے والا ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا رَزَيْتُ مِنْ مَالِكُمْ قَلِيلَا وَلَا كَثِيرًا إِلَّا هَذِهِ ، وَأَخْرَجَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَارُورَةً مِنْ كُمِّ قَمِيصِهِ فِيهَا طِيبٌ ، فَقَالَ : أَهْدَاهَا إِلَيَّ دِهْقَانٌ .
ترجمہ
ابو عمرو بن علاء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطاب فرمایا اور کہا: ”اے لوگو! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں نے تمہارے مال (بیت المال) میں سے تھوڑی یا زیادہ کسی بھی چیز کی ذرہ برابر خیانت نہیں کی سوائے اس ایک شے کے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص کی آستین سے ایک چھوٹی شیشی نکالی جس میں خوشبو تھی اور فرمایا: ”یہ مجھے ایک دہقان (علاقائی سردار یا زمیندار) نے ہدیہ کے طور پر پیش کی تھی۔“
اسے امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (حدیث: 3947) میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
اسے امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (حدیث: 3947) میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ ، ثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنَيْ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُضْطَجِعُونَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَضَرَبَنَا بِعَسِيبٍ كَانَ بِيَدِهِ رَطْبًا ، فَقَالَ : " تَرْقُدُونَ فِي الْمَسْجِدِ ؟! إِنَّهُ لَا يُرْقَدُ فِي الْمَسْجِدِ " قَالَ : فَانْجَفَلْنَا وَانْجَفَلَ مَعَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعَالَ يَا عَلِيُّ ، إِنَّهُ يَحِلُّ لَكَ فِي الْمَسْجِدِ مَا يَحِلُّ لِي ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكَ لَتَذُودُ عَنْ حَوْضِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ عَنِ الْمَاءِ بِعَصًا لَكَ مِنْ عَوْسَجٍ ، وَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَقَامِكَ مِنْ حَوْضِي .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسجد میں پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے ہمیں کھجور کی ایک تروتازہ شاخ سے (متوجہ کرنے کے لیے) مارا جو آپ ﷺ کے دستِ مبارک میں تھی، پھر فرمایا: ”کیا تم مسجد میں سوتے ہو؟! یقیناً مسجد میں سونا (شایانِ شان) نہیں ہے۔“ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (یہ سن کر) ہم سب تیزی سے وہاں سے بھاگ نکلے اور ہمارے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی لپکے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے علی! ادھر آؤ، بلاشبہ تمہارے لیے مسجد میں وہ سب کچھ حلال ہے جو میرے لیے حلال ہے، اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم قیامت کے دن میرے حوضِ (کوثر) سے (نااہل لوگوں کو) اس طرح دور ہٹاؤ گے جیسے کسی بھٹکے ہوئے اونٹ کو پانی سے پرے دھکیلا جاتا ہے، تمہارے پاس «عَوْسَجٍ» ”کانٹے دار جھاڑی“ کی لکڑی کا ایک عصا ہوگا، اور گویا میں (اس وقت) حوضِ کوثر پر تمہارے مقام و مرتبے اور کھڑے ہونے کی جگہ کو دیکھ رہا ہوں۔“
اس حدیث کی سند میں حرام بن عثمان نامی راوی ہے جسے امام شافعی، امام احمد اور دیگر محدثین نے متروک قرار دیا ہے، لہذا یہ روایت سنداﹰ انتہائی ضعیف ہے۔ اسے احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند میں حرام بن عثمان نامی راوی ہے جسے امام شافعی، امام احمد اور دیگر محدثین نے متروک قرار دیا ہے، لہذا یہ روایت سنداﹰ انتہائی ضعیف ہے۔ اسے احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔