المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ : مُحِبٌّ مُفْرِطٌ ، وَمُبْغِضٌ مُفْتَرِي " .
3940 \ 2 - حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى : هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ : مُحِبٌّ غَالٍ ، وَمُبْغِضٌ قَالٍ " .
3940 \ 3 - وَعَنْ عَبَّادٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْأُصْبُعَيْنِ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوئے: ایک وہ جو محبت میں غلو (حد سے تجاوز) کرنے والا ہے، اور دوسرا وہ دشمن جو بہتان تراشی کرنے والا ہے۔“
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرے معاملے میں دو طرح کے لوگ برباد ہوئے: ایک وہ محبت کرنے والا جو حد سے بڑھنے والا ہے اور دوسرا وہ دشمن جو سخت نفرت و عداوت رکھنے والا ہے۔“
نیز زاذان سے مروی ہے کہ انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے، تاہم انہوں نے اس میں انگلیوں کے اشارے کا تذکرہ نہیں کیا۔