المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَبْدِ اللهِ الصُّهْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : طَلَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَنِي فِي جَدْوَلٍ نَائِمًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُمْ ، مَا أَلْأَمَ النَّاسَ ؛ يُسَمُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ .
قَالَ : فَرَآنِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي وَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَاكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ ، وَاللهِ لَأُرْضِيَنَّكَ ، أَنْتَ أَخِي ، وَأَبُو وَلَدَيَّ ، تُقَاتِلُ عَنْ سُنَّتِي ، وَتُبْرِئُ ذِمَّتِي ، مَنْ مَاتَ فِي عَهْدِي فَهُوَ أَسِيرُ اللهِ تَعَالَى ، وَمَنْ مَاتَ فِي عَهْدِكَ فَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ ، وَمَنْ مَاتَ يُحِبُّكَ بَعْدَ مَوْتِكَ خَتَمَ اللهُ تَعَالَى لَهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ أَوْ غَرَبَتْ ، وَمَنْ مَاتَ يُبْغِضُكَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَحُوسِبَ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تلاش کیا تو مجھے ایک چھوٹی نالی میں سوتا ہوا پایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو، لوگ بھی کتنے کم ظرف ہیں کہ تمہیں ابوتراب (مٹی والا) پکارتے ہیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو ایسا لگا جیسے اس بات سے میرے دل میں کچھ ملال پیدا ہوا ہے، تو آپ ﷺ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ، اللہ کی قسم! میں تمہیں ضرور خوش کر دوں گا، تم میرے بھائی ہو، میرے دو بیٹوں کے والد ہو، تم میری سنت کی خاطر قتال کرو گے اور میرے ذمے موجود فرائض کو پورا کرو گے۔ جو میری زندگی میں فوت ہوا وہ اللہ کا قیدی ہے، اور جو تمہارے عہد میں فوت ہوا ﴿قَضَى نَحْبَهُ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”وہ اپنی نذر پوری کر چکا“، اور جو تمہاری وفات کے بعد تم سے محبت رکھتے ہوئے مرا، اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ امن اور ایمان پر فرمائے گا جب تک سورج طلوع یا غروب ہوتا رہے گا، اور جو تم سے بغض رکھتے ہوئے مرا وہ جاہلیت کی موت مرا اور اس کا ان اعمال کے بارے میں بھی حساب لیا جائے گا جو اس نے اسلام میں رہ کر کیے۔“
اس روایت کی سند میں سوید بن سعید اور زکریا بن عبداللہ الصہبانی جیسے راوی موجود ہیں جو کہ ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، جس کی بنا پر یہ روایت علمی و فنی طور پر سخت ضعیف یا منکر قرار پاتی ہے۔