المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3947
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا رَزَيْتُ مِنْ مَالِكُمْ قَلِيلَا وَلَا كَثِيرًا إِلَّا هَذِهِ ، وَأَخْرَجَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَارُورَةً مِنْ كُمِّ قَمِيصِهِ فِيهَا طِيبٌ ، فَقَالَ : أَهْدَاهَا إِلَيَّ دِهْقَانٌ .ترجمہ
ابو عمرو بن علاء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطاب فرمایا اور کہا: ”اے لوگو! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں نے تمہارے مال (بیت المال) میں سے تھوڑی یا زیادہ کسی بھی چیز کی ذرہ برابر خیانت نہیں کی سوائے اس ایک شے کے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص کی آستین سے ایک چھوٹی شیشی نکالی جس میں خوشبو تھی اور فرمایا: ”یہ مجھے ایک دہقان (علاقائی سردار یا زمیندار) نے ہدیہ کے طور پر پیش کی تھی۔“
اسے امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (حدیث: 3947) میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔