المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَسْجِدَ ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ شَابٌّ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللهِ ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ .
3931 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
3931 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُبْرُمَةَ الْبَاهِلِيُّ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، ثَنَا رَجُلٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ دَاوُدَ ، وَإِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهِ .
3931 \ 4 - وَقَالَ : وَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ بِهِ .یزید الاودی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے، اسی دوران ایک نوجوان ان کی طرف کھڑا ہوا اور عرض گزار ہوا: ”میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”جس کا میں مولیٰ (مددگار و دوست) ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! «اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ”اے اللہ! تو اس سے محبت و دوستی رکھ جو ان سے محبت و دوستی رکھے اور اس سے عداوت و دشمنی رکھ جو ان سے عداوت و دشمنی رکھے۔“؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: ”اے اللہ! ہاں (میں نے یہ سنا ہے)۔“
امام ابویعلیٰ نے کہا کہ ہمیں ابوبکر نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔
امام بزار نے کہا کہ ہمیں علی بن شبرمہ باہلی نے، انہیں احمد بن یحییٰ صوفی نے، انہیں ایک شخص نے، اس نے منصور بن ابی الاسود سے، انہوں نے داؤد اور ادریس سے، ان دونوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کی ہے۔
اور انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی بیاض (کتاب) میں محمد بن مسکین، انہوں نے عبداللہ بن یوسف، انہوں نے عکرمہ بن ابراہیم اور انہوں نے ادریس الاودی کے واسطے سے بھی یہی حدیث مرقوم پائی ہے۔