المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ قَنَانِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَجُلَيْنِ فَتَذَاكَرْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَنَاوَلْنَا مِنْهُ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكُمْ وَلِي ، مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَكُنْتُ أُوتَى مِنْ بَعْدُ ، فَيُقَالُ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعَرِّضُ بِكَ يَقُولُ : اتَّقُوا فِتْنَةَ الْأُخَيْنِسِ ، فَأَقُولُ : هَلْ سَمَّانِي ؟ فَيَقُولُونَ : لَا ، فَأَقُولُ : إِنَّ خُنَّسَ النَّاسِ لَكَثِيرٌ ، مَعَاذَ اللهِ أَنْ أُوذِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ مَا سَمِعْتُ .
3938 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا مَرْوَانُ بِهِ ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ سَعْدٍ ، إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
3938 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، ثَنَا مَرْوَانُ بِهِ .سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں دو آدمیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، پس ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور ان کی شان میں کچھ نازیبا کلمات کہے، اتنے میں رسول اللہ ﷺ اس حال میں تشریف لائے کہ آپ ﷺ سخت غصے میں تھے اور آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے ناراضگی کے آثار نمایاں تھے، تو میں نے عرض کی: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں رسول اللہ ﷺ کے غصے سے“، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں مجھ سے کیا بیر ہے؟ جس نے علی کو تکلیف پہنچائی اس نے یقیناً مجھے تکلیف پہنچائی“، آپ ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد جب کبھی میرے پاس کوئی آتا اور کہتا کہ علی رضی اللہ عنہ آپ پر چوٹ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس چھوٹی چپٹی ناک والے (اخینِس) کے فتنے سے بچو“، تو میں پوچھتا: ”کیا انہوں نے میرا نام لیا ہے؟“ وہ جواب دیتے: ”نہیں۔“ تو میں کہتا: ”یقیناً چپٹی ناک والے لوگ تو بہت سے ہیں، اللہ کی پناہ کہ میں رسول اللہ ﷺ کو وہ کچھ سننے کے بعد (دوبارہ کبھی) تکلیف پہنچاؤں جو میں نے آپ ﷺ کی زبان مبارک سے خود سن لیا ہے“۔
امام ابن ابی عمر نے کہا کہ ہمیں مروان الفزاری نے قنان بن عبداللہ سے، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد (سعد رضی اللہ عنہ) سے یہ حدیث بیان کی۔
امام بزار نے کہا کہ ہمیں احمد بن ابان نے مروان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور کہا کہ ہم اس حدیث کو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے علاوہ کسی اور طریقے سے مروی نہیں جانتے۔
امام ابو یعلیٰ نے کہا کہ ہمیں محمود بن خداش نے مروان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔