المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ : نَزَلَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلَى مَسْرُوقٍ ، فَحَدَّثَ عَنْ صَفِيَّةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - أَنَّهَا قَالَتْ : قُمْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ : لَيْسَ مِنْ أَزْوَاجِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَهَا قَرَابَةٌ وَعَشِيرَةٌ ، فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُوصِي بِكِ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ”آپ کی ازواجِ مطہرات میں سے کوئی ایسی نہیں ہے جس کے قرابت دار اور کنبہ و قبیلہ (سہارے کے لیے) موجود نہ ہوں، تو آپ مجھے (اپنے بعد) کس کے سپرد کرنے کی وصیت فرماتے ہیں؟“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے بارے میں علی (رضی اللہ عنہ) کو وصیت کرتا ہوں۔“
اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم (مدینہ کے ایک بزرگ) ہے جس کی وجہ سے یہ سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، البتہ فضائلِ علی رضی اللہ عنہ کے ضمن میں اسے مختلف کتبِ سیر و تراجم میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔