المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
: وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرَهَا تِسْعَةَ عَشَرَ أَوْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ فَلَمْ يَفْتَحْهَا ، ثُمَّ أَوْغَلَ رَوْحَةً أَوْ غَدْوَةً فَنَزَلَ ثُمَّ هَجَّرَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي فَرَطُكُمْ ، وَأُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ ، وَلَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا مِنِّي أَوْ كَنَفْسِي فَلَيَضْرِبَنَّ أَعْنَاقَ مُقَاتِلِيهِمْ ، وَلَيَسْبِيَنَّ ذَرَارِيَّهُمْ " . قَالَ : فَرَأَى النَّاسُ أَنَّهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَأَخَذَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : " هَذَا .
3922 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، بِهَذَاسیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ فتح کر چکے تو آپ ﷺ طائف کی جانب روانہ ہوئے اور اٹھارہ یا انیس روز تک اس کا محاصرہ جاری رکھا مگر وہ فتح نہ ہوا، پھر آپ ﷺ نے صبح یا شام کے کسی پہر میں کچھ مسافت طے کی اور ایک جگہ قیام فرمایا، پھر تپتی دوپہر میں لوگوں کو جمع کر کے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! میں (حوضِ کوثر پر) تمہارا پیش رو ہوں، اور میں تمہیں اپنی عترت (اہلِ بیت) کے ساتھ حسنِ سلوک اور خیر کی وصیت کرتا ہوں، اور تمہارے ساتھ میرا وعدہ گاہ حوضِ کوثر ہے، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور بالضرور نماز قائم کرتے رہو گے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو گے، ورنہ میں تمہاری طرف ایک ایسا شخص بھیجوں گا جو مجھ سے ہے یا میری اپنی جان کے مانند ہے، وہ ان کے جنگجوؤں کی گردنیں اڑائے گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگ یہ سمجھے کہ شاید وہ شخص سیدنا ابوبکر یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہوں گے، مگر نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے بھی اسے ابوبکر بن ابی شیبہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔