المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ - الشَّكُّ مِنْ حَمَّادٍ - قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا عَلِيُّ ، خُذِ الْبَابَ فَلَا يَدْخُلَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ ، فَإِنَّ عِنْدِي زَوْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ اسْتَأْذَنُوا رَبَّهُمْ أَنْ يَزُورُونِي " فَأَخَذَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْبَابَ ، وَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : يَا عَلِيُّ ، اسْتَأْذِنْ لِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَيْسَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنٌ ، فَرَجَعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَظَنَّ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ سَخْطَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَصْبِرْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ رَجَعَ ، فَقَالَ : اسْتَأْذِنْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَيْسَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنٌ . فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَلِمَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لِأَنَّ زَوْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ عِنْدَهُ ، وَاسْتَأْذَنُوا رَبَّهُمْ أَنْ يَزُورُوهُ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَكَمْ هُمْ يَا عَلِيُّ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَلَكًا ، ثُمَّ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَتْحِ الْبَابِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ زَوْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ اسْتَأْذَنُوا رَبَّهُمْ أَنْ يَزُورُوكَ ، وَأَخْبَرَنِي يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّ عِدَّتَهُمْ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَلَكًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " أَنْتَ أَخْبَرْتَ بِالزَّوْرِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَخْبَرْتَهُ بِعِدَّتِهِمْ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَعَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكَمْ هُمْ يَا عَلِيُّ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَلَكًا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَكَيْفَ عَلِمْتَ ذَلِكَ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ نَغْمَةً فَعَلِمْتُ أَنَّهُمْ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَلَكًا ، فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَلِيُّ ، زَادَكَ اللهُ إِيمَانًا وَعِلْمًا .زید بن اسلم یا محمد بن منکدر رحمہما اللہ (شک راوی سے ہے) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”اے علی! تم دروازے پر پہرہ دو اور میرے پاس کسی کو داخل نہ ہونے دینا، کیونکہ اس وقت میرے پاس فرشتوں کی ایک جماعت بطور مہمان موجود ہے، جنہوں نے اپنے رب سے میری زیارت کی اجازت طلب کی تھی۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دروازہ سنبھال لیا، اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اس وقت (اندر آنے کی) قطعاً اجازت نہیں ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سوچ کر واپس پلٹ گئے کہ شاید یہ پابندی رسول اللہ ﷺ کی کسی ناراضی کی وجہ سے ہے، مگر وہ زیادہ دیر صبر نہ کر سکے اور دوبارہ لوٹ آئے اور کہا: ”میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کرو۔“ انہوں نے پھر وہی جواب دیا: ”رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس وقت کوئی اجازت نہیں ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”آخر کیوں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اس لیے کہ آپ ﷺ کے پاس فرشتوں کی ایک جماعت آئی ہوئی ہے، جنہوں نے اپنے رب سے آپ ﷺ کی زیارت کی اجازت طلب کی تھی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے علی! وہ تعداد میں کتنے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”وہ تین سو ساٹھ فرشتے ہیں۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے دروازہ کھولنے کا حکم دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کی: ”یا رسول اللہ! انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت نے اپنے رب سے آپ کی زیارت کی اجازت مانگی ہے، اور اے اللہ کے رسول! انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ان کی تعداد تین سو ساٹھ ہے۔“ تب نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے انہیں فرشتوں کی آمد کی خبر دی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں، یا رسول اللہ!“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اور کیا تم نے انہیں ان کی گنتی بھی بتائی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”اے علی! بتاؤ وہ کتنے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”تین سو ساٹھ فرشتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں یہ علم کیسے ہوا؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے ان کی تین سو ساٹھ مختلف آوازیں اور نغمات سماعت کیے، جس سے میں جان گیا کہ وہ تین سو ساٹھ فرشتے ہیں۔“ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینے پر اپنا دستِ مبارک مارا اور فرمایا: «زَادَكَ اللهُ إِيمَانًا وَعِلْمًا» ”اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان اور علم میں مزید اضافہ فرمائے۔“
یہ روایت امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 928) میں نقل کی ہے، تاہم اس کی سند میں حماد بن عمرو نصیبی اور اسماعیل بن رافع جیسے راوی موجود ہیں جو کہ ضعیف اور متروک قرار دیے گئے ہیں، جس کے سبب یہ روایت فنی طور پر سخت ضعیف ہے۔