المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ خِيَارَكُمُ الْمُوفُونَ الْمُطَيِّبُونَ ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ الْحَفِيَّ التَّقِيَّ قَالَ : وَمَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَقُّ مَعَ ذَا ، الْحَقُّ مَعَ ذَا .
( 168 ) وَحَدِيثُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ بِنْتِ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - تَقَدَّمَ فِي الْحَضَانَةِ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کے دولت کدہ کے قریب موجود تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں (اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے)۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس بے شک تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو «الْمُوفُونَ الْمُطَيِّبُونَ» ”اپنے وعدوں و عہد و پیمان کو پورا کرنے والے اور پاکیزہ سیرت و اطوار والے ہیں“، یقیناً اللہ تعالیٰ «الْحَفِيَّ التَّقِيَّ» ”انتہائی مہربان (با اخلاق) اور متقی و پرہیزگار“ انسان سے محبت فرماتا ہے“۔ راوی کہتے ہیں کہ اسی دوران سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو آپ ﷺ نے (ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا: ”حق اس کے ساتھ ہے، حق اس کے ساتھ ہے“۔
(168) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث جو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی کے قصے سے متعلق ہے، وہ پرورش و نگہداشت کے بیان میں پہلے گزر چکی ہے۔