المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ ، ثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ النَّاسِ وَتَرَكَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَتَرَكْتَنِي ؟! فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَى تَرَكْتُكَ ؟ إِنَّمَا تَرَكْتُكَ لِنَفْسِي ، أَنْتَ أَخِي وَأَنَا أَخُوكَ . قَالَ : فَإِنْ حَاجَّكَ أَحَدٌ فَقُلْ : إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يَدَّعِيهَا أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا كَذَّابٌ .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب لوگوں کے مابین بھائی چارہ (مواخات) قائم فرمایا تو مجھے چھوڑ دیا، جس پر میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے اپنے صحابہ کے مابین تو رشتہ مواخات قائم فرما دیا ہے لیکن مجھے چھوڑ دیا ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں نے تمہیں نظر انداز کر دیا ہے؟ دراصل میں نے تمہیں خاص اپنی ذات کے لیے منتخب کیا ہے، تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص تم سے اس معاملے میں بحث و تکرار کرے تو اسے کہہ دینا: «إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَأَخُو رَسُولِهِ» ”بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول ﷺ کا بھائی ہوں“، اور تمہارے بعد سوائے کذاب (بہت بڑے جھوٹے) کے کوئی دوسرا اس فضیلت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔“
اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عمر بن عبد اللہ بن یعلیٰ بن مرہ کو ائمہ جرح و تعدیل نے ضعیف اور منکر الحدیث قرار دیا ہے۔