❮
❯
حدیث نمبر: 3937
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ الصَّنْعَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ مِينَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَزَمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَبَّلَهُ وَهُوَ يَقُولُ : بِأَبِيَ الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ ، بِأَبِيَ الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے سینہ مبارک سے چمٹایا اور ان کا بوسہ لیا، اور اس وقت آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے: «بِأَبِيَ الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ، بِأَبِيَ الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ» ”میرے والد آپ پر فدا ہوں اے وہ جو تنہا شہید کیے جائیں گے، میرے والد آپ پر فدا ہوں اے وہ جو تنہا شہید کیے جائیں گے۔“
اس روایت کی سند میں سوید بن سعید اور ابن مینا کی موجودگی کی وجہ سے ائمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے اور اسے فنی طور پر ضعیف قرار دیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3937
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 14783، 14784، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6700، 6667»