المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3926
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، ثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعْتُ مِنْ جِنَازَةٍ قَوْلًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ الدُّنْيَا جَمِيعًا .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس وقت جب میں ایک جنازے سے واپس لوٹ رہا تھا، مجھ سے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی کہ مجھے اس قول کے بدلے میں تمام دنیا کا مل جانا بھی پسند نہیں ہے“۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابو حریز (عبد اللہ بن حسین) نامی راوی کے حافظے پر کلام ہے، تاہم امام ابنِ معین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے اور شعبہ بن الحجاج جیسے عظیم المرتبت محدث نے ان سے روایت لی ہے، اس لیے یہ سند حسن درجے کی ہے۔