المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَرَ الشَّجَرَةَ بِخُمٍّ ، ثُمَّ خَرَجَ آخِذًا بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَبُّكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ، وَأَنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ أَوْلِيَاؤُكُمْ ؟ " .
فَقَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَمَنْ كَانَ اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا : كِتَابَ اللهِ تَعَالَى ، سَبَبُهُ بِيَدِي ، وَسَبَبُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، وَأَهْلَ بَيْتِي .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَحَدِيثُ غَدِيرِ خُمٍّ قَدْ أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، وَعَلِيٍّ ، وَجَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - وَفِي هَذَا زِيَادَةٌ لَيْسَتْ هُنَاكَ ، وَأَصْلُ الْحَدِيثِ أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ غدیرِ خم کے مقام پر ایک درخت کے پاس تشریف فرما ہوئے، پھر آپ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھامے ہوئے برآمد ہوئے اور دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارا پروردگار ہے؟“ سب نے عرض کیا: کیوں نہیں (ہم گواہی دیتے ہیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ اور اس کا رسول تمہاری جانوں سے بھی زیادہ تم پر حق و اختیار رکھتے ہیں، اور یہ کہ اللہ اور اس کا رسول ہی تمہارے اصل سرپرست و مددگار ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں (ہم یہی گواہی دیتے ہیں)۔ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس جس کا اللہ اور اس کا رسول مولا ہے، تو یقیناً یہ (علی) بھی اس کا مولا ہے، اور میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھام لیا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے، (وہ ہے) اللہ تعالیٰ کی کتاب، جس کا ایک سرا (رشتہ) میرے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، اور میرے اہل بیت ہیں۔“
یہ سند صحیح ہے، اور حدیثِ غدیرِ خم کو امام نسائی نے ابوالطفیل کے واسطے سے سیدنا زید بن ارقم، سیدنا علی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے، اور اس روایت میں ایسے زائد کلمات ہیں جو دوسری جگہ موجود نہیں، جبکہ اس حدیث کی اصل امام ترمذی نے بھی روایت کی ہے۔