❮
❯
حدیث نمبر: 3948
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ ، ثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنَيْ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُضْطَجِعُونَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَضَرَبَنَا بِعَسِيبٍ كَانَ بِيَدِهِ رَطْبًا ، فَقَالَ : " تَرْقُدُونَ فِي الْمَسْجِدِ ؟! إِنَّهُ لَا يُرْقَدُ فِي الْمَسْجِدِ " قَالَ : فَانْجَفَلْنَا وَانْجَفَلَ مَعَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعَالَ يَا عَلِيُّ ، إِنَّهُ يَحِلُّ لَكَ فِي الْمَسْجِدِ مَا يَحِلُّ لِي ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكَ لَتَذُودُ عَنْ حَوْضِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ عَنِ الْمَاءِ بِعَصًا لَكَ مِنْ عَوْسَجٍ ، وَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَقَامِكَ مِنْ حَوْضِي .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسجد میں پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے ہمیں کھجور کی ایک تروتازہ شاخ سے (متوجہ کرنے کے لیے) مارا جو آپ ﷺ کے دستِ مبارک میں تھی، پھر فرمایا: ”کیا تم مسجد میں سوتے ہو؟! یقیناً مسجد میں سونا (شایانِ شان) نہیں ہے۔“ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (یہ سن کر) ہم سب تیزی سے وہاں سے بھاگ نکلے اور ہمارے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی لپکے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے علی! ادھر آؤ، بلاشبہ تمہارے لیے مسجد میں وہ سب کچھ حلال ہے جو میرے لیے حلال ہے، اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم قیامت کے دن میرے حوضِ (کوثر) سے (نااہل لوگوں کو) اس طرح دور ہٹاؤ گے جیسے کسی بھٹکے ہوئے اونٹ کو پانی سے پرے دھکیلا جاتا ہے، تمہارے پاس «عَوْسَجٍ» ”کانٹے دار جھاڑی“ کی لکڑی کا ایک عصا ہوگا، اور گویا میں (اس وقت) حوضِ کوثر پر تمہارے مقام و مرتبے اور کھڑے ہونے کی جگہ کو دیکھ رہا ہوں۔“
اس حدیث کی سند میں حرام بن عثمان نامی راوی ہے جسے امام شافعی، امام احمد اور دیگر محدثین نے متروک قرار دیا ہے، لہذا یہ روایت سنداﹰ انتہائی ضعیف ہے۔ اسے احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3948
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 1655»