المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمَّا جِئْنَاهُ ، قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتُمْ صَاحِبَكُمْ ؟ " قَالَ : فَإِمَّا شَكَوْتُهُ وَإِمَّا شَكَاهُ غَيْرِي ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبَابًا ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ .سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک عسکری مہم (سریہ) میں روانہ فرمایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر فرمایا؛ جب ہم (واپسی پر) آپ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم نے اپنے رفیق (امیر) کو کیسا پایا؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر یا تو میں نے ان کی شکایت کی یا میرے علاوہ کسی اور نے ان کا شکوہ کیا، میں (طبعاً) نظریں جھکا کر رکھنے والا آدمی تھا، مگر جب میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کا چہرہِ مبارک (جلالِ غضب سے) سرخ ہو چکا تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس کا میں مولیٰ (دوست و سرپرست) ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (32072)، امام احمد نے المسند (22945) اور امام نسائی نے السنن الکبریٰ (8422) میں روایت کیا ہے۔