کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مَعْمَرِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ [ عَبْدِ ] الْحَارِثِ بْنِ زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ بیان کرتے ہیں : ( سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نام و نسب یہ ہے : ) ” سیدنا عبدالرحمن بن عوف بن عبدعوف بن عبدالحارث بن زہرہ بن کلاب ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14882
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (252)»
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ كَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدَ الْكَعْبَةِ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ الرَّحْمَنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نام زمانہ جاہلیت میں عبدالکعبہ تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14883
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (253)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدَ عَمْرٍو ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ الرَّحْمَنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں میرا نام عبدعمرو تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبدالرحمن رکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن عبدالعزیز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14884
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1992) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (254)»
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ زُهْرَةَ ، يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ ، شَهِدَ بَدْرًا . ¤ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : ( سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نام و نسب یہ ہے : ) ” سیدنا عبدالرحمن بن عوف بن عبدعوف بن عبدحارث بن زہرہ ، ان کی کنیت ابومحمد ہے ، اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ “ اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14885
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (255)»
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ : فِيمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَنِي زُهْرَةَ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ عَوْفٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد میں بنوزہرہ بن کلاب بن مرہ سے تعلق رکھنے والے افراد میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف بن عبدعوف رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اور سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل،
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (256)»
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ كَانَ سَاقِطَ الثَّنِيَّتَيْنِ ، أَهْتَمَ ، أَعْسَرَ ، أَعْرَجَ ، وَكَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَهُتِمَ وَجُرِحَ عِشْرِينَ جِرَاحَةً أَوْ أَكْثَرَ ، أَصَابَهُ بَعْضُهَا فِي رِجْلِهِ فَعَرِجَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے کے دانت گرے ہوئے تھے ، وہ دانت جڑ سے نکل گئے تھے ، وہ دونوں ہاتھوں کو استعمال کر لیتے تھے اور لنگڑے تھے ، انہیں غزوہ بدر کے دن چوٹ آئی تھی اور انہیں بیس سے زیادہ زخم لگے تھے ، ان میں سے زیادہ تر زخم ان کی ٹانگ پر لگے تھے ، جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14887
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (261)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِدَّيْنِ ، فَكُنْتُ مِنْ أَوَّلِ النَّاسِ إِسْلَامًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی سال میں پیدا ہوئے تھے ، میں ابتداء میں اسلام قبول کرنے والے افراد میں سے ایک ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14888
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2584)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ ، لَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا زَحْفًا ، فَأَقْرِضِ اللَّهَ يُطْلِقْ قَدَمَيْكَ " فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَا الَّذِي أُقْرِضُ أَوْ أُخْرِجُ ؟ وَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَلْيُضِفِ الضَّيْفَ ، وَلْيُطْعِمِ الْمِسْكِينَ ، وَلْيُعْطِ السَّائِلَ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَجْزِي عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا هُوَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَلَا يَثْبُتُ فِي دُخُولِهِ زَحْفًا حَدِيثٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عبدالرحمن تم خوشحال لوگوں میں سے ایک ہو ، تم گھسٹ کر چلتے ہوئے جنت میں داخل ہو گے ، تو تم اللہ تعالیٰ کو قرض دو تاکہ وہ تمہارے قدموں کو آزاد کر دے ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں کتنا قرض دوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کتنا نکالوں ؟ پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا اور فرمایا : عبدالرحمن سے کہو ! کہ وہ مہمان کی مہمان نوازی کرے ، بھوکے کو کھانا کھلائے اور مانگنے والے کو دے ، تو یہ اُن بہت سی چیزوں کا بدلہ بن جائے گا جو اس میں پائی جاتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یہ حصہ ثابت شدہ نہیں ہے کہ وہ گھسٹ کر جنت میں داخل ہوں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14889
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2588)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أَغْنِيَاءِ أُمَّتِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَنْ يَدْخُلَهَا إِلَا حَبْوًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے خوشحال لوگوں میں سے جنت میں پہلے داخل ہونے والا فرد عبدالرحمن بن عوف ہو گا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ جنت میں صرف گھسٹ کر داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14890
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2587)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا هِيَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا الْمَسَاكِينُ ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمْ حَبْوًا ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظْتُ قُلْتُ : إِبِلِي الَّتِي أَنْتَظِرُهَا بِالشَّامِ وَأَحْمَالُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أَدْخُلَهَا مَعَهُمْ مَاشِيًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں جنت کو دیکھا کہ اس میں صرف غریب لوگ داخل ہو رہے تھے اور میں ان کے ساتھ گھسٹ کر داخل ہوا جب میں بیدار ہوا تو میں نے سوچا میرے وہ اونٹ جو شام میں ہیں جن کا میں انتظار کر رہا ہوں وہ اونٹ اور ان کا ساز و سامان اللہ کی راہ میں وقف ہوتا ہے ، تاکہ میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ چل کر جنت میں داخل ہو جاؤں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2585)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنْ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ، فَكَانَتْ سَبْعَ مِائَةِ بَعِيرٍ فَارْتَجَّتِ الْمَدِينَةُ مِنْ الصَّوْتِ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ - عَبْوًا " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ : إِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا ، فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَقَدْ شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ وَشَهِدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجَنَّةِ وَصَلَّى خَلْفَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں موجود تھیں اسی دوران انہوں نے مدینہ منورہ میں آواز سنی تو دریافت کیا یہ کس چیز کی آواز ہے ؟ لوگوں نے بتایا : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا قافلہ شام سے آیا ہے ، جس میں ہر قسم کا ساز و سامان موجود ہے وہ سات سو اونٹ تھے ۔ ان کی آمد کی وجہ سے مدینہ منورہ میں شور سا گونجا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا کہ وہ جنت میں گھسٹ کر داخل ہو گا ۔ “ اس بات کی اطلاع سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے کہا: اگر میں چاہوں تو میں کھڑا ہو کر بھی جنت میں داخل سکتا ہوں ، تو انہوں نے ان اونٹوں کی رسیاں اور ان کا ساز و سامان اللہ کی راہ میں وقف کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر اور غزوہ حنین میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے جنت کی گواہی دی ہے اور ان کے پیچھے نماز بھی ادا کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (264) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (115/6)»
وَعَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهَا : " مَنْ يَخْطُبُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ ؟ " قَالَتْ : فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ : " أَنْكِحُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ ، وَمِنْ خِيَارِهِمْ مَنْ كَانَ مِثْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیده بسره بنت صفوان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا ام کلثوم بنت عقبہ کو کس نے شادی کا پیغام بھیجا ہے ، تو اس خاتون نے بتایا فلاں صاحب نے اور فلاں صاحب نے اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبدالرحمن بن عوف کے ساتھ اس کی شادی کروا دو ! کیونکہ وہ بہترین مسلمانوں میں سے ایک ہے ، اور ان ( مسلمانوں ) کے بہترین لوگوں میں وہ شخص ہو گا جو اس کی مانند ہو ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14893
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (486)»
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتُمْ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ وَخِيَارُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى : يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالثَّانِيَةُ : ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ عبدالرحمن بن عوف پر کیوں توجہ نہیں دیتے ؟ کیونکہ وہ مسلمانوں کے سردار اور ان کے بہتر لوگوں میں سے ایک ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے پہلی روایت کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے اور ایک راوی سلیمان بن سالم ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں جبکہ دوسری روایت ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14894
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ كَرْمًا مِنْ عُثْمَانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ ، فَأَمَرَ عُثْمَانُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَأَعْطَى الثَّمَنَ ، فَقَسَّمَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَيْنَ بَنِي زُهْرَةَ وَبَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَزْوَاجِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قَالَ الْمِسْوَرُ : فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ : مَا هَذَا ؟ قُلْتُ : بَعَثَ بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ ، سَقَى اللَّهُ ابْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو چالیس ہزار دینار کے عوض میں باغ فروخت کیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابوسرح رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ انہیں قیمت ادا کر دیں ، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے وہ قیمت بنو زہرہ اور غریب مسلمانوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے درمیان تقسیم کر دی ۔ سیدنا مسور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا انہوں نے دریافت کیا : یہ رقم کہاں سے آئی ہے ؟ میں نے بتایا یہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بھیجی ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” میرے بعد تمہارا خیال صرف صبر کرنے والے لوگ رکھیں گے ۔ “ ( پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ ابن عوف کو جنت ( کی نہر ) سلسبیل سے پانی پلائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خِيَارُكُمْ خَيْرُكُمْ لِنِسَائِي مِنْ بَعْدِي . ¤ قَالَ : فَأَوْصَى لَهُنَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِكَذَا ، فَبِيعَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں بہتر لوگ وہ ہوں گے جو میرے بعد میری بیویوں کے لئے زیادہ بہتر ہوں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کے لئے فلاں ( جگہ یا چیز ) کی تلقین کی تھی ، جب اسے فروخت کیا گیا تو وہ چالیس ہزار کے عوض میں فروخت ہوئی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2589)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَعْطِفَنَّ عَلَيْكُمْ إِلَّا الصَّابِرُونَ ، الصَّادِقُونَ " . ¤ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَبِعْتُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ شَيْئًا - قَدْ سَمَّاهُ - بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا ، فَقَسَّمَهُ بَيْنَهُنَّ - يَعْنِي : بَيْنَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَحِمَهُنَّ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم صرف صبر کرنے والے اور سچے لوگ ہی تم ( یعنی ازواج مطہرات کے ساتھ ) اچھا سلوک کریں گے ۔ “ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کو ایک چیز فروخت کی ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے اس چیز کا نام بھی بیان تھا وہ چالیس ہزار کے عوض میں فروخت کی تھی اور پھر انہوں نے وہ رقم ان خواتین یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے درمیان تقسیم کر دی ۔
یہ روایت امام بزار نے عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (14897)»
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ : " إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ ، اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میرے بعد جو شخص تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے گا ، وہ سچا اور نیک ہو گا ، اے اللہ ! عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل میں سے پانی پلانا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغر (299/6)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : شَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا خَالِدُ لِمَ تُؤْذِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، لَوْأَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ ؟ " قَالَ : يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : " لَا تُؤْذُوا خَالِدًا فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خالد ! تم نے کیوں اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اذیت پہنچائی ہے ؟ کہ اگر تم اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرو ، تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ مجھ پر تنقید کر رہے تھے ، تو میں نے انہیں جواب دے دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ خالد کو اذیت نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لہرایا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14899
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2592)»
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ : تَصَدَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِشَطْرِ مَالِهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفِ دِينَارٍ ، تَمَّ حَمَلَ عَلَى خَمْسِ مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ حَمَلَ عَلَى أَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةِ رَاحِلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَانَ عَامَّةُ مَالِهِ فِي التِّجَارَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اپنا نصف مال جو چار ہزار درہم تھا وہ صدقہ کر دیا تھا پھر انہوں نے چالیس ہزار صدقہ کیے پھر انہوں نے چالیس ہزار دینار صدقہ کیے پھر انہوں نے اللہ کی راہ میں پانچ سو گھوڑے دیے پھر انہوں نے اللہ کی راہ میں پندرہ سو اونٹنیاں سواری کے لئے دیں ، ان کا زیادہ تر مال تجارت کے نتیجے میں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14900
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (265)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَهَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ ، فَأَدْرَكَهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ ، فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ رَكْعَةً ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : " أَصَبْتُمْ أَوْ أَحْسَنْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَلَفْظُهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْتَهَى إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ مَكَانَكَ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ¤ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے ، لوگوں کو نماز کا وقت ہو گیا تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ( اور نماز پڑھانا شروع کی ) اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، تو آپ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے لوگوں کے ساتھ ایک رکعت ادا کی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک کیا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم لوگوں نے اچھا کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ان کے الفاظ یہ ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو وہ نماز پڑھا رہے تھے ۔ انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پر رہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14901
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2583) اخرجه أبو يعلى فى المسند (853) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1665)»
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصَّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا قُبِضَ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک اس کی امت سے تعلق رکھنے والے کسی فرد نے اس کی امامت نہیں کی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14902
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2591)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُمَرَ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا ، فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - إِلَى آلِ عُمَرَ فَاشْتَرَى نَصِيبَهُ مِنْهُمْ ، فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانٍ فَقَالَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْطَعُهُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا ، وَإِنِّي اشْتَرَيْتُ نَصِيبَ آلِ عُمَرَ ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَائِزُ الشَّهَادَةِ لَهُ وَعَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں جگہ پر زمین عطا کی ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ آل عمر کے پاس گئے اور ان سے ان کا حصہ خرید لیا پھر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن عوف کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور عمر بن خطاب کو فلاں فلاں جگہ دی ہے ، تو میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عبدالرحمن کی دی ہوئی گواہی جائز ہے خواہ وہ کسی کے حق میں ہو یا کسی کے خلاف ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14903
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1670)»
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَوْمَ مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَقُولُ : أَذَهَبَ ابْنُ عَوْفٍ ، فَقَدْ أَدْرَكْتَ صَفْوَهَا ، وَاسْتَقْتَ رِفْقَهَا ؟ ! ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : جس دن سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اے ابن عوف ! آپ ایسی حالت میں تشریف لے جائیں ، کہ آپ نے اس ( دنیا ) کی صاف چیز کو پا لیا اور گدلی چیز سے بچ گئے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14904
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (263/1)»
وَفِي رِوَايَةٍ : أَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَدْ ذَهَبْتَ بِتَطْنِيتِكَ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْهَا بِشَيْءٍ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے آپ اپنے دین کو بچا کر لے گئے ، اور آپ نے اس ( دین ) میں کوئی کمی نہیں کی ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14905
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (263/2)»
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : وُلِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بَعْدَ الْفِيلِ بِعِشْرِينَ سَنَةً ، وَمَاتَ سَنَةَ إِحْدَى أَوْ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ ، وَسِنُّهُ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ عام الفیل کے بیس سال بعد پیدا ہوئے تھے اور ان کا انتقال اکتیس یا بتیس ہجری میں پچھتر سال کی عمر میں ہوا ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14906
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (262)»
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : هُوَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أُهَيْبِ بْنِ ضُبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ ، لَمْ يُعَقِّبْ . ¤ وَأُمُّ أَبِي عُبَيْدَةَ : أُمُّ غَنْمٍ بِنْتِ جَابِرِ بْنِ عُدَيِّ بْنِ الْعَدَّاءِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عُمَيْرَةَ بْنِ وَدِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَى عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ بَعْضَ ذَلِكَ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں ( سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا نام و نسب یہ ہے : ) یہ سیدنا عامر بن عبداللہ بن جراح بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہر ہیں ان کی اولاد نہیں ہوئی ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام اُم غنم بنت جابر بن عدی بن عداء بن عامر بن عمیرہ بن ودیعہ بن حارث بن فہر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے ابوبکر بن ابوشیبہ کے حوالے سے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14907
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ رواۃ
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2760) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (358)»