حدیث نمبر: 14874
عَنْ شَبَّابٍ الْعُصْفُرِيِّ قَالَ : سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رَزَاحِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ ، يُكْنَى : أَبَا الْأَعْوَرِ ، وَأُمُّهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ نَعْجَةَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ مِنْ خُزَاعَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
شباب عصفری بیان کرتے ہیں ( سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا نسب یہ ہے : ) ” سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب ، سیدنا سعید رضی اللہ عنہ کی کنیت ابواعور تھی ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت نعجہ بن امیہ بن خویلد تھا اور ان کا تعلق خزاعہ قبیلے سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14875
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ آدَمَ ، طُوَالًا ، أَشْقَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرَوَى عَنِ الْوَاقِدِيِّ مِثْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن علی بیان کرتے ہیں : سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ گندمی رنگت کے مالک طویل القامت شخص تھے اور سرخی مائل تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے واقدی کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے واقدی کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14876
وَعَنِ عُرْوَةَ قَالَ : سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بَعْدَمَا رَجِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَدْرٍ ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ ، قَالَ : وَأَجْرِي - يَا رَسُولَ اللَّهِ - زَعَمُوا ؟ قَالَ : " وَأَجْرُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَرُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِثْلُهُ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدر سے واپسی پر شام سے تشریف لائے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ مقرر کیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا اجر ؟ لوگوں کا اس بارے میں بات کرنا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ انہوں نے زہری کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ انہوں نے زہری کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14877
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَشَرَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِي الْجَنَّةِ : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَسَعِيدٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَعَبْدُ الرَحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَامِدِ بْنِ يَحْيَى الْبَلْخِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي مَنَاقِبِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریش سے تعلق رکھنے والے دس افراد جنت میں جائیں گے ، ابوبکر اور عمر جنت میں جائیں گے ، عثمان جنت میں ہو گا ، علی جنت میں ہو گا ، طلحہ جنت میں ہو گا ، زبیر جنت میں ہو گا ، سعد جنت میں ہو گا ، سعید جنت میں ہو گا ، عبدالرحمن بن عوف جنت میں ہو گا ، ابوعبیدہ بن جراح جنت میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنی تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف حامد بن یحیی بلخی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے مختلف طرق ہیں جو صحابہ کرام کی ایک جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنی تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف حامد بن یحیی بلخی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے مختلف طرق ہیں جو صحابہ کرام کی ایک جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں ہیں ۔
حدیث نمبر: 14878
وَعَنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ : بَعَثَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ لِيُبَلِّغَ لِابْنِهِ يَزِيدَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ : مَا يُجِيبُكَ حَتَّى يَجِيئَنِي سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَيُبَايِعَ ، فَإِنَّهُ أَنْبَلُ أَهْلِ الْبَلَدِ فَإِذَا بَايَعَ بَايَعَ النَّاسُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلِكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان بن حکم کو مدینہ منورہ پیغام بھیجا تاکہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے یزید کے لئے پیغام پہنچائے ، تو اہل شام سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: وہ آپ کی بات اس وقت تک نہیں مانے گا جب تک سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ میرے پاس آ کر بیعت نہیں کر لیتے کیونکہ وہ شہر کے سب سے زیادہ سمجھ دار شخص ہیں ، جب وہ بیعت کر لیں گے ، تو باقی لوگ بھی بیعت کر لیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14879
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : ¤ تُوُفِّيَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ ، وَسِنُّهُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ ، وَدُفِنَ بِالْمَدِينَةِ ، وَمَاتَ بِالْعَقِيقِ ، وَنَزَلَ فِي قَبْرِهِ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَابْنِ عُمَرَ ، وَيُكْنَى أَبَا الْأَعْوَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال اکیاون ہجری میں ستر برس کے لگ بھگ عمر میں ہوا تھا ، انہیں مدینہ منورہ دفن کیا گیا ان کا انتقال عقیق کے مقام پر ہوا تھا ۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کی قبر میں اترے تھے ۔ ان کی کنیت ابواعور تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس روایت کا ایک حصہ محمد بن عبداللہ بن نمیر کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس روایت کا ایک حصہ محمد بن عبداللہ بن نمیر کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14880
وَعَنْ عَائِشَةَ بِنْتَ سَعْدٍ قَالَتْ : غَسَّلَ سَعْدٌ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ بِالْعَقِيقِ ، ثُمَّ حَمَلُوهُ فَجَاءُوا بِهِ ، فَجَاءَ سَعْدٌ يَمْشِي حَتَّى إِذَا حَاذَى بِدَارِهِ ، دَخَلَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَغْتَسِلْ مِنْ غَسْلِ سَعِيدٍ إِنَّمَا اغْتَسَلْتُ مِنَ الْحَرِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو عقیق کے مقام پر غسل دیا تھا پھر ان لوگوں نے ان کی میت کو اٹھایا اور اسے لے کے آئے ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پیدل چلتے ہوئے آئے تھے ، یہاں تک کہ وہ ان کے گھر کے مدمقابل آئے پھر وہ اندر گئے پھر انہوں نے غسل کیا پھر وہ باہر نکل آئے اور بولے : میں نے اس وجہ سے غسل نہیں کیا کہ میں نے سیدنا سعید رضی اللہ عنہ کو غسل دیا تھا بلکہ میں نے گرمی کی وجہ سے غسل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14881
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ غَسَّلَ سَعِيدًا بِالسُّجْرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
زید بن سعید بن عبدالرحمن بن سعید بن زید بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید رضی اللہ عنہ کو گرم پانی کے ذریعے غسل دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔