حدیث نمبر: 14899
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : شَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا خَالِدُ لِمَ تُؤْذِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، لَوْأَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ ؟ " قَالَ : يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : " لَا تُؤْذُوا خَالِدًا فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خالد ! تم نے کیوں اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اذیت پہنچائی ہے ؟ کہ اگر تم اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرو ، تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ مجھ پر تنقید کر رہے تھے ، تو میں نے انہیں جواب دے دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ خالد کو اذیت نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لہرایا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14899
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2592)»