کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 14908
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : شَهِدَ بَدْرًا مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ : أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں بنو حارث بن فہر میں سے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں میں سے ایک سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14909
وَعَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ قَالَ : جَعَلَ أَبُو أَبِي عُبَيْدَةَ يَتَصَدَّى لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَجَعَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَحِيدُ عَنْهُ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ قَصَدَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ فَقَتَلَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ : ( لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شوذب بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے والد ان کے سامنے آتے رہے لیکن سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان سے پہلو تہی کرتے رہے جب ان کے والد ان کے سامنے زیادہ آنے لگے تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی قوم کو نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہو ، خواہ ( مخالفت کرنے والے ) ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، یہ ( مؤمنین ) وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نقش کر دیا ہے ، اور اپنی طرف کی روح کے ذریعے ان کی تائید کی ہے ، وہ ( اللہ تعالیٰ ) ان ( مؤمن ) لوگوں کو جنتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی ، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ لوگ اس سے راضی ، یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور خبردار ! بیشک اللہ کے گروہ ( کے افراد ) ہی کامیابی پانے والے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14910
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِأَبِي عُبَيْدَةَ : ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَقَرَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَؤُمَّنَا فَأَمَّنَا حَتَّى مَاتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا عُبَيْدَةَ وَلَا عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
ابوالبختری بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کر لوں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم اس امت کے امین ہو ۔ “ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسے شخص سے آگے نہیں ہو سکتا جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کے لئے مقرر کیا ہو کہ وہ ہماری امامت کرے اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال تک ہماری امامت کرتا رہا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابوبختری نامی راوی نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابوبختری نامی راوی نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 14911
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ قَالَ : وَأَرَادَا أَنْ يُلَاعِنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لَا تُلَاعِنَنَّ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّاهُ لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا . ¤ قَالَ : فَأَتَيَاهُ فَقَالَا : لَا نُلَاعِنُكَ ، وَلَكِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَ فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا حَقَّ أَمِينٍ ، حَقَّ أَمِينٍ " : قَالَ : فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ . فَلَمَّا قَامَ قَالَ : " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَةَ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ غَيْرَ خَلَفِ بْنِ الْوَلِيدِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجران سے تعلق رکھنے والے دو افراد عاقب اور سید آئے ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مباہلہ کریں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: تم مباہلہ ہرگز نہ کرنا ، اللہ کی قسم ! اگر یہ نبی ہوئے اور ہم نے ان کے ساتھ مباہلہ کیا ، تو پھر ہم بھی کامیاب نہیں ہوں گے ، اور نہ ہی ہماری اولاد کبھی کامیاب ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان دونوں نے کہا: ہم دونوں آپ کے ساتھ مباہلہ نہیں کریں گے بلکہ ہم آپ کو وہ ادائیگی کر دیں گے جو آپ مانگیں گے آپ ہمارے ساتھ کسی امین شخص کو بھیج دیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا جو واقعی امین ہو گا ، واقعی امین ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پوری طرح متوجہ ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوعبیدہ بن جراح تم اٹھ جاؤ ، جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اس امت کا امین ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام بن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اسی طرح امام أحمد کے رجال ہیں صرف خلف بن ولید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اسی طرح امام أحمد کے رجال ہیں صرف خلف بن ولید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14912
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، وَغَيْرِهِمَا ، قَالُوا : لَمَّا بَلَغَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَرْغَ حُدِّثَ أَنَّ بِالشَّامِ وَبَاءً شَدِيدًا . ¤ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ شِدَّةَ الْوَبَاءِ بِالشَّامِ ، فَقُلْتُ : إِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَأَبُو عُبَيْدَةَ حَيٌّ اسْتَخْلَفْتُهُ ، فَإِنْ سَأَلَنِي اللَّهُ : لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينٌ وَأَمِينِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " فَأَنْكَرَ الْقَوْمُ ذَلِكَ ، وَقَالُوا : مَا بَالُ عُلْيَا قُرَيْشٍ ؟ يَعْنِي : بَنِيِ فِهْرٍ . ¤ ثُمَّ قَالَ : فَإِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَقَدْ تُوُفِّيَ أَبُو عُبَيْدَةَ اسْتَخْلَفْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، فَإِنْ سَأَلَنِي رَبِّي لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ ؟ قُلْتُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : إِنَّهُ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ الْعُلَمَاءِ نَبْذَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، رَاشِدٌ وَشُرَيْحٌ لَمْ يُدْرِكَا عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
شریح بن عبید اور راشد بن سعد اور دیگر لوگ یہ بیان کرتے ہیں : جب ” سرغ “ کے مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ شام میں شدید وباء پھیل چکی ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا کہ مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ شام میں شدید وباء پھیل چکی ہے میں نے یہ سوچا تھا کہ اگر میری موت آ گئی اور اس وقت ابوعبیدہ زندہ ہوئے تو میں انہیں اپنا جانشین مقرر کر دوں گا ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھ سے پوچھا: تم نے اسے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیوں خلیفہ مقرر کیا ؟ تو میں جواب دوں گا : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے ، اور میرا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔ “ اس پر لوگوں نے یہ اعتراض کیا اور یہ کہا: قریش کے دور کے خاندان کا کیا معاملہ ہے ؟ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد بنو فہر ہونا تھا ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ اگر میری موت آ گئی اور اس وقت ابوعبیدہ کا انتقال ہو گیا ، تو میں معاذ بن جبل کو اپنا نائب مقرر کر دوں گا ، اگر میرے پروردگار نے مجھ سے پوچھا: کہ تم نے اسے کیوں خلیفہ بنایا ہے ، تو میں یہ کہوں گا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اسے قیامت کے دن علماء کے آگے ” نبذہ “ ( یعنی گوشہ یا کنارہ ) کے طور پر ( یعنی الگ نمایاں حیثیت کے ساتھ ) اُٹھایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور
یہ روایت مرسل ہے راشد اور شریح ان دونوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور
یہ روایت مرسل ہے راشد اور شریح ان دونوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 14913
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14914
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصَّدِيقِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا ، وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14915
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14916
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي يَدِهِ مَخْصَرَةٌ أَوْ قَضِيبٌ أَوْ عُودٌ فَأَوْمَى بِيَدِهِ إِلَى خَاصِرَةِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ لَخَاصِرَةٌ أَوْ خُوَيْصِرَةٌ مُؤْمِنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ( راوی نے چھڑی کے لئے مختلف لفظ استعمال کیے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ” یہ ایک مومن پہلو ہے ۔ “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14917
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : مَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ فِي طَاعُونِ عَمْوَاسَ سَنَةَ ثَمَانِي عَشْرَةَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً ، وَشَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَيُقَالُ : صَلَّى عَلَيْهِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلِّمْ تَسْلِيمًا . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ” عمواس “ کے طاعون میں سن اٹھارہ ہجری میں اٹھاون سال کی عمر میں ہوا تھا انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے اس وقت ان کی عمر اکتالیس سال تھی ایک روایت کے مطابق سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔