حدیث نمبر: 14889
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ ، لَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا زَحْفًا ، فَأَقْرِضِ اللَّهَ يُطْلِقْ قَدَمَيْكَ " فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَا الَّذِي أُقْرِضُ أَوْ أُخْرِجُ ؟ وَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَلْيُضِفِ الضَّيْفَ ، وَلْيُطْعِمِ الْمِسْكِينَ ، وَلْيُعْطِ السَّائِلَ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَجْزِي عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا هُوَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَلَا يَثْبُتُ فِي دُخُولِهِ زَحْفًا حَدِيثٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عبدالرحمن تم خوشحال لوگوں میں سے ایک ہو ، تم گھسٹ کر چلتے ہوئے جنت میں داخل ہو گے ، تو تم اللہ تعالیٰ کو قرض دو تاکہ وہ تمہارے قدموں کو آزاد کر دے ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں کتنا قرض دوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کتنا نکالوں ؟ پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا اور فرمایا : عبدالرحمن سے کہو ! کہ وہ مہمان کی مہمان نوازی کرے ، بھوکے کو کھانا کھلائے اور مانگنے والے کو دے ، تو یہ اُن بہت سی چیزوں کا بدلہ بن جائے گا جو اس میں پائی جاتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یہ حصہ ثابت شدہ نہیں ہے کہ وہ گھسٹ کر جنت میں داخل ہوں گے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14889
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2588)»